انڈیا: 20 سے زائد یرغمال بچوں کی جان 15 سالہ انجلی کی سمجھداری نے بچا لی

اپنی ایک سالہ بچی کی جعلی سالگرہ کا ڈرامہ رچا کر 20 سے زائد بچوں کو یرغمال بنانے والے ایک انڈین شخص کو پولیس نے گولی مار کر ہلاک کر دیا ہے۔

مقامی میڈیا کے مطابق اس شخص کا نام سبھاش باتھم تھا اور وہ قتل کے مقدمے میں ضمانت پر رہا ہوا تھا۔ اتر پردیش کے ضلع فرخ آباد میں مقامی لوگوں نے اس شخص کی بیوی کو بھی مار مار کر ہلاک کر دیا۔ پولیس نے 10 گھنٹے تک اس شخص سے مذاکرات کیے جس کے بعد وہ عمارت میں داخل ہو گئی۔

یہ بھی پڑھیے

بچوں کی جان بچانے والی انجلی کی تعریف

پولیس کا کہنا ہے کہ اس سارے معاملے میں تمام بچوں کے صحیح سلامت رہنے کا سہرا 15 سالہ انجلی کو جاتا ہے۔

نویں جماعت کی طالبہ انجلی یرغمال بنائے گئے بچوں میں سب سے بڑی تھیں۔ انھوں نے بتایا کہ کہ جس تہہ خانے میں انہیں رکھا گیا تھا وہاں کوئی گھڑی نہیں تھی اور اس قدر اندھیرا تھا کہ دن رات کی شناخت کرنا مشکل تھا۔ اس لیے انہیں اندازہ نہیں ہوا کہ کتنا وقت گزر گیا ہے۔

انھوں نے بتاا ’انکل (سبھاش) نے ہم سب کو تہ خانے میں بند کردیا تھا۔ روتے ہوئے بچوں کو بسکٹ دیے اور بہت چھوٹے بچوں کو ڈانٹا اور خاموش کردیا۔ تھوڑی دیر کے بعد، سب سے چھوٹی لڑکی جو ایک سال کی تھی اور دودھ کے لیے رو رہی تھی جب میں اسے رہا کرنے کے لیے وہ تہہ خانے سے باہر آئے تو میں نے دروازہ اندر سے بند کر دیا۔‘

انجلی نے بتایا ’آنٹی (سبھاش کی بیوی) بھی باہر تھیں۔ اس کے بعد ہم وہاں بیٹھے رہے۔ بالکل اندھیرا تھا لیکن کچھ کھلونے تھے جن سے ہم بہت چھوٹے بچوں کو خاموش رکھ سکتے تھے۔ انھوں نے بہت دیر تک دروازے پر دستک دی، کہا کہ وہ بم سے اڑا دیں گے ، پھر بھی ہم نے دروازہ نہیں کھولا۔‘

گاؤں کے لوگوں کے مطابق ، سبھاش اور اس کی اہلیہ کو انجلی کی جانب سے تہہ خانے کا دروازہ بند کیے جانے اور بیرونی دروازہ توڑنے کے بعد ہی پکڑا گیا تھا۔

نیرج کمار، جو سبھاش کے گھر کے بالکل پیچھے رہتے ہیں ، کہتے ہیں ، ’سبھاش اپنا سب سے زیادہ سامان تہ خانے میں رکھتا تھا اور بچوں کو بھی وہاں قید رکھتا تھا۔ جب تہہ خانہ بند ہوا تو ایک طرف بچے اس کی دسترس سے باہر تھے۔ دوسری طرف، اس کا گولہ بارود بھی وہیں رکھا ہوا تھا۔ پھر مرکزی دروازہ ٹوٹنے کے بعد ، اسے فرار ہونے کی جگہ نہیں مل سکی۔`

سبھاش باتھم اور اس کی اہلیہ روبی کی موت کے بعد ، تہہ خانے کا دروازہ توڑ کر بچوں کو بازیاب کیا گیا۔

