آپ اس وقت اس ویب سائٹ کا ٹیکسٹ پر مبنی ورژن دیکھ رہے ہیں جو کم ڈیٹا استعمال کرتا ہے۔ مرکزی ویب سائٹ جہاں تمام تصاویر اور ویڈیوز موجود ہیں دیکھیے
جنرل قاسم سلیمانی: پاسدارانِ انقلاب کی قدس فورس کے سربراہ امریکی حملے میں ہلاک، ایران کا بدلہ لینے کا اعلان
ایرانی پاسدارانِ انقلاب کی قدس فورس کے سربراہ جنرل قاسم سلیمانی کی عراق میں امریکی افواج کے فضائی حملے میں ہلاکت کے بعد ایران نے کہا ہے کہ اس اقدام کا بدلہ لیا جائے گا۔
62 سالہ قاسم سلیمانی کو بغداد کے ہوائی اڈے پر ان کی کار میں ایک فضائی حملے میں نشانہ بنایا گیا۔ ان کے ہمراہ کار میں ایران کی حمایت یافتہ ملیشیا کے عراقی کمانڈر بھی موجود تھے۔
پاسدارانِ انقلاب کی جانب سے قاسم سلیمانی کی ہلاکت کی تصدیق کر دی گئی ہے جبکہ امریکی محکمۂ دفاع نے کہا ہے کہ انھیں صدارتی حکم پر نشانہ بنایا گیا۔
جنرل سلیمانی کا ایرانی حکومت میں ایک کلیدی کردار تھا۔ ان کی قدس فورس صرف رہبرِ اعلیٰ آیت اللہ علی خامنہ ای کو جوابدہ ہے اور انھیں ملک میں ایک ہیرو تصور کیا جاتا تھا۔
یہ بھی پڑھیے
End of سب سے زیادہ پڑھی جانے والی
آیت اللہ علی خامنہ ای نے اپنے ردعمل میں قاسم سلیمانی کی ہلاکت کا بدلہ لینے کا اعلان کیا ہے۔ انھوں نے قاسم سلیمانی کی ہلاکت پر تین دن کے سوگ کا بھی اعلان کیا ہے۔
ادھر عراق کا کہنا ہے کہ امریکی کارروائی اس کی ’سالمیت کی صریح خلاف ورزی اور ملک کے وقار پر کھلا حملہ ہے۔‘
ایران نے جنرل سلیمانی کی جگہ بریگیڈیئر جنرل اسماعیل قانی کو قدس فورس کا نیا سربراہ تعینات کیا ہے۔
جنرل قاسم سلیمانی کی امریکی حملے میں ہلاکت ایک ایسے وقت میں ہوئی ہے جب بغداد میں چند روز قبل ایران نواز گروہوں کی جانب سے امریکی سفارت خانے پر دھاوا بولا گیا تھا۔
جنرل سلیمانی کی امریکی حملے میں ہلاکت کے بعد تیل کی عالمی قیمتوں میں چار فیصد کا اضافہ دیکھا گیا ہے اور مبصرین کے خیال میں ان کی موت پر ایران کی جانب سے شدید ردعمل سامنے آنے کا امکان ہے جس سے خطے کی کشیدگی میں مزید اضافہ ہو گا۔
بغداد کے ہوائی اڈے پر حملہ
امریکی ذرائع ابلاغ کے مطابق جنرل قاسم سلیمانی اور ایران نواز ملیشیا کے ارکان دو گاڑیوں میں بغداد کے ہوائے اڈے سے نکل رہے تھے جب ان کو امریکی ڈرون نے نشانہ بنایا۔
اطلاعات کے مطابق جنرل سلیمانی لبنان یا شام سے بغداد پہنچے تھے۔ امریکی ڈرون نے گاڑیوں پر کئی میزائل برسائے اور خیال کیا جا رہا ہے کہ اس حملے میں پانچ افراد ہلاک ہوئے ہیں۔
ایرانی پاسدارانِ انقلاب کے مطابق عراقی ملیشیا کے کمانڈر ابو مہدی المہندس بھی ہلاک ہونے والوں میں شامل ہیں۔
امریکی محکمۂ دفاع کی جانب سے جاری ہونے والے بیان میں کہا گیا کہ ’امریکی افواج نے صدارتی حکم پر بیرون ملک امریکی اہلکاروں کے تحفظ کے غرض سے جنرل قاسم سلیمانی کو ہلاک کر دیا ہے۔‘
بیان میں کہا گیا ہے کہ ’یہ حملہ ایران کے مستقبل کے منصوبوں کو ناکام بنانے کے لیے ضروری تھا۔ امریکہ اپنے شہریوں اور اپنے مفادات کے تحفظ کے لیے ہر ضروری قدم لینے کے لیے تیار ہے۔‘
ایران، عراق کا ردعمل
ایران کے رہبرِ اعلیٰ آیت اللہ علی خامنہ ای نے جنرل قاسم سلیمانی کی ہلاکت کے بعد اپنے بیان میں کہا ہے کہ ’سخت انتقام ان مجرموں کا منتظر ہے جنھوں نے (سلیمانی) اور دیگر شہیدوں کے خون سے گذشتہ رات اپنے ہاتھ رنگے ہیں۔‘۔
ایران کے وزیر خارجہ جواد ظریف نے اپنے بیان میں امریکی اقدام کو ’عالمی دہشت گردی‘ قرار دیا اور کہا کہ وہ اور ان کی قدس فورس خطے میں نام نہاد دولتِ اسلامیہ، النصرہ اور القائدہ سمیت دیگر تنظیموں سے لڑنے والی سب سے مؤثر قوّت تھی۔
پاسدارانِ انقلاب کے سابق کمانڈر محسن رضاعی نے کہا ہے کہ ’ایران امریکہ سے شدید بدلہ لے گا۔‘ ادھر ایرانی حکومت کے ترجمان کا کہنا ہے کہ اس مجرمانہ حملے پر بحث کے لیے ملک کی سلامتی کے سب سے اہم ادارے کا اجلاس جلد ہو گا۔
امریکی صدر ٹرمپ نے جنرل سلیمانی کی ہلاکت کے بعد اپنے ٹوئٹر اکاؤنٹ پر امریکی جھنڈے کی تصویر بھی لگائی، جس کے ردِ عمل میں کئی ایرانی سوشل میڈیا صارفین اپنے اکاؤنٹس سے بھی ایرانی جھنڈے کی تصویریں شیئر کر رہے ہیں۔
عراق کے وزیراعظم کے دفتر کی جانب سے ٹوئٹر پر جاری کیے گئے سلسلہ وار بیانات میں ایرانی جنرل قاسم سلیمانی اور عراقی فوجی کمانڈر ابو مہدی مہندس کے قتل کی مذمت کرتے ہوئے کہا گیا ہے کہ ’ یہ دونوں داعش کے دہشت گردوں کے خلاف فتح کے استعارے تھے۔‘
عراقی وزیراعظم کا یہ بھی کہنا ہے کہ ’ایک سرکاری عہدے پر فائز عراقی فوجی کمانڈر کا قتل عراقی ریاست، عوام اور حکومت کے خلاف جارحیت ہے اور عراقی سرزمین پر عراقی یا ایک برادر ملک کی قیادت کی ہلاکت کی کارروائیاں ملک کی سالمیت کی صریح خلاف ورزی اور ملک کے وقار پر کھلا حملہ ہے۔‘
بیان کے مطابق اس صورتحال پر غور کے لیے عراقی پارلیمان کا ہنگامی اجلاس طلب کر لیا گیا ہے تاکہ ملک کی سالمیت، سلامتی اور خودمختاری کے تحفظ کے لیے مناسب اقدامات اور قانون سازی کی جا سکے۔
’اس قدم سے مشرقِ وسطیٰ کی کشیدگی کو بڑھاوا ملے گا‘
جیریمی بوین، بی بی سی کے مدیر برائے مشرقِ وسطیٰ
قاسم سلیمانی کی ہلاکت دراصل امریکہ کے سب سے ہٹ دھرم اور موثر دشمن کا خاتمہ ہے اور اسلامی جمہوریہ ایران کے دل پر وار ہے۔ تاہم یہ ایک ایسے خطے میں خطرناک کشیدگی کو بڑھاوا دے گا جہاں پہلے ہی تناؤ کی کیفیت اور تشدد عروج پر ہے۔ ساتھ ہی ایران نے اس حملے کا بدلہ لینے کی ٹھان لی ہے۔
امریکہ اور ایران کے درمیان کشیدگی پہلے سے ہی ایک ایسی جنگ کی مانند ہے جو پسِ پردہ لڑی جا رہی تھی تاہم اب یہ ایک کھلم کھلا جنگ ہے۔
جمعے کے روز سلیمانی اور ان کے ایک قریبی عراقی حامی بغداد ایئرپورٹ پر ہلاک ہوئے۔ امریکہ نے اس کارروائی کو فیصلہ کن دفاعی کارروائی قرار دیا اور امریکی محکمہ دفاع پینٹاگان نے کہا ہے کہ قاسم سلیمانی امریکی سفارت کاروں اور اہلکاروں پر مزید حملوں کی منصوبہ بندی کر رہے تھے۔
برسوں سے امریکہ اور اس کے اتحادی اسرائیل اور مغربی ممالک میں سلیمانی کی تقل و حرکت پر نظر رکھے ہوئے تھے۔
یہ ممکن ہے کہ وہ پہلے بھی ان کے نشانے پر آئے ہوں۔ تاہم اس مرتبہ امریکہ کا حملہ کرنے کا فیصلہ اس بات کی جانب اشارہ ہے کہ صدر ٹرمپ کا خیال ہے کہ خطرہ مول لینے کے عوض ملنے والا انعام بڑا ہے۔ ان کا یہ بھی ماننا ہے کہ کیونکہ ایران تنہائی، معاشی پابندیوں اور حالیہ مظاہروں کے باعث اتنا کمزور ہو چکا ہے کہ یہ ردِعمل ظاہر کرے گا لیکن خطے میں اتنا بڑا خطرہ ثابت نہیں ہو گا۔
سلیمانی کے لیے انتہائی اہمیت کے حامل تھے۔ وہ تہران کے لیے منصوبہ بندی کرنے والوں میں سے تھے اور شاید انھوں نے ایسے اقدامات کی فہرست بھی بنائی ہو جو ان کی ہلاکت کی صورت میں لیے جانے چاہیئیں۔
ایرانی حکومت نے ان کی ہلاکت کا جواب دینے کا ایادہ کر رکھا ہے تاکہ یہ دکھایا جا سکے کہ سلیمانی نے جس ملک کا نام مشرقِ وسطیٰ میں اس کی سرحدوں کے باہر بنایا تھا، وہ اس کا دفاع بھی کر سکتے ہیں۔