ایرانی مسافر طیارہ رن وے سے پھسل کر ہائی وے پر آ گیا

،تصویر کا ذریعہAFP
ایران کے جنوبی مشرقی شہر ماہشہر میں عوام اس وقت حیران رہ گئے جب شہر کے ایک شاہراہ پر انھیں مسافر طیارہ کھڑا ملا۔
مسافر بردار طیارہ جس پر 135 افراد سوار تھے ہوائی اڈے پر اترنے کے دوران رن وے سے پھسل کر اس مصروف ہائی وے پر جا پہنچا۔
یہ بھی پڑھیے
اطلاعات کے مطابق طیارے کو یہ حادثہ خراب لینڈنگ کی وجہ سے پیش آیا اور وہ پیٹ کے بل پھسلتا ہوا سڑک پر پہنچا۔
اس واقعے میں طیارے پر سوار تمام افراد محفوظ رہے۔
یہ طیارہ کیسپیئن ایئر لائن کا تھا اور تہران سے ماہشہر پہنچا تھا۔ بتایا گیا ہے کہ لینڈنگ کے لیے اس کے پہیے پوری طرح کھل نہیں سکے۔
جہاز پر موجود ایک صحافی نے بتایا کہ طیارے کے پچھلے پہیے ٹوٹ گئے جس کی وجہ سے جہاز پہیوں کے بغیر پھسلتا رہا۔
سوشل میڈیا پر پوسٹ کی جانے والے تصاویر اور ویڈیوز میں مسافروں کو جہاز سے باہر آتے ہوئے دیکھا جا سکتا ہے۔
End of سب سے زیادہ پڑھی جانے والی
اس تحریر میں ایسا مواد ہے جو X کی جانب سے دیا گیا ہے۔ کسی بھی چیز کے لوڈ ہونے سے قبل ہم آپ سے اجازت چاہتے ہیں کیونکہ یہ ممکن ہے کہ وہ کوئی مخصوص کوکیز یا ٹیکنالوجیز کا استعمال کر رہے ہوں۔ آپ اسے تسلیم کرنے سے پہلے X ککی پالیسی اور پرائیویسی پالیسی پڑھنا چاہیں گے۔ اس مواد کو دیکھنے کے لیے ’تسلیم کریں، جاری رکھیں‘ پر کلک کریں۔
X پوسٹ کا اختتام
ریاستی ٹیلیوژن نے صوبائی ایوی ایشن حکام کے حوالے سے بتایا کہ ’پائلٹ نے جہاز کو اتارنے میں تاخیر کی اور اسے وجہ سے وہ رن وے پر جہاز اتار نہیں سکے۔‘
سول ایوی ایشن کے ترجمان رضا جعفرزادہ نے خبر رساں ادارے اسنا کو بتایا کہ پیر کو مقامی وقت کے مطابق 7.50 پر جہاز رون وے سے پھسلا۔ انھوں نے بتایا کہ واقعے کی تحقیقات کی جا رہی ہیں۔
ایوی ایشن کے دوران تحفظ کے حوالے ایران کا ریکارڈ کچھ اچھا نہیں ہے۔ فروری 2019 میں ایک جہاز کے حادثے میں 66 افراد ہلاک ہوئے اور سنہ 2011 میں لینڈنگ کے دوران جہاز ٹکڑے ٹکڑے ہو جانے کی وجہ سے درجنوں لوگ ہلاک ہو گئے۔
اس کے بعد یورپی یونین نے سلامتی کے خدشات کے پیشِ نظر ایران کی دو ایئرلائنز پر اپنی فضائی حدود کے استعمال پر پابندی عائد کر دی تھی۔
جوہری معاہدے کے تحت پابندیاں ختم ہونے کے بعد ایران نے اپنے پرانے جہازوں کو اپ گریڈ کرنے کا منصوبہ بنایا۔
تاہم امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی جانب سے سنہ 2018 میں معاہدے سے الگ ہونے کے بعد امریکہ نے ایران کو مسافر طیارے فروخت کرنے والی کمپنیوں کے لائسنس منسوخ کر دیے تھے۔









