انڈیا میں زندہ جلائی گئی خاتون دم توڑ گئی

،تصویر کا ذریعہGetty Images
انڈیا میں ایک کالج لیکچرر جن کو مبینہ طور پر اسی شخص نے آگ لگا دی تھی جس پر انہوں نے کئی ماہ تک انہیں سٹاک کرنے یعنی ان کا پیچھے کرنے کا الزم لگایا تھا، اپنے زخموں کی تاب نہ لا کر ہلاک ہو گئی ہیں۔
انہوں نے پیر کے روز ہسپتال میں دم توڑا۔ ان پر حملہ ایک ہفتے پہلے اس وقت ہوا تھا جب وہ انڈیا کی وسطی ریاست مہاراشٹر میں کام پر جا رہی تھیں۔
حملے میں ان کا 40 فیصد جسم جھلس گیا تھا، اور انہیں سر، پیٹھ، چہرے اور ہاتھوں اور پیروں پر شدید زخم آئے تھے۔
یہ بھی پڑھیے
ان کے مبینہ حملہ آور کو پولیس نے گرفتار کر لیا ہے۔ اطلاعات کے مطابق حملہ آور نے پیٹرول میں ڈوبی ایک چھڑی سے انہیں آگ لگائی۔
عینی شاہد وجے کُکاڑے کہتے ہیں کہ انہوں نے کسی کے چیخنے کی آواز سن کر اپنی بائیک روک لی۔ انہیں لگا شاید کوئی حادثہ پیش آیا ہے۔
انہوں نے بی بی سی مراٹھی کو بتایا، ’میں نے بائیک واپس گھمائی کہ دیکھوں کیا ہوا ہے، لیکن میں نے ایک عورت کو سڑک پر جلتے ہوئے دیکھا۔‘
End of سب سے زیادہ پڑھی جانے والی
خاتون کے خاندان والوں کے مطابق یہ شخص، جس کا نام ظاہر نہیں کیا گیا ہے، کافی عرصے سے انہیں حراساں کر رہا تھا۔

،تصویر کا ذریعہPRAVEEN MUDHOLKAR
ہِنگنگھاٹ نامی اس شہر کے کئی رہائشیوں نے ملزم کے لیے سزائے موت کا مطالبہ کرتے ہوئے پچھلے ہفتے مظاہرہ بھی کیا تھا۔
ہسپتال ذرائع کے مطابق متاثرہ خاتون کو جمعہ کے روز وینٹِلیٹر پر ڈال دیا گیا تھا لیکن وہ پیر کو دم توڑ گئیں۔
ہسپتال کے ایک ڈاکٹر نے بتایا کہ ان کی لاش کو پوسٹ مارٹم کے لیے پولیس کے حوالے کر دیا گیا ہے۔
ریاستی وزیر داخلہ انِل دیشمُکھ نے خاندان کے ساتھ اظہار تعزیت کیا ہے۔ انہوں نے پیر کو رپورٹرز سے بات کرتے ہوئے کہا، ’یہ ایک نہایت ہی تکلیف دہ واقع ہے۔ ہم سب غمگین ہیں۔ ہم نے اس خاتون کو بچانے کی ہر کوشش کی۔ میں چاہتا ہوں کہ خاندان کو یہ پتا ہو کہ ریاستی حکومت ان کے ساتھ ہے۔‘
پچھلے ہفتے ملک کے دارالحکومت دلی سے بھی سٹاکِنگ کا ایک واقعہ سامنے آیا تھا۔ جمعہ کو ایک پولیس انسپکٹر نے اپنی ایک ساتھی کو مبینہ طور پر گولی مار کر ہلاک کر دیا تھا۔ ابتدائی تفتیش کے مطابق خاتون پولیس افسر نے دونوں کے درمیان رشتے کو آٹھ ماہ پہلے ختم کر دیا تھا جس کے بعد پولیس انسپکٹر انہیں سٹاک کرنے لگا تھا۔









