متحدہ عرب امارات کی شہزادی ہند القاسمی کی ٹویٹ پر انڈین برہم

،تصویر کا ذریعہJohn Phillips
سوشل میڈیا پر متحرک اور مختلف موضوعات پر دو ٹوک بات کرنے والی اماراتی شہزادی ہند القاسمی ایک بار پھر اپنی ٹویٹس کی وجہ سے خبروں میں ہیں۔
کچھ عرصہ پہلے جب متحدہ عرب امارات میں مقیم ایک انڈین شہری سوربھ اپادھیائے نے نفرت پر مبنی ٹویٹس کیں تو شہزادی نے اس کا نوٹس لیا اور سوربھ کے خلاف کارروائی کی گئی۔ جس کے بعد انڈیا میں مسلم مخالف خبروں کے نتیجے میں خلیجی ملکوں نے سوشل میڈیا پر سرگرم حکمراں بی جے پی اور ہندوتوا حامی عناصر کے پیغامات پر توجہ دینی شروع کی۔
شہزادی ہند القاسمی تب ہی سے ان معاملات میں کافی سرگرم ہیں اور انہوں نے ایک بار پھر انڈیا میں مذہبی منافرت کے بارے میں ٹویٹ کی جس کے نتیجے میں انڈیا اور پاکستان میں یہ ٹویٹ زیر بحث ہے۔
اس تحریر میں ایسا مواد ہے جو X کی جانب سے دیا گیا ہے۔ کسی بھی چیز کے لوڈ ہونے سے قبل ہم آپ سے اجازت چاہتے ہیں کیونکہ یہ ممکن ہے کہ وہ کوئی مخصوص کوکیز یا ٹیکنالوجیز کا استعمال کر رہے ہوں۔ آپ اسے تسلیم کرنے سے پہلے X ککی پالیسی اور پرائیویسی پالیسی پڑھنا چاہیں گے۔ اس مواد کو دیکھنے کے لیے ’تسلیم کریں، جاری رکھیں‘ پر کلک کریں۔
X پوسٹ کا اختتام, 1
ہند القاسمی نے بی جے پی اور آر ایس ایس کے ایک رہنما راجیشور سنگھ کے بیان کے بارے میں لگی خبر کا سکرین شاٹ پوسٹ کیا جس کے مطابق یہ خبر 14 دسمبر 2014 کو شائع ہوئی تھی۔ اس میں راجیشور سنگھ کا یہ بیان اس شہ سرخی کے ساتھ چھاپا گیا کہ ’مسلمانوں اور مسیحی برادری کو 31 دسمبر 2021 تک انڈیا سے ختم کر دیا جائے گا‘۔
ہند القاسمی نے نے اس کے ساتھ انڈین چینل اے بی پی ٹی وی کا ایک سکرین شاٹ بھی شیئر کیا جس پر درج تھا کہ ’انڈیا کی مقتدر جماعت بی جے پی کے رہنما اپنی حکومت کے بیس کروڑ مسلمانوں اور دو کروڑ آٹھ لاکھ مسیحیوں کی نسل کشی کے عزائم کے بارے میں کھلے عام بات کر رہے ہیں۔‘
یاد رہے کہ انڈیا کے اخبار اکنامک ٹائمز کے مطابق اس واقعے کے بعد آر ایس ایس نے راجیشور سنگھ کی سرزنش کی تھی اور وہ خود صحت کی خرابی کو وجہ بتا کر تنظیم سے علیحدہ ہوگئے تھے۔
یہ بھی پڑھیے
End of سب سے زیادہ پڑھی جانے والی
