انڈیا میں پولیس افسر کے ’پاکستان چلے جائیں‘ کے بیان پر مودی اور یوگی حکومتیں آمنے سامنے

،تصویر کا ذریعہGetty Images
انڈیا میں سب سے بڑی ریاست اتر پردیش کے شہر میرٹھ کے ایس پی (سٹی) اکھلیش سنگھ کے ’پاکستان چلے جائیں‘ کے بیان کے بعد یوگی حکومت اور مودی سرکار میں کشیدگی نظر آ رہی ہے۔
ایک وائرل ویڈیو میں اکھلیش سنگھ یہ کہتے نظر آئے کہ ’یہ جو کالی اور پیلے رنگ کی پٹی باندھے ہوئے ہیں، ان سے کہہ دو پاکستان چلے جائیں۔‘
اس بیان پر تبصرہ کرتے ہوئے مرکزی وزیر برائے اقلیتی امور مختار عباس نقوی نے کہا کہ اگر یہ بیان واقعی دیا گیا ہے تو ان کے خلاف سخت اقدامات اٹھائے جانے چاہیے۔
جبکہ دوسری جانب اتر پردیش کے نائب وزیر اعلی کیشیو پرساد موریہ اس معاملے پر اکھلیش سنگھ کے ساتھ کھڑے نظر آ رہے ہیں۔
یہ بھی پڑھیے
End of سب سے زیادہ پڑھی جانے والی

،تصویر کا ذریعہGetty Images
ویڈیو میں ایسا کیا ہے؟
سوشل میڈیا پر وائرل ہونے والی ایک ویڈیو کے مطابق ایس پی (سٹی) میرٹھ اکھلیش سنگھ ایک گلی میں شہریت میں ترمیم کے قانون کے خلاف احتجاج کرنے والے مظاہرین کو منتشر کرتے نظر آ رہے ہیں۔
وہ گلی میں کھڑے لوگوں سے یہ کہتے ہوئے نظر آ رہے ہیں کہ ’یہ جو کالی اور پیلے رنگ کی پٹی باندھے ہوئے ہیں، ان سے کہہ دو پاکستان چلے جائیں۔۔۔ کھاؤگے یہاں کا، گاؤ گے کہیں اور کا۔۔۔؟‘
ویڈیو میں ان کا انداز کافی جارحانہ ہے اور وہ دھمکی آمیز لہجے میں متنبہ کر رہے ہیں۔

،تصویر کا ذریعہANI
ان کے ساتھ موجود دوسرے پولیس اہلکار بھی وہاں کھڑے لوگوں کے سامنے انتہائی جارحانہ انداز میں یہ کہتے ہوئے دیکھے جاتے ہیں کہ ’ایک سیکنڈ میں ہر چیز کالی ہوجائے گی، پٹی ہی نہیں زندگی بھی کالی ہوجائے گی۔‘
اس کے بعد اکھلیش سنگھ نے وہاں پر کھڑے لوگوں کو بہت ہی جارحانہ انداز میں انگلی دکھاتے ہوئے کہا: ’میں نے اس گلی کو یاد کر لیا ہے اور جب میں کچھ یاد کر لیتا ہوں تو نانی تک پہنچاتا ہوں۔‘
سنگھ کا بیان سامنے آنے کے بعد وہ اور ان کے افسران دفاعی انداز میں اتر آئے ہیں۔
سنگھ نے کہا: ’ہمیں دیکھ کر کچھ لڑکوں نے پاکستان زندہ باد کے نعرے لگائے اور بھاگنے لگے۔ میں نے ان سے کہا کہ اگر پاکستان زندہ باد کے نعرے لگاتے ہو اور انڈیا سے اتنی نفرت کرتے ہو کہ پتھر مارو گے تو پاکستان چلے جاؤ۔‘
سنگھ کے اس بیان کے بعد ان کے اعلی عہدیدار میرٹھ آئی جی پرشانت کمار نے سنگھ کا دفاع کرتے ہوئے کہا ہے کہ ’پتھراؤ ہو رہا تھا اور پڑوسی ملک کی حمایت میں نعرے بازی ہو رہی تھی۔ صورتحال بہت کشیدہ تھی۔
’اگر (حالات) عام ہوتے تو یہ الفاظ بہتر ہوتے۔ لیکن اس دن حالات حساس تھے۔ ہمارے افسران نے بہت زیادہ ضبط کا مظاہرہ کیا۔ پولیس کی طرف سے کوئی فائرنگ نہیں ہوئی۔‘

