قاسم سلیمانی کی موت پر ایرانیوں کے کیا خیالات: ایک متحد ملک یا ’سٹاک ہوم سنڈروم کا شکار لوگ‘؟

صرف دو ماہ پہلے اس کی جھلک تک دیکھنا ممکن نہیں تھا کہ ایران میں کیا ہو رہا ہے۔ آج کی طرح نومبر میں بھی ہزاروں افراد ملک بھر میں سڑکوں پر نکلے تھے۔

نومبر سے اب تک کیا بدلا ہے؟

آج کی طرح اُس وقت ایرانی عوام فوجی کمانڈر کی موت پر سوگ نہیں منا رہے تھے بلکہ وہ موجودہ حکومت کے خلاف مظاہرے کر رہے تھے۔

سردیوں کے آغاز پر ہی تیل کی قیمتوں میں 200 فیصد اضافے نے لوگوں کو مشتعل کر دیا تھا۔

کئی ایرانیوں کو خوراک اور دواؤں کی کمی کا سامنا کرنا پڑا اور وہ امریکی پابندیوں کے باعث معاشی بدحالی کا سامنا بھی رہا ہے۔

ملک بھر کے سینکڑوں شہروں اور قصبوں میں ہونے والے مظاہروں کو روکنے کے لیے انٹرنیٹ پر کنٹرول رکھنے والی حکومت نے ایک ہفتے تک مکمل بلیک آؤٹ کیے رکھا۔

یہ بھی پڑھیے

لیکن رواں ہفتے سلیمانی کی جنازے کے دوران لوگ سڑکوں پر امڈ آئے۔ اور یہ تیل کی قیمتوں میں اضافے کے باعث ہونے والے مظاہروں سے محض دو مہینے بعد کا وقت ہے۔

قاسم سلیمانی ایران کے طاقتور ترین فوجی کمانڈر تھے۔ وہ پاسدارانِ انقلاب کی قدس فورس کے سربراہ تھے اور عرب دنیا میں ان کا بہت اثر و رسوخ تھا۔ وہ عراق کی جنگ کے ساتھ بھی منسلک تھے اور انھوں نے دولتِ اسلامیہ کے خلاف جنگ بھی لڑی۔ اس کے علاوہ وہ شام اور یمن کی لڑائیوں میں بھی شامل رہے۔

تہران یونیورسٹی میں انگریزی کے پروفیسر ڈاکٹر سید مرندی کا کہنا تھا ’سلیمانی کے قتل سے امریکہ نے ایرانیوں کو متحد کر دیا۔ تہران کی سڑکوں پر لاکھوں لوگ ہیں۔ یہ غیر معمولی ہے۔‘

تاہم سوشل میڈیا پر اختلاف رائے موجود ہے کئی ایرانی ایک دوسرے کو ’سٹاک ہوم سینڈروم‘ کا شکار قرار دے رہے ہیں کیونکہ وہ ایک جارح کو ہیرو بنا رہے ہیں۔

ایرانی ٹوئٹر اور انسٹا گرام پر کیا کہہ رہے ہیں؟

بی بی سی فارسی سروس کے سروش پاکزاد کا کہنا ہے کہ پیشتر عام ایرانی باشندوں نے اپنے ٹوئٹر اور انسٹا گرام پر سلیمانی کی تصاویر پوسٹ کر کے سوگ کا اظہار کرنا شروع کر دیا۔

لیکن وہ لوگ کو جنرل کی تعریف کر رہے ہیں یا انھیں ہیرو قرار دے رہے ہیں، حتیٰ کے ان لوگوں نے بھی جو ایرانی حکومت کے حامی نہیں ہیں ٹوئٹر پر ایک طوفان برپا کر دیا ہے ، وہ ایک دوسرے سے اختلاف کرتے اور ایک دوسرے کو بلاک اور ان فالو کر رہے ہیں۔

پانیز کے نام سے ایک خاتون کا کہنا تھا ’میرے خیال میں سلیمانی ایسے انجام کا حق دار نہیں تھے۔ انھوں نے ایران کے لیے بہت کچھ کیا، اپنے ملک کے تحفظ کے لیے۔ انھوں نے داعش اور طالبان سے لڑائی کی۔‘

’ہمارے دشمن گذشتہ چار سال سے ہمارے ملک پر حملے کر رہے ہیں اور انھوں نے ملک کو بچانے کی کوشش کی ہے۔‘

سپیدار نے سٹاک ہوٹ سیڈروم کی تفصیل پر مبنی ویکیپیڈیا صفحہ پوسٹ کیا اور لکھا ’جب آپ اپنے تفتیشی افسر کو ہیرو سمجھنا شروع کر دیں کیونکہ آپ یہ سمجھنے لگتے ہیں کہ آپ کی قید اور اس کا روزانہ کا تشدد آپ کو محفوظ رکھے ہوئے ہے۔‘