اس تحریر میں ایسا مواد ہے جو X کی جانب سے دیا گیا ہے۔ کسی بھی چیز کے لوڈ ہونے سے قبل ہم آپ سے اجازت چاہتے ہیں کیونکہ یہ ممکن ہے کہ وہ کوئی مخصوص کوکیز یا ٹیکنالوجیز کا استعمال کر رہے ہوں۔ آپ اسے تسلیم کرنے سے پہلے X ککی پالیسی اور پرائیویسی پالیسی پڑھنا چاہیں گے۔ اس مواد کو دیکھنے کے لیے ’تسلیم کریں، جاری رکھیں‘ پر کلک کریں۔
X پوسٹ کا اختتام, 2
اس ٹویٹ پر انڈیا سے فوراً ایک شخص نے تنقید کی کہ ’انڈیا میں سیاست دان بیوقوفی پر مبنی بیانات دیتے ہیں کوئی اس رہنما کا نام تک نہیں جانتا، آپ اسے مشہور کر رہی ہیں۔‘
اس تحریر میں ایسا مواد ہے جو X کی جانب سے دیا گیا ہے۔ کسی بھی چیز کے لوڈ ہونے سے قبل ہم آپ سے اجازت چاہتے ہیں کیونکہ یہ ممکن ہے کہ وہ کوئی مخصوص کوکیز یا ٹیکنالوجیز کا استعمال کر رہے ہوں۔ آپ اسے تسلیم کرنے سے پہلے X ککی پالیسی اور پرائیویسی پالیسی پڑھنا چاہیں گے۔ اس مواد کو دیکھنے کے لیے ’تسلیم کریں، جاری رکھیں‘ پر کلک کریں۔
X پوسٹ کا اختتام, 3
شہزادی ہند القاسمی نے جواباً کہا کہ ’چاہے وہ پُتلا ہی کیوں نہ ہو، وہ ایک سپاہی ہے جو اپنے بڑے عہدیداران کے کام پر مامور ہے اور وہی کرتا ہے جو اسے کہا جاتا ہے۔‘
ہند القاسمی اس پوسٹ کے بعد متحرک رہیں اور اپنی ٹویٹ پر اعتراض کرنے والوں کو جواب دیتی رہیں۔
اس تحریر میں ایسا مواد ہے جو X کی جانب سے دیا گیا ہے۔ کسی بھی چیز کے لوڈ ہونے سے قبل ہم آپ سے اجازت چاہتے ہیں کیونکہ یہ ممکن ہے کہ وہ کوئی مخصوص کوکیز یا ٹیکنالوجیز کا استعمال کر رہے ہوں۔ آپ اسے تسلیم کرنے سے پہلے X ککی پالیسی اور پرائیویسی پالیسی پڑھنا چاہیں گے۔ اس مواد کو دیکھنے کے لیے ’تسلیم کریں، جاری رکھیں‘ پر کلک کریں۔
X پوسٹ کا اختتام, 4
کرشنا مورتی نامی ٹوئٹر صارف نے کہا کہ ’آپ کو ایسے شخص کو اہمیت نہیں دینی چاہیے۔ ہر انڈین گاندھی نہیں ہے۔ دنیا میں کوئی معاشرہ مسلمان اور مسیحی برادری کی جانب سے اشتعال کے باوجود اتنی برداشت نہیں دکھا سکتا۔‘
اس تحریر میں ایسا مواد ہے جو X کی جانب سے دیا گیا ہے۔ کسی بھی چیز کے لوڈ ہونے سے قبل ہم آپ سے اجازت چاہتے ہیں کیونکہ یہ ممکن ہے کہ وہ کوئی مخصوص کوکیز یا ٹیکنالوجیز کا استعمال کر رہے ہوں۔ آپ اسے تسلیم کرنے سے پہلے X ککی پالیسی اور پرائیویسی پالیسی پڑھنا چاہیں گے۔ اس مواد کو دیکھنے کے لیے ’تسلیم کریں، جاری رکھیں‘ پر کلک کریں۔
X پوسٹ کا اختتام, 5
شہزادی القاسمی نے کرشنا مورتی کو جواب دیتے ہوئے لکھا کہ ’حکومت کا کام ہے کہ امن قائم کرے۔ یہاں امارات میں اگر کوئی نفرت پھیلانے کی جرات کرے تو اُسے جیل میں ڈال دیا جاتا ہے چاہے وہ مقامی ہو یا غیر ملکی۔‘
اس تحریر میں ایسا مواد ہے جو X کی جانب سے دیا گیا ہے۔ کسی بھی چیز کے لوڈ ہونے سے قبل ہم آپ سے اجازت چاہتے ہیں کیونکہ یہ ممکن ہے کہ وہ کوئی مخصوص کوکیز یا ٹیکنالوجیز کا استعمال کر رہے ہوں۔ آپ اسے تسلیم کرنے سے پہلے X ککی پالیسی اور پرائیویسی پالیسی پڑھنا چاہیں گے۔ اس مواد کو دیکھنے کے لیے ’تسلیم کریں، جاری رکھیں‘ پر کلک کریں۔
X پوسٹ کا اختتام, 6
پاسر بائے کے نام سے ایک اور صارف نے شہزادی پر اعتراض کیا اور کہا کہ ’اس وقت اس پیغام کو سامنے لانے کا کیا مقصد ہے؟ اور متحدہ عرب امارات سے ہوتے ہوئے آپ کو یہ معلومات کون بھجوا رہا ہے؟‘
اس تحریر میں ایسا مواد ہے جو X کی جانب سے دیا گیا ہے۔ کسی بھی چیز کے لوڈ ہونے سے قبل ہم آپ سے اجازت چاہتے ہیں کیونکہ یہ ممکن ہے کہ وہ کوئی مخصوص کوکیز یا ٹیکنالوجیز کا استعمال کر رہے ہوں۔ آپ اسے تسلیم کرنے سے پہلے X ککی پالیسی اور پرائیویسی پالیسی پڑھنا چاہیں گے۔ اس مواد کو دیکھنے کے لیے ’تسلیم کریں، جاری رکھیں‘ پر کلک کریں۔
X پوسٹ کا اختتام, 7
شہزادی نے جواباً کہا کہ ’وہ کہتے ہیں کہ میں جھوٹی خبریں پھیلاتی ہوں۔ میں ہندی تو نہیں بولتی مگر میرے پاس دیکھنے کے لیے آنکھیں ہیں۔ وہ اپنے انٹرویوز اور پریس میں کہتے ہیں کہ وہ مسلمانوں اور مسیحیوں کو 2021 تک مٹانا چاہتے ہیں۔ یہ اُن کا منصوبہ ہے۔ ‘
ٹوئٹر صارف پونت اگروال جن کے بایو کے مطابق وہ بی جے پی دلی کے سوشل میڈیا اور آئی ٹی سیل کے سربراہ ہیں، شہزادی کی ٹویٹ کے جواب میں لکھا کہ ’تم کون ہوتی ہو، اپنے کام سے کام رکھو۔ جو بھی کہا گیا اور جو کچھ کیا جائے گا وہ انڈیا کا اندرونی معاملہ ہے۔‘
اس تحریر میں ایسا مواد ہے جو X کی جانب سے دیا گیا ہے۔ کسی بھی چیز کے لوڈ ہونے سے قبل ہم آپ سے اجازت چاہتے ہیں کیونکہ یہ ممکن ہے کہ وہ کوئی مخصوص کوکیز یا ٹیکنالوجیز کا استعمال کر رہے ہوں۔ آپ اسے تسلیم کرنے سے پہلے X ککی پالیسی اور پرائیویسی پالیسی پڑھنا چاہیں گے۔ اس مواد کو دیکھنے کے لیے ’تسلیم کریں، جاری رکھیں‘ پر کلک کریں۔
X پوسٹ کا اختتام, 8
ماینک کمار نے اپنی ٹویٹ میں کہا کہ یہ خبر 2014 کی ہے مگر لوگ آج بھی اس کی حمایت میں بول رہے ہیں۔ ان کا کہنا ہے کہ وزیراعظم نے اس شخص کو چھٹی پر بھیج دیا تھا۔