والدین بچوں کی سلامتی کے لیے دعا گو تھے

انجلی کا کہنا ہے ، ’پہلے سارے بچے گھر کے باہر ناچ رہے تھے ، لیکن جب وہ ہمیں کیک کاٹنے اور کھانا کھلانے کے لیے گھر کے اندر لے گئے۔‘

گاؤں کے ایک رہائشی نریش کا کہنا ہے ، ’سبھاش باتھم اور اس کی اہلیہ روبی بھی ڈھائی بجے باہر میوزک سسٹم لگا کر بچوں کے ساتھ رقص کررہے تھے۔ بہت خوشگوار ماحول تھا۔ تقریبا دو گھنٹے کے رقص اور گانے کے بعد ، سبھاش باتھم نے کیک کاٹنے کے بہانے بچوں کو اندر بلا لیا۔‘

بابلی دیوی کا گھر سبھاش باتھم کے گھر کے ساتھ ہے۔ دونوں مکانوں کی چھتیں ملتی ہیں۔ ان کے تین بچے بھی اس مبینہ سالگرہ کی تقریب میں گئے تھے۔ بابلی دیوی کے شوہر آدیش کمار پنجاب کے شہر بٹھنڈا میں ملازمت کرتے ہیں۔ واقعے کا علم ہوتے ہیں وہ وہاں سے روانہ ہوئے اور اگلے دن سہ پہر کو گھر پہنچ گئے۔

بابلی دیوی کہتی ہیں ، ’پچھلے سال بھی سبھاش نے بیٹی کی سالگرہ منائی تھی اور بچے چلے گئے تھے۔ لہٰذا ہم نے اس بار بھی بھیجا۔ بچوں کو وہاں بھیجنے کے بعد ، میں کچھ سامان لینے چلی گئی۔ واپس آتے ہی میں نے دیکھا کہ گھر اندر سے بند تھا۔ میں نے آواز دی۔ سبھاش نے اندر سے کہا کہ میں نے تمام بچوں کو اغوا کرلیا ہے۔ آپ پولیس کو فون کریں ورنہ میں سب کو بم سے اڑا دوں گا۔‘

یہ سن کر بابلی دیوی کے ہوش اڑ گئے۔ آس پاس کے لوگوں کے علاوہ اس نے بھی پولیس کو آگاہ کیا۔ دیہاتیوں کے مطابق دو گھنٹے کے بعد، پولیس آئی اور کافی دیر تک سبھاش سے بات کرنے کی کوشش کرتی رہی۔ اس دوران بچوں کے لواحقین کی سانسیں اٹکی رہیں۔

ستیاوتی کے بھی دو بچے یرغمال تھے۔ بیٹا دس سال کا اور بیٹی سات سال کی ہے۔

ستیاوتی کہتے ہیں، ’ہم لوگوں کو وہاں جانے نہیں دے رہے تھے۔ جن لوگوں کے بچے تھے ، انہیں وہاں نہیں جانا چاہیے۔ وہ دعا کر رہے تھے کہ بچے صحیح سلامت آجائیں۔ بچے اب بھی خوفزدہ ہیں اور اس کے گھر کی طرف نہیں جا رہے ہیں۔‘

تاہم ، یرغمال بنائے گئے بچوں کے مطابق ، سبھاش یا اس کی بیوی نے کسی بچے کو پریشان نہیں کیا اور نہ ہی کسی کو پیٹا۔ یہاں تک کہ جب چھوٹے بچے رو رہے تھے ، تو انھوں نے انہیں بسکٹ اور کچھ دوسری اشیائے خوردونوش دیں۔

سبھاش قتل کا مقدمہ ختم کروانا چاہتا تھا

بچوں کو یرغمال بنانے والے اس شخص کا پولیس کے ساتھ فائرنگ کا تبادلہ بھی ہوا۔ تمام یرغمالی بچوں کی عمریں چھ ماہ سے 15 سال تک تھیں جو اس واقعے میں محفوظ رہے۔

