مژدہ جمال زادہ: ایک ٹی وی شو کی خاطر اپنی جان خطرے میں ڈالنے والی افغان لڑکی کی کہانی

،تصویر کا ذریعہMozhdah Jamalzadah
مژدہ جمال زادہ افغانستان میں ایک متاثر کُن اور انقلابی ٹی وی فارمیٹ لائیں تھیں مگر طلاق کے متنازعہ موضوع پر ان کا ایک پروگرام اتنا متنازع ہوا کہ انھیں اپنا ملک چھوڑنا پڑا۔
بی بی سی کے پروگرام ’آؤٹ لُک‘ میں بات کرتے ہوئے انھوں نے بتایا کہ ’ہمیں اسلامی مبلغین اور ہر طرح کے انتہا پسندوں کی طرف سے مسلسل فون کالز موصول ہو رہی تھیں۔ ٹی وی سٹیشن پر فون کر کے وہ کہتے کہ اگر آپ اس لڑکی (مژدہ جمال زادہ) کو چینل سے نہیں نکالیں گے اور اس کا پروگرام بند نہیں کریں گے تو ہم ٹی وی سٹیشن کو دھماکے سے اڑا دیں گے۔‘
افغانستان کے ون ٹی وی سٹیشن پر چلنے والا ’دی مژدہ شُو‘ سنہ 2010 سے سنہ 2011 کے دوران خواتین اور بچوں کے حقوق پر بات کرنے والا ایک پروگرام تھا جس کی میزبانی مژدہ جمال زادہ کرتی تھیں۔
’افغانستان کی اوپرا‘
ہفتے میں دو روز نشر ہونے والے اس پروگرام میں مہمانوں سے کسی موضوع پر سیر حاصل گفتگو ہوتی اور اس کے بعد حاضرین سے سوال و جوابات کا سلسلہ۔

اگر ریٹنگ اور اشتہارات کے تناظر میں بھی بات کی جائے تو یہ ایک انتہائی کامیاب پروگرام تھا۔
اس پروگرام کی بدولت مژدہ کی مقبولیت آسمانوں کو چھونے لگی، یہاں تک کہ انھیں ’افغانستان کی اوپرا‘ کہا جانا لگا۔ یاد رہے کہ اوپرا ونفری کو امریکی ٹاک شوز کی ملکہ کہا جاتا ہے۔
اور اس سفر میں ان کی حوصلہ افزائی اس وقت ہوتی جب وہ اپنے پروگرام میں شریک خواتین سے پروگرام کے متعلق باتیں سنتیں۔
یہ بھی پڑھیے
End of سب سے زیادہ پڑھی جانے والی
پروگرام میں شریک حاضرین میں ایک خاتون نے مژدہ کو بتایا کہ ’دی مژدہ شُو‘ دیکھنے کے بعد ان کے شوہر نے ان کے بچوں کو مارنا بند کر دیا ہے اور یہاں تک کہ ان (خاتون) پر تشدد کرنا بھی۔
ایک اور خاتون نے بتایا کہ ’میرے شوہر ہماری 12 سالہ بیٹی کی شادی کرنے پر تُلے ہوئے تھے مگر ’دی مژدہ شو‘ دیکھنے کے بعد انھوں نے اپنا ارادہ ترک کر دیا۔‘
’نفرت اور مسترد‘
مگر ان کا پروگرام اس وقت زیر عتاب آیا جب انھوں نے اپنے پروڈیوسرز کے مشوروں کو نظر انداز کرتے ہوئے خواتین کے طلاق لینے کے حق کے حوالے سے ایک پروگرام کیا۔