اس تحریر میں ایسا مواد ہے جو X کی جانب سے دیا گیا ہے۔ کسی بھی چیز کے لوڈ ہونے سے قبل ہم آپ سے اجازت چاہتے ہیں کیونکہ یہ ممکن ہے کہ وہ کوئی مخصوص کوکیز یا ٹیکنالوجیز کا استعمال کر رہے ہوں۔ آپ اسے تسلیم کرنے سے پہلے X ککی پالیسی اور پرائیویسی پالیسی پڑھنا چاہیں گے۔ اس مواد کو دیکھنے کے لیے ’تسلیم کریں، جاری رکھیں‘ پر کلک کریں۔
X پوسٹ کا اختتام, 9
جبکہ ٹوئٹر صارف فاری نے لکھا ’شہزادی ہند آپ اچھے دل والی انسان ہیں۔ آپ ہمیشہ سچ کا ساتھ دیتی ہیں۔‘
اس تحریر میں ایسا مواد ہے جو X کی جانب سے دیا گیا ہے۔ کسی بھی چیز کے لوڈ ہونے سے قبل ہم آپ سے اجازت چاہتے ہیں کیونکہ یہ ممکن ہے کہ وہ کوئی مخصوص کوکیز یا ٹیکنالوجیز کا استعمال کر رہے ہوں۔ آپ اسے تسلیم کرنے سے پہلے X ککی پالیسی اور پرائیویسی پالیسی پڑھنا چاہیں گے۔ اس مواد کو دیکھنے کے لیے ’تسلیم کریں، جاری رکھیں‘ پر کلک کریں۔
X پوسٹ کا اختتام, 10
ویبھو نے چند تصویریں ٹویٹ کیں جن میں ایک ہی تنگ کمرے میں بہت سے لوگ سو رہے ہیں اور ساتھ پیغام میں لکھا کہ ’ہمیں متحدہ عرب امارات میں انسانی حقوق کی صورتحال کے بارے میں سب علم ہے۔‘
اس ٹوئٹر تھریڈ میں انڈیا اور پاکستان دونوں سے لوگ اپنے اپنے نکتہ نظر سے آپس میں اور شہزادی سے لڑتے رہے اور ایک دوسرے کے ملک میں اقلیتوں کے ساتھ روا رکھا جانے والے سلوک کا ذکر کرتے رہے۔
یہ پہلی بار نہیں کہ اماراتی شہزادی ہند القاسمی نے انڈیا پر تنقید کی ہے۔
ٹوئٹر پر اپنے پیغام میں انہوں نے لکھا تھا کہ ’میں اس جنگ کے دوران خاموش نہیں رہوں گی۔ انڈیا میں مسلمانوں، مسیحیوں اور دیگر اقلیتوں پر ظلم بند ہونا چاہیے۔‘
اس سے پہلے خلیجی ممالک میں بسنے والے انڈین شہریوں کی جانب سے نفرت پر مبنی سوشل میڈیا پوسٹس کا بھی شہزادی القاسمی نے نوٹس لیا اور انھیں متنبہ کیا کہ متحدہ عرب امارات میں اس نفرت کی گنجائش نہیں اور نفرت پھیلانے والوں کے خلاف کارروائی ہوگی۔
شہزادی القاسمی کا ذکر اپنے بیانات کی وجہ سے عالمی نیوز چینلز کے علاوہ انڈین اخباروں، نیوز چینلز اور سوشل میڈیا پر ہوتا رہتا ہے۔
انھوں نے مختلف موضوعات پر انڈین چینلز اور آن لائین پلیٹ فارمز پر انٹرویوز بھی دیے ہیں۔
سوشل میڈیا پر صارفین انہیں ٹیگ کر کے اُن کی توجہ مختلف مسائل کی طرف دلاتے ہیں تاکہ وہ ان کا نوٹس لے کر ان پر بات کریں اور یوں ایسے موضوعات میڈیا کی توجہ کا مرکز بن رہے ہیں۔










