انڈیا کے زیرِانتظام کشمیر میں لاک ڈاؤن: سکیورٹی اہلکاروں کی گاڑی پر فائرنگ سے پولیس اہلکار کا بھائی ہلاک

،تصویر کا ذریعہFacebook
- مصنف, ریاض مسرور
- عہدہ, بی بی سی اردو سروس، سری نگر
انڈیا کے زیر انتظام کشمیر کے ضلع بڈگام میں بدھ کے روز انڈیا کے نیم فوجی دستے سی آر پی ایف کے اہلکاروں نے لاک ڈاوٴن کے دوران گاڑی میں سفر کرنے والے ایک نوجوان کو گولی مار کر ہلاک کر دیا ہے۔
پولیس کے سینئر افسر ناگپورے امود کے مطابق یہ واقعہ سرینگر کے شمال مغربی علاقے ناربل میں اُس وقت پیش آیا جب مکہامہ بیروہ کے رہائشی 30 سالہ معراج الدین اپنی گاڑی میں سوار دو چیک پوائنٹس سے بھاگ گئے، جس پر سی آر پی ایف کے اہلکاروں نے فائرنگ کر دی۔
معراج کو شدید زخمی حالت میں سرینگر کے شری مہاراجہ ہری سنگھ ہسپتال منتقل کیا گیا، جہاں میڈیکل سپریٹنڈنٹ ڈاکٹر نذیر چودھری نے اُنھیں مردہ قرار دیا۔
اس واقعے کے بعد بیروہ اور ملحقہ علاقوں میں مظاہرے ہوئے اور پولیس نے مظاہرین کو روکنے کے لیے پابندیوں کو مزید سخت کر دیا۔
واضح رہے کہ گزشتہ تین ہفتوں کے دوران انڈین سکیورٹی فورسز کی فائرنگ کا یہ تیسرا واقعہ ہے، جس میں عام شہری ہلاک ہوا ہے۔
یہ بھی پڑھیے
End of سب سے زیادہ پڑھی جانے والی
اسی ماہ کے اوائل میں شمالی قصبے ہندوارہ میں عسکریت پسندوں نے نیم فوجی دستے کی گاڑی پر حملہ کر کے تین اہلکاروں کو ہلاک کر دیا، جس کے ردعمل میں ایک ہجوم پر فائرنگ کی اور ایک نوجوان مارا گیا۔
بعد میں سی آر پی ایف نے بتایا کہ ہجوم کے پیچھے عسکریت پسندوں نے پناہ لے لی تھی اور نوجوان فائرنگ کے تبادلے میں مارا گیا۔

،تصویر کا ذریعہGetty Images
حالیہ دنوں میں جنوبی کشمیر کے ضلع پلوامہ میں ایک جھڑپ کے دوران معروف مسلح کمانڈر ریاض نائیکو اور اُن کے ساتھی کی ہلاکت کے بعد مظاہرے ہوئے اور مظاہرین پر فائرنگ سے ایک نوجوان ہلاک اور کئی زخمی ہو گئے۔
عام شہریوں کی فورسز کاروائیوں میں ہلاکت کے خلاف کشمیر میں گزشتہ دس سال کے دوران کئی مرتبہ شدید عوامی احتجاجی تحریکیں چلی ہیں۔ چند سال قبل حکومت نے عام شہریوں کی ہلاکت کے واقعات کو روکنے کے لیے کئی اقدامات کا اعلان بھی کیا تھا۔
پولیس اور فوج کے کئی افسران نے ماضی میں اعتراف کیا ہے کہ عسکریت پسندوں کے خلاف کاروائیوں کے دوران عام شہریوں کی ہلاکت سے عوام اور سکیورٹی فورسز کے درمیان خلیج مزید بڑھ جاتی ہے۔
تازہ ہلاکت کے خلاف وادی میں شدید تشویش پائی جاتی ہے۔ سابق وزیراعلیٰ عمر عبد اللہ نے اس واقعے کی تفتیش کا مطالبہ کیا ہے جبکہ سوشل میڈیا پر شدید غم و غصہ کا اظہار کیا جا رہا ہے۔
معروف صحافی اور تجزیہ نگار گوہر گیلانی نے ٹوئٹر پر ردعمل ظاہر کرتے ہوئے لکھا: ’معراج الدین کو بھی معصوم نوجوانوں کی اُسی فہرست میں جمع کر دیجیے جنھیں کشمیری ہونے پر گولی مارکر ہلاک کیا گیا۔ اب علاقے میں فون اور انٹرنیٹ رابطے معطل کردیے گئے تاکہ کوئی اس قتل کے بارے میں بول نہ سکے۔‘

،تصویر کا ذریعہ@GowharGeelani
واضح رہے کہ ہلاک ہونے والے معراج الدین کے بھائی کشمیر پولیس کے اہلکار ہیں۔
چند روز قبل سی آر پی ایف اور پولیس کی ایک مشترکہ میٹنگ کے دوران مقامی پولیس کے انسپکٹر جنرل کشمیر وجے کمار نے کہا تھا کہ سی آر پی ایف محض نمائشی فورس ہے، عسکریت پسندوں کے خلاف خفیہ اطلاعات پولیس حاصل کرتی ہے اور فوج کارروائی کرتی ہے۔
اس بیان پر کافی تنازعہ پیدا ہوا تھا جس کے بعد پولیس کے سربراہ دلباغ سنگھ نے سی آر پی ایف کی تعریف کی تھی۔
کشمیر میں کورونا وائرس کے پیش نظر سات ہفتوں سے جاری لاک ڈاوٴن کے دوران فوجی کاروائیوں میں شدت آئی ہے۔ پولیس حکام کے مطابق دو درجن بڑے آپریشنز کے دوران تین درجن مسلح عسکریت پسندوں کو ہلاک کیا گیا۔
گزشتہ ہفتے بڈگام کے ہی نصراللہ پورہ گاوٴں سے ایک ویڈیو سوشل میڈیا پر وائرل ہوئی جس میں مقامی لوگوں نے گھروں اور دکانوں کی توڑ پھوڑ کے مناظر عکس بند کیے تھے۔ مقامی لوگوں کا الزام ہے کہ سی آر پی ایف نے تلاشی مہم کے بہانے گھروں میں گُھس کر لوگوں کو ہراساں کیا اور املاک کی توڑ پھوڑ کی۔