،تصویر کا ذریعہGetty Images
’میں نے اسے محسوس کیا۔ میں نے اپنے لیے نفرت کو محسوس کیا۔ میں نے اپنے آپ کو مسترد ہوتا ہوا محسوس کیا۔ مجھے معلوم تھا کہ میں بہت آگے نکل گئی تھی۔‘
پروگرام کا یہ موضوع انھوں نے اس وقت چُنا جب انھوں نے یہ رپورٹ پڑھی کہ افغانستان میں ایک برس میں 103 شادی شدہ افغان خواتین نے اپنے آپ کو جلا کر ہلاک کر دیا۔
ان میں سے بہت سی خواتین نے صرف اپنی زندگی کا خاتمہ اس لیے کیا تھا کیونکہ وہ اپنی غیر مطمئن شادی شدہ زندگی سے چھٹکارا چاہتی تھیں اور ان کے پاس اپنی زندگی کے خاتمے کے علاوہ اور کوئی راہ فرار نہیں تھا۔
افغانستان میں اُس وقت بھی اور آج بھی اپنے شوہر کی مرضی کے بغیر خاتون کا طلاق حاصل کرنا بہت مشکل ہے اور مژدہ چاہتی تھیں کہ اس موضوع پر عوامی مباحثے کا آغاز ہو۔
’مجھے یہ کرنا تھا۔ کیونکہ مجھے معلوم تھا کہ (خواتین) اپنے آپ کو آگ کیوں لگا رہی تھیں۔‘
غیرموزوں پروگرام
مژدہ جمال زادہ نے اپنے اس پروگرام کو متوازن کرنے کی کوشش کی۔ انھوں نے اپنے پروگرام کے ابتدائیے میں طلاق کے حوالے سے ملک میں رائج روایات کی اہمیت کا اقرار کیا مگر اس کے بعد انھوں نے یہ بحث شروع کی کہ خاندان کی عزت سے کہیں زیادہ ایک خاتون کی جسمانی اور ذہنی صحت اہمیت کی حامل ہے۔

،تصویر کا ذریعہGetty Images
’میں نے پوچھا کہ ایک خاندان کیسے اپنی بیٹی کو ایسی صورتحال (غیر مطمئن ازدواجی زندگی) میں رکھنے پر آمادہ ہو سکتا ہے؟‘
اس سوال پر ان کے شُو میں موجود حاضرین کو بھی سانپ سونگھ گیا۔ انھوں نے حاضرین کو اس حوالے سے سوالات پوچھنے پر مجبور بھی کیا مگر دوسری طرف مکمل خاموشی چھا چکی تھی۔
’یہ سب سے تکلیف دہ شُو تھا۔ میرے ہر شو میں گانے ہوتے اور تالیاں بجتی مگر اس پروگرام میں سب کچھ الٹا ہو رہا تھا۔‘
یہ پروگرام نشر ہوا اور اس کے بعد ہنگامہ برپا ہو گیا۔
کابل چھوڑنا پڑا
اس پروگرام کے نشر ہونے تک مژدہ کے پاس کابل میں ایک محفوظ گھر اور بہت سے مسلح گارڈ تھے۔ ان کا خیال تھا کہ اس پروگرام کے نشر ہونے کے بعد پیدا ہونے والی ناموافق صورتحال پر وہ قابو پانے میں کامیاب ہو جائیں گی۔

مگر پھر اس ٹی وی کمپنی کے چیئرمین نے انھیں بتایا کہ ’وہ جتنی زیادہ سے زیادہ سکیورٹی فراہم کر دیں وہ انھیں محفوظ نہیں رکھ پائیں گے۔‘
چیئرمین نے انھیں کہا کہ وہ ملک چھوڑ دیں۔
مژدہ کہتی ہیں کہ ’میں نے ان کی بات مان لی۔ میں نے اپنے آپ کو شکست خوردہ محسوس کیا۔ پوری زندگی میں میں نے کبھی اتنا بُرا درد محسوس نہیں کیا تھا۔ میں ذہنی دباؤ کا شکار ہو گئی۔ وہ میری زندگی کا سب سے مشکل وقت تھا۔‘
وہ کینیڈا چلی گئیں اور وہاں پہنچنے پر انھیں معلوم ہوا کہ ان کی موت کی خبر ان سے پہلے وہاں پہنچ چکی ہے۔
’ٹی وی پر یہاں تک خبریں نشر ہو رہی تھیں کہ مجھے گولی مار کر ہلاک کر دیا گیا ہے۔ انھوں (ٹی وی چینلز) نے یہاں تک کہا کہ میرا سر میرے جسم سے جدا کر دیا گیا ہے اور میری ناک بھی کاٹ دی گئی ہے۔‘
مشکل بچپن
مگر یہ پہلا ایسا موقع نہیں تھا کہ انھیں ملک سے جان بچا کر بھاگنا پڑا ہو۔

