آپ اس وقت اس ویب سائٹ کا ٹیکسٹ پر مبنی ورژن دیکھ رہے ہیں جو کم ڈیٹا استعمال کرتا ہے۔ مرکزی ویب سائٹ جہاں تمام تصاویر اور ویڈیوز موجود ہیں دیکھیے
ایران: قاسم سلیمانی کے جنازے میں بھگدڑ مچنے سے 50 افراد ہلاک اور 200 سے زیادہ زخمی
ایرانی حکام کا کہنا ہے کہ عراق میں امریکی حملے میں ہلاک ہونے والے ایرانی جنرل قاسم سلیمانی کی تدفین کے موقع پر بھگدڑ مچنے سے ہلاک ہونے والوں کی تعداد 50 سے بڑھ گئی ہے۔
حکام کا کہنا ہے کہ اس بھگدڑ میں 200 سے زیادہ لوگ زخمی بھی ہوئے ہیں۔
ایران کے فورینزک میڈیسن کے ڈائریکٹر جنرل عباس آمیان نے 50 سے زیادہ ہلاکتوں کی تصدیق کرتے ہوئے بتایا کہ لاشوں کی شناخت کا عمل جاری ہے اور مرنے والوں کی حتمی تعداد کا اعلان بعد میں کیا جائے گا۔
یہ بھگدڑ منگل کو قاسم سلیمانی کے آبائی شہر کرمان میں ان کے جنازے میں مچی جس میں بہت بڑی تعداد میں لوگ شریک تھے۔
ایرانی وزارتِ صحت کے ترجمان کیانوش جہانپور کا کہنا ہے کہ حادثے کے بعد تمام زخمیوں اور لاشوں کو ہسپتال منتقل کر دیا گیا ہے اور ہلاک شدگان اور زخمیوں میں خواتین، معمر افراد اور بچے بھی شامل ہیں۔
تاحال واضح نہیں کہ بھگدڑ کیوں اور کیسے مچی تاہم اس واقعے کے بعد قاسم سلیمانی کی تدفین کا عمل بھی ملتوی کر دیا گیا ہے۔ پاسدارانِ انقلاب کے ترجمان رمضان شریف نے کہا ہے کہ ’اب تدفین کسی اور دن ہو گی تاکہ شہدا کو عزت و توقیر کے ساتھ دفنایا جا سکے۔‘
یہ بھی پڑھیے
End of سب سے زیادہ پڑھی جانے والی
کرمان پولیس کے ڈائریکٹر جنرل حامد شمس الدین نے ان افواہوں کو مسترد کیا ہے کہ جنازے کے جلوس میں دہشت گردی کی کوئی کارروائی ہوئی ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ ’قاسم سلیمانی کے جنازے میں دہشت گردی کی کارروائی کی افواہ نظام کے دشمنوں کی سازش ہے۔‘
دارالحکومت تہران میں پیر کو ان کی نمازِ جنازہ میں لاکھوں افراد کی شرکت کے بعد ایران کے سرکاری ٹی وی پر دکھائے جانے والے مناظر کے مطابق منگل کو کرمان میں بھی سیاہ لباس پہنے ہوئے بڑی تعداد میں عوام انھیں خراج عقیدت پیش کرنے کے لیے جمع ہوئے۔
ایران کے سرکاری ٹی وی کے مطابق کرمان میں قاسم سلیمانی کے جنازے میں لاکھوں افراد شریک تھے۔
جنازے کے جلوس میں شریک افراد نے ایرانی پرچم اور قاسم سلیمانی کی تصاویر اٹھا رکھی تھیں اور وہ ’مرگ بر امریکہ‘ یا امریکہ مردہ باد اور ٹرمپ مردہ باد کے نعرے لگا رہے تھے۔
قاسم سلیمانی کو ایران میں ایک قومی ہیرو کا درجہ حاصل تھا اور انھیں ملک میں آیت اللہ خامنہ ای کے بعد سب سے طاقتور شخصیت سمجھا جاتا تھا۔
کرمان میں ان کے جنازے کے شرکا سے خطاب کرتے ہوئے ایرانی پاسدارانِ انقلاب کے سربراہ بریگیڈیئر جنرل حسین سلامی نے کہا کہ ایران قاسم سلیمانی کی موت کا بدلہ ’ان مقامات کو جلا کر لے گا جو انھیں (امریکیوں کو) بہت پسند ہیں۔‘
ان کا کہنا تھا کہ ’ہم اپنے دشمن سے کہتے ہیں کہ ہم بدلہ لیں گے۔ اگر انھوں نے اب کوئی قدم اٹھایا تو ہم ان کے پسندیدہ مقامات کو جلا دیں گے اور وہ جانتے ہیں کہ وہ مقامات کہاں ہیں۔‘
قاسم سلیمانی کی ہلاکت کا حکم امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے دیا تھا جبکہ ایران نے کہا ہے کہ وہ اپنے جرنیل کی ہلاکت کا بدلہ لے گا۔ ایران نے اس حملے کے بعد 2015 کے عالمی جوہری معاہدے سے بھی دستبردار ہو کر یورینیئم کی افزودگی کا عمل شروع کر دیا ہے۔
امریکہ نے ایران کے وزیر خارجہ جواد ظریف کو رواں ہفتے نیویارک میں اقوامِ متحدہ میں ایک اجلاس میں شرکت کے لیے ویزا جاری کرنے سے بھی انکار کیا ہے۔ بظاہر یہ قدم اس معاہدے کی خلاف ورزی ہے جس کے تحت غیرملکی حکام کو اقوامِ متحدہ کے صدر دفتر تک رسائی کی ضمانت دی جاتی ہے۔