لیکن شایان ثابت اور کئی دوسرے صارفین نے سٹاک ہوم سینڈروم والے خیال سے اختلاف کیا۔ ان کا کہنا تھا ’قاسم سلیمانی نے ایک سچے محب وطن کی طرح اپنے وطن اور اس کی سرحدوں کی حفاظت کی۔ ہم اپنی مٹی کی بات کر رہے ہیں۔ ہم ایران کے لوگوں کی زندگی کی بات کر رہے ہیں جو ایک خطرناک علاقے میں رہتے ہیں۔ محب وطن بنو اور اپنی آنکھیں کھولو۔‘

ملک کے اندرونی اختلافات اور مظاہروں کے جواب میں گرفتاریوں اور ظالمانہ کریک ڈاؤن کی حمایت کرنے اور پھر شام، عراق اور یمن کے غیر ملکی تنازعات میں ملوث ہونے کی وجہ سے سلیمانی ایک اختلافِ رائے کا سبب بننے والے شخصیت بن چکے تھے۔

امریکی کی جانب سے عائد پابندیوں کے باعث بتدریج بڑھتے ہوئے دباؤ کے تحت ایرانی معیشت کے پیشِ نظر پاکزاد کہنا تھا کچھ ایرانی اس بات پر ناراض تھے کہ سلیمانی ایرانی عوام کا پیشے ملک سے باہر خرچ کر رہے ہیں جو مزید پابندیوں اور کمسپری کا باعث بن رہا ہے۔‘

ایک ٹوئٹر صارف حمید رضا کا کہنا تھا ’میں اس دلیل کو نہیں مانتا کہ قاسم سلیمانی (بطور قدس فورس کے کمانڈر) خارجہ امور اور پالیسیز سے نمٹ رہے تھے اور ان کا ملک میں عام ایرانی کو دبائے جانے سے کوئی تعلق نہیں۔ سلیمانی انہی (حکومت) میں سے ہیں اور اگر ہم اس جابر حکومت کے خلاف ہیں تو ہم ہر اس فرد کے خلاف ہیں جو اس کا حصہ ہے۔‘

ایرانی ’تضاد‘

ٹوئٹر صارف مسعود کا کہنا تھا کئی ایرانی عوام متضاد جذبات کا شکار ہیں۔

ان کا ٹوئٹر پوسٹ میں کہنا تھا ’مجھے افسوس کے ساتھ کہنا پڑ رہا ہے ایران میں بیشتر لوگ تضاد کا شکار ہیں۔‘

ایران میں جو کچھ ہو رہا ہے اس کے لیے یہ لوگ حکومت اور رہبر اعلی کو الزام دے رہے تھے اور کہہ رہے تھے کہ ان کا لیڈر ظالم ہے لیکن آج وہ قاسم سلیمانی کو سوگ منا رہے ہیں جو کہ اسی ظالم رہنما کا دائیاں بازو تھا تو وہ اسے ہیرو کیسے کہہ سکتے ہیں۔‘

’ایک آمر کا شراکت دار اور دائیاں بازو کبھی ہیرو نہیں ہو سکتا۔‘

حشمت علوی جیسے کئی دوسرے ایرانی امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کا فضائی حملے کے لیے شکریہ ادا کر رہے ہیں۔‘

ان کا مزید کہنا تھا کہ وہ کافی عرصے سے اتنا خوش نہیں ہوئے جتنا اب ہوئے ہیں۔

لیکن سارہ کی طرح کئی لوگ اس سے اختلاف بھی کرتے ہیں ’مجھے ان لوگوں کی سمجھ نہیں آ رہی جو اس حملے کے لیے امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کا شکریہ ادا کررہے ہیں ارو یہس وال کر رہے ہیں کہ سلیمانی عراق اور شام میں کیا کر رہے تھے۔‘

’میں کہوں گی کہ اگر ایران کو ہمسایہ ممالک میں دخل اندازی نہیں کرنی چاہیے تو امریکہ دنیا کے دوسرے حصے سے آ کر یہاں اس خطے میں کیا کر رہا ہے؟‘

شیرون سٹون کی ٹویٹ

اس بارے میں امریکیوں کا بھی کچھ کہنا ہے۔

ان میں اداکارہ شیرون سٹون کی ایک ٹویٹ پر چار لاکھ پچیس ہزار لائکس ملے جبکہ 700 افراد نے اسے ری ٹویٹ کیا۔ انھوں نے قاسم سلیمانی کے جنازے کی ویڈیو ٹویٹ کی اور کہا ’آپ اس کا اس کے بارے میں کیا خیال ہے۔‘