،تصویر کا ذریعہMozhdah Jamalzadah
لاکھوں افغان باشندوں کی طرح مژدہ جمال زادہ نے بھی موت اور تباہی کو قریب سے دیکھا ہے۔
جمال زادہ نے بی بی سی کو بتایا کہ ’میں اپنے کزنز کے ساتھ کھیتوں میں کھیل رہی ہوتی تھی جب اچانک ہمیں راکٹ کے دھماکوں کی آوازیں سنائی دیتیں۔‘
بچپن میں بھی انھیں دھمکیوں اور تشدد کی ثقافت کا سامنا کرنا پڑا تھا۔
’میری والدہ ہمیں لگاتار متنبہ کرتی تھیں کہ کھڑکیوں سے دور رہو۔ مجھے معلوم تھا کہ اگر کچھ ہوا تو اس کے نتائج کیا ہو سکتے تھے۔‘
مژدہ کے والد کو، جو کہ یونیورسٹی کے ایک مشہور ٹیچر تھے، اپنے ذرائع سے معلوم ہوا کہ ان کی زندگی کو افغانستان خطرہ ہے اور یہ وہ وقت تھا جب ان کے خاندان نے مجبوراً اپنا ملک چھوڑا۔
مژدہ، ان کے والدین اور دو چھوٹے بھائیوں نے پہلے ہمسایہ ملک پاکستان میں پناہ لی اور بعد ازاں انھیں کینیڈا میں پناہ مل گئی۔
اوپرا کی مداح
اپنی نوعمری میں مژدہ امریکی ٹی وی پروگرام ’دی اوپرا ونفری شو‘ کی زبردست مداح بن گئیں۔ یہ کہیے کہ انھیں یہ پروگرام دیکھنے کی لت پڑ گئی۔

،تصویر کا ذریعہMozhdah Jamalzadah
اوپرا ونفری کو ’تمام میڈیا کی ملکہ‘ کہا جاتا تھا۔ ان کے پروگرامز میں سماجی مسائل اور خود کو بہتر بنانے جیسے موضوعات زیر بحث آتے ہیں۔
جمال زادہ کو موسیقی میں بھی دلچسپی تھی اور انھوں نے موسیقی کی تربیت حاصل کرنا شروع کی۔ چند ہی برس میں انھیں نے اپنے گانے یو ٹیوب پر پوسٹ کرنا شروع کر دیے۔
اپنے گانے ’افغان گرل‘ نے انھیں مشہور کر دیا اور اس کے بعد انھیں زبردست مواقع میسر آئے۔
سنہ 2009 میں مژدہ، جب وہ 25 سال کے لگ بھگ تھیں، اپنی والدہ کے ہمراہ واپس افغانستان کے دارالحکومت کابل آ گئیں۔ انھیں ایک ٹی وی چینل ’ون ٹی وی‘ کی جانب سے ایک پروگرام کی میزبانی کے فرائض سرانجام دینے کے لیے مدعو کیا گیا تھا۔
’کیا تم لوگوں کو معلوم ہے کہ اوپرا کون ہے؟‘
مژدہ کہتی ہیں کہ ’مجھے ایسا لگا جیسے میں کسی ٹی وی پروگرام کی میزبانی کروں گی۔ یہ بہت اچھی بات تھی۔ مگر پھر اچانک میری والدہ میرے کمرے میں آئیں اور کہا کہ کیا میں کچھ کہہ سکتی ہوں۔‘