باتھم کی بیوی جس کا نام ظاہر نہیں کیا گیا اس پر لوگوں نے فرار ہونے کی کوشش کے دوران حملے کر دیا۔ پولیس کے مطابق لوگوں نے اس پر اینٹیں اور پتھر برسائے۔ ایک سینیئر پولیس اہلکار نے این ڈی ٹی وی کو بتایا کہ ’اس کے سر پر چوٹیں آئی جس سے خون بہنے لگا اسے ہسپتال لے جایا گیا تھا۔ ‘وہ عورت زخموں کی تاب نہ لاتے ہوئہ ہلاک ہو گئی۔ یہ واضح نہیں ہے کہ وہ بھی بچوں کو یرغمال بنانے کے منصوبے میں شامل تھی یا نہیں۔

ایک مقامی صحافی دیپک کمار شریواستو نے بی بی سی کو بتایا کے وہ رات مقامی لوگوں نے خوف میں بسر کی۔

’محلے میں لوگ خوفزدہ تھے کوئی نہیں سویا۔ سب کو بچوں کی سلامتی سے متعلق خدشات تھے۔ پولیس نے اس شخص کو کئی گھنٹوں تک ہتھیار ڈالنے کے لیے قائل کرنے کی کوشش کی۔ جب ان کی کوشش ناکام رہیں تو انھوں نے سپیشل فورسز کو بلا لیا۔‘

سبھاش باتھم نامی اس شخص نے ان بچوں کو اپنی بیٹی کی سالگرہ میں مدعو کیا لیکن بجائے پارٹی کے اس نے سب کو ایک عمارت میں یرغمال بنا لیا۔

شریواسو نے بتایا ’باتھم سمجھتا تھا کے مقامی لوگ اس کے خلاف قتل کے مقدمے اور اس کی گرفتاری کے ذمہ دار ہیں اور وہ اس کا بدلہ لینا چاہتا تھا۔‘

یرغمال بنائے جانے کے دوران سات گھنٹوں کے بعد صرف ایک چھ ماہ کی بچی کو باہر نکلنے کی اجازت دی جسے بالکونی سے ہمسائے کے حوالے کیا گیا۔

جب ہمسائیوں نے پولیس کو بتایا تو اس شخص نے فائرنگ شروع کر دی۔

اتر پردیش کے ڈائریکٹر جنرل پولیس اوم پرکاش سنگھ ’یہ جاننے کے بعد کے کہ اس کے پاس اسلحہ ہے اور اس کی جانب سے بم کی دھمکی کے بعد پولیس کے اعلی افسران نے اس پر حملہ کرنے کا فیصلہ کیا۔ ہم نے گھر میں گھسنے کی کوشش کی اور اس دوران فائرنگ کے تبادلے میں سبھاش مارا گیا۔‘

اس فائرنگ میں سبھاش کی بیوی، دو پولیس اہلکار اور ایک راہ گیر زخمی ہوا۔

انڈیا ٹوے ڈے کے مطابق اس سے پہلے باتھم نے مقامی ضلعی مجسٹریٹ کو خط لکھا تھا کہ اس کے گھر میں بیت الخلا نہیں ہے اور سرکاری ہاؤسنگ سکیم کے لیے اس کی درخواست بھی مسترد ہوئی ہے۔

ان کا کہنا تھا کہ وہ مزودر ہیں اور ان کی ایک بیمار ماں ہے جنہیں کھلے میں رفع حاجت کے لیے جانا پڑتا ہے۔

کئی گھنٹوں پر مشتمل اس محاصرے کے دوران کئی ٹیلی وژن چینلز نے بھی باتھم سے رابطہ کیا تاکہ وہ ان کے ذریعے اپنے مطالبات حکام اور حکومت تک پہنچائیں۔