طالبان، امریکہ کے درمیان افغان امن معاہدے، قیدیوں کی رہائی میں تاخیر پر بات چیت

،تصویر کا ذریعہGetty Images
طالبان کے قطر دفتر کے ترجمان سہیل شاہین کے مطابق افغانستان میں امریکہ کے چیف مذاکرات کار اور طالبان رہنماؤں کے درمیان پیر کو ایک ملاقات ہوئی جس میں امن معاہدے سے متعلق قیدیوں کے تبادلے پر اختلاف سے متعلق بات چیت ہوئی ہے۔
اتوار کو افغانستان میں انٹرنیشل کمیٹی آف ریڈ کراس نے کہا تھا کہ طالبان کی جانب سے رہا کردہ افغان سکیورٹی اداروں کے 20 اہلکار قندھار منتقل کیے جا چکے ہیں۔ خبر رساں ادارے روئٹرز کے مطابق گذشتہ ہفتے افغان حکومت نے 300 طالبان جنگجو قیدیوں کو رہا کیا تھا۔
طالبان اور افغان حکومت کے درمیان رہا کیے جانے والے قیدیوں کی تعداد اور رفتار کے حوالے سے اختلافات کی اطلاعات سامنے آئی ہیں جس کی وجہ سے یہ عمل تاخیر کا شکار ہو رہا ہے۔
یہ بھی پڑھیے
سہیل شاہین نے ٹوئٹر پر اپنے پیغام میں لکھا کہ افغانستان کے لیے امریکہ کے خصوصی نمائندے زلمے خلیل زاد اور امریکی فوج کے جنرل سکاٹ ملر کی طالبان رہنما ملا عبدالغنی برادر سے ملاقات ہوئی ہے۔
End of سب سے زیادہ پڑھی جانے والی
اس تحریر میں ایسا مواد ہے جو X کی جانب سے دیا گیا ہے۔ کسی بھی چیز کے لوڈ ہونے سے قبل ہم آپ سے اجازت چاہتے ہیں کیونکہ یہ ممکن ہے کہ وہ کوئی مخصوص کوکیز یا ٹیکنالوجیز کا استعمال کر رہے ہوں۔ آپ اسے تسلیم کرنے سے پہلے X ککی پالیسی اور پرائیویسی پالیسی پڑھنا چاہیں گے۔ اس مواد کو دیکھنے کے لیے ’تسلیم کریں، جاری رکھیں‘ پر کلک کریں۔
X پوسٹ کا اختتام
ان کا کہنا تھا کہ دونوں فریقین نے فروری میں طے شدہ معاہدے پر مکمل عمل درآمد پر اتفاق کیا۔ ’قیدیوں کے تبادلے میں تاخیر پر بھی بات ہوئی۔‘
تاہم سہیل شاہین نے اس بارے میں کوئی بات نہیں کی کہ طالبان کے گذشتہ ہفتے امریکہ پر الزام عائد کیا تھا کہ وہ ملک میں کچھ حصوں میں اب بھی افغان سکیورٹی اداروں کے ساتھ آپریشنز کر کے معاہدے کی خلاف ورزی کر رہا ہے۔
یہ جمعے کے بعد دوسری مرتبہ ہے کہ سکاٹ ملر کی طالبان رہنماؤں سے ملاقات ہوئی ہے۔ وہ امریکی اور بین لاقوامی افواج کی سربراہی کرتے ہیں۔
امریکی وزارت خارجہ نے اس حوالے سے کوئی بیان جاری نہیں کیا ہے۔ پیر کو انھوں نے اعلان کیا تھا کہ زلمے خلیل زاد طالبان رہنماؤں سے امریکہ اور طالبان کے درمیان امن معاہدے پر عمل درآمد کے لیے پیش پیش مشکلات پر بات کرنے کے لیے ملے تھے۔

خبر رساں ادارے اے ایف پی کے مطابق معاہدے کے مطابق افغان حکومت پانچ ہزار طالبان قیدی رہا کرے گی جبکہ طالبان افغان سکیورٹی اداروں کے 1000 اہلکار کو رہا کریں گے۔ اسے خیر سگالی کا قدم کہا گیا ہے۔
طالبان نے کہا ہے کہ افغان حکومت فوراً ان کے 5000 قیدیوں کو رہا کرے اور اس کے بعد ہی دونوں کے درمیان مزاکرات آگے بڑھ سکیں گے۔ یہ مطالبہ اشرف غنی کی حکومت نے مسترد کیا ہے۔ ان کی حکومت امن معاہدے میں فریق نہیں تھی۔
صدر اشرف غنی نے پہلے مرحلے میں 1500 طالبان قیدیوں کی رہائی کا حکم دیا ہے۔ ان میں سے 300 کو رہا کیا جا چکا ہے۔ جبکہ طالبان کی جانب سے رہا کردہ افغان سکیورٹی اداروں کے 20 اہلکار قندھار منتقل کیے جا چکے ہیں۔
افغان ذرائع کے مطابق طالبان اور افغان حکومت میں قیدیوں کے تبادلے میں یہ تعطل ان 15 قیدیوں کی رہائی کی باعث آیا ہے جنھیں افغان حکومت متعدد بڑے حملوں میں ملوث قرار دیتے ہیں اور افغان حکومت کے مطابق وہ طالبان کے کمانڈرز ہیں جبکہ طالبان ان کو اپنا ساتھی قرار دیتے ہیں۔
سہیل شاہین کا دعویٰ ہے کہ ماضی میں اس فہرست میں سات قیدیوں کو رہا کیا جا چکا ہے۔