پھر ان کی والدہ نے ٹی وی کے ایگزیکٹیوز سے پوچھا کہ ’کیا تم لوگ اوپرا کو جانتے ہو؟‘
یہ ایک ڈرامائی دخل اندازی تھی۔
اسے قسمت کہیے کہ چینل کے ایگزیکٹیوز اوپرا ونفری کو بہت اچھے سے جانتے تھے کیونکہ ان کا تعلق امریکہ اور برطانیہ سے تھا جہاں اوپرا ایک جانا پہچانا نام ہے۔
یہ ’دی مژدہ شو‘ کی ابتدا تھی۔
اس پروگرام کی ابتدا میں بچوں کے خلاف تشدد کے موضوعات پر توجہ مرکوز کی گئی۔
اوپرا شو سے متاثر مژدہ جمال زادہ چاہتی تھیں کہ وہ ان موضوعات پر بھی کھل کر بات کریں جو خواتین سے متعلق ہیں۔
مگر یہ ان کی بدقسمتی تھی کہ افغان معاشرہ ان مباحثوں کے لیے بالکل تیار نہیں تھا جو امریکی ٹی وی پر بہت عام ہیں۔
اپنے ہیرو سے ملاقات
اگرچہ ان کا پروگرام بند ہو گیا مگر ان کی بین الاقوامی اپیل بالکل متاثر نہ ہوئی۔

،تصویر کا ذریعہGetty Images
پروگرام بند ہونے کے چند روز بعد انھیں اوپرا ونفری کے آخری پروگرام میں شامل ہونے کا دعوت نامہ موصول ہوا۔
اپنے بچپن کے خواب کو پا لینے اور ہالی وڈ سٹار جیسا کہ ٹام کروز سے ملنا ان کے کرب میں کمی کا باعث بنا۔
تھوڑے وقفے کے بعد وہ واپس افغانستان گئیں اور ایک سال تک ایک اور ٹیلینٹ شو کی میزبانی کی۔ مگر پھر آہستہ آہستہ انھیں محسوس ہوا کہ افغانستان کے شدید گہرے سماجی عقائد کو بدلنا ایک بڑا چیلنج ہے۔
’افغانستان کسی زمانے میں اسلامی ممالک میں سب سے آزاد خیال ملک تھا۔ ایک وقت وہ تھا جب کابل کو ایشیا کا پیرس کہا جاتا تھا۔ ایک وقت تھا کہ خواتین مِنی سکرٹس پہنتی تھیں۔ میں نے فیصلہ کیا کہ میں لوگوں کو وہ وقت یاد دلاؤں۔‘
سنہ 2018 میں جاری کردہ اقوام متحدہ کی ایک رپورٹ میں بہت ہی پیچیدہ صورتحال کی عکاسی کی گئی۔ اس رپورٹ کے مطابق ’عورتوں کے خلاف تشدد، قتل، اعضا کاٹنا، بچوں کی شادی، جھگڑے نمٹانے کے عوض خواتین دینا۔۔ اور دیگر بہت سے اسی نوعیت کی کارروائیاں پورے افغانستان میں پھیلی ہوئی ہیں۔۔۔ اسے کے باوجود کہ حکومت کی جانب سے ان تمام کارروائیوں کو خلاف قانون قرار دیا گیا ہے اور یہ قابل سزا ہیں۔‘
پیغام جاری رہے گا
مژدہ اکثر افغانستان واپس جاتی ہیں جہاں وہ میوزک کنسرٹس میں اپنے فن کا مظاہرہ کرتی ہیں۔

،تصویر کا ذریعہMozhdah Jamalzadah
وہ اپنی کامیابیوں کو اپنے خاندان کی سپورٹ کا مرہون منت قرار دیتی ہیں۔
’دی مژدہ شو‘ کے بارے میں ان کا خیال ہے کہ اس پروگرام نے معاشرے پر اپنا اثر چھوڑا ہے مگر اس پروگرام کو کھو دینا ان کے لیے اب بھی تکلیف کا باعث ہے۔ مگر وہ ہمیشہ افغان خواتین کو بااختیار بنانے کا سلسلہ جاری رکھے ہوئے ہیں۔
رکاوٹوں کے باوجود وہ پرامید ہیں کہ وہ اپنا پیغام سوشل میڈیا کے ذریعے پھیلاتی رہیں گی۔
’میں انھیں (دقیانوسی سوچ کے حامل افراد) جیتنے نہیں دے سکتی۔‘