،تصویر کا ذریعہGetty Images
کسی کی حمایت، کسی کی مخالفت
اس کے بعد اتر پردیش کے نائب وزیر اعلی کیشو پرساد موریہ نے بھی پولیس افسر کے دفاع میں ایک بیان دیا۔
انھوں نے کہا: ’میرٹھ کے ایس پی کے بیان پر تنازعے کا کوئی جواز نہیں ہے۔ جہاں تک میں سمجھتا ہوں اس نے یہ بات تمام مسلمانوں سے نہیں کہی۔ جو لوگ پتھر پھینکتے ہوئے ہنگامہ کر رہے تھے، پاکستان زندہ باد کے نعرے لگا رہے تھے، انھوں نے ان کے لیے یہ کہا ہے۔‘
اس معاملے پر اگر اترپردیش کے نائب وزیر اعلی سے لے کر پورا سرکاری عملہ اپنے افسر کے دفاع میں کھڑا نظر آتا ہے۔
دوسری طرف اقلیتی امور کے مرکزی وزیر مختار عباس نقوی نے اس معاملے پر میرٹھ کے ایس پی کو آڑے ہاتھوں لیا ہے۔
مختار عباس نقوی نے پریس کانفرنس کے دوران کہا: ’اگر انہوں نے ویڈیو میں جو کہا ہے وہ سچ ہے تو یہ انتہائی قابل مذمت ہے۔ اور اگر یہ سچ ہے تو فوری طور پر ان کے خلاف سخت اقدامات اٹھائے جانے چاہیے۔‘

،تصویر کا ذریعہGetty Images
یوگی اور مودی سرکار آمنے سامنے کیوں؟
اس معاملے پر مرکزی اور اترپردیش حکومت کا موقف دیکھنے کے بعد سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ جب دونوں جگہ بی جے پی کی حکومت ہے تو پھر دونوں حکومتوں میں ایسا تضاد کیوں نظر آرہا ہے۔
بی بی سی نے اس مسئلے کو سمجھنے کے لیے سینئر صحافی نیرجا چودھری سے بات کی جو ایک طویل عرصے سے قومی سیاست پر گہری نظر رکھتی ہیں۔
نیرجا کا کہنا ہے کہ ’مختار عباس نقوی اور کیشو پرساد موریہ کے بیانات سننے کے بعد یہ سوال جائز ہے کہ یہاں اس قدر تضادات کیوں ہیں؟‘
نیرجا چودھری نے کہا: 'اس سے دو باتیں سامنے آتی ہیں۔ ایک یہ کہ شہریت کے ترمیمی قانون اور این آر سی کے خلاف ہونے والے مظاہروں سے نمٹنے کے لیے بی جے پی کے پاس کوئی واضح حکمت عملی نہیں ہے۔
’اس سے پہلے نریندر مودی نے این آر سی کے بارے میں کہا کہ ان کی حکومت میں ایسی کوئی بات نہیں ہوئی۔ لیکن ان کے اپنے وزیرداخلہ پارلیمنٹ میں یہ بیان دیتے ہیں کہ این آر سی ہوگا۔ وہ انٹرویو میں بھی یہ بات دہراتے ہیں. صدر نے بھی اپنے خطاب میں یہ بات کہی ہے۔‘
نیرجا نے کہا: ’اس کے علاوہ دوسری بات یہ ہے کہ کیا بی جے پی دانستہ طور پر دونوں طرح کی باتیں کر رہی ہے تاکہ ابہام کی کیفیت پیدا ہو سکے۔ کیوںکہ ایک ہفتہ تک چلنے والے احتجاج کے بعد نہ صرف انڈیا بلکہ پوری دنیا میں مسلمان، یونیورسٹی میں زیر تعلیم طلبا نے حکومت کے اس قانون کی مخالفت کی ہے۔
’ایسے میں اس قانون کے آنے کے بعد پوری دنیا میں حکومت کی شبیہہ کو نقصان پہنچا ہے۔ ایسے میں یہ امکان موجود ہے کہ بی جے پی عالمی برادری اور انڈیا میں بسنے والے لوگوں کے لیے مختلف بیان دے رہی ہے۔‘

،تصویر کا ذریعہGetty Images
کیا تضاد کی جڑ سیاست ہے؟
جب سے شہریت کے ترمیمی ایکٹ کے خلاف احتجاج شروع ہوئے اس کے بعد سے سوشل میڈیا سے لے کر سڑک تک اس کو ہندو مسلم تنازعے کی شکل دیے جانے کے اشارے مل رہے ہیں۔
اترپردیش کے وزیر اعلی یوگی آدتیہ ناتھ کی جانب سے جارحانہ رخ سے لے کر رام پور میں 28 افراد کے خلاف 14 لاکھ روپے سے زیادہ جرمانہ عائد کرنے کے معاملات سامنے آئے ہیں۔
ایسی صورتحال میں سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ کیا ان بیانات کے پیچھے کوئی سوچی سمجھی حکمت عملی ہے؟
سینیئر صحافی شرت پردھان کا خیال ہے کہ اس کا تعلق مغربی بنگال میں ہونے والے آئندہ انتخابات سے ہوسکتا ہے۔
وہ کہتے ہیں: ’شروع سے ہی اس مسئلے کا مرکز سیاسی رہا ہے۔ اس کے ذریعے ہندو ووٹ بینک کو منظم کرنے کی کوشش ہے۔ میرٹھ ایس پی سٹی اکھلیش سنگھ اس ویڈیو میں کسی ایک شخص کے لیے بات یہ نہیں کہتے ہیں۔ وہ اس علاقے میں کھڑے عام لوگوں کو انگلی دکھا کر بہت ہی جارحانہ انداز میں کھلی کھلی دھمکی دے رہے ہیں۔
’وہ مسلم معاشرے