تہران میں ایک پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے جواد ظریف نے کہا امریکہ نے قاسم سلیمانی کو قتل کر کے ’بہت بڑا جوا کھیلا اور اس کا حساب کتاب غلط ہو گیا ہے۔‘
ایرانی پارلیمان نے بھی ایک قرارداد منظور کی ہے جس کے تحت امریکی فوج اور محکمۂ دفاع کو دہشت گرد قرار دیا گیا ہے۔
تہران میں سیاہ پوشوں کا ہجوم جنازے میں شریک
پیر کو تہران میں جنرل سلیمانی کی نمازِ جنارہ ایران کے روحانی پیشوا آیت اللہ علی خامنہ ای نے پڑھائی تھی اور اس میں صدر حسن روحانی، چیف جسٹس ابراہیم رئیسی، پارلیمان کے سپیکر علی لاریجانی، قدس فورس کے نئے کمانڈر اسماعیل قانی سمیت اعلیٰ حکام بھی شریک ہوئے۔
جنرل سلیمانی کو جمعے کی صبح بغداد کے ہوائی اڈے کے باہر ایک ڈرون حملے میں ہلاک کر دیا گیا تھا۔ اس واقعے میں ان کے ساتھ موجود ایران نواز عراقی ملیشیا کتائب حزب اللہ کے کمانڈر ابومہدی مہندس سمیت پانچ افراد مارے گئے تھے۔
قاسم سلیمانی سمیت دیگر ہلاک شدگان کی میتیں سنیچر کو ایران کے صوبے خوزستان میں اہواز کے ہوائی اڈے پر لائی گئی تھیں جہاں اتوار کو لاکھوں افراد نے ان کے جنازے کے جلوس میں شرکت کی تھی۔
پیر کو تہران میں ان کے جنازے کے موقع پر بھی شہر کی شاہراہیں اور گلیاں سیاہ پوش لوگوں سے بھری ہوئی تھیں جنھوں نے ایرانی پرچم اٹھا رکھے تھے اور امریکہ مخالف نعرے لگا رہے تھے۔
تہران میں نمازِ جنازہ کی ادائیگی کے بعد جنرل سلیمانی کی میت قم لے جائی گئی جس کے بعد انھیں منگل کو ان کے آبائی شہر کرمان میں سپردِ خاک کیا جائے گا۔
جنازے کے موقع پر قاسم سلیمانی کی بیٹی زینب سلیمانی نے امریکہ کو خبردار کیا کہ اسے اس اقدام پر ’سیاہ دن‘ کا سامنا کرنا پڑے گا۔ ان کا کہنا تھا کہ ’خبطی ٹرمپ یہ نہ سمجھنا کہ میرے والد کی شہادت کے ساتھ سب کچھ ختم ہو گیا ہے۔‘
ایرانی صدر حسن روحانی نے قاسم سلیمانی کے اہلخانہ سے تعزیت کرتے ہوئے کہا ہے کہ ’امریکیوں کو اس بات کا ادراک نہیں کہ انھوں نے کیا سنگین غلطی کر دی ہے۔‘
ان کا کہنا تھا کہ ’ان کے خون کا بدلہ اس دن مکمل ہو گا جب خطے سے امریکہ کے گندے ہاتھ ہمیشہ کے لیے دور کر دیے جائیں گے۔‘
ایران کا ردعمل اب تک کیا ہے؟
ایران نے قاسم سلیمانی کی ہلاکت کے بعد امریکہ سے انتقام لینے کا اعلان کیا ہے۔
تاحال سرکاری طور پر ایران کی جانب سے کسی کارروائی کا اعلان نہیں کیا گیا ہے لیکن قاسم سلیمانی کی ہلاکت کے بعد سے عراق میں گرین زون جہاں امریکی سفارتخانہ واقع ہے، راکٹ حملوں کا نشانہ بن رہا ہے۔
اتوار کی شب بھی عراقی فوج نے تصدیق کی ہے کہ تین کتیوشا راکٹ گرین زون میں گرے جبکہ تین راکٹوں کا نشانہ بغداد میں جدیریہ کا علاقہ بنا۔ پولیس کے مطابق راکٹ حملوں میں چھ افراد مارے گئے ہیں۔
ایران نے اتوار کو ہی اعلان کیا ہے کہ وہ سنہ 2015 کے جوہری معاہدے کے تحت عائد کردہ پابندیوں کی مزید پاسداری نہیں کرے گا۔
ایران کی جانب سے جاری کردہ ایک بیان میں کہا گیا ہے کہ یورینیم افزودگی کی صلاحیت، مقدار، افزودہ کی گئی یورینیم کے ذخیرے، تحقیق اور پیداوار پر عائد حدود کی مزید پاسداری نہیں کی جائے گی۔
یہ فیصلہ تہران میں ہوئی ایرانی کابینہ کی میٹنگ کے بعد سامنے آیا ہے۔
گذشتہ جمعے کو عراق کے دارالحکومت بغداد میں امریکی افواج کے ڈرون حملے میں قدس فورس کے سربراہ جنرل قاسم سلیمانی کی ہلاکت کے بعد امریکہ اور ایران کے مابین کشیدگی اپنے عروج کو چھو رہی ہے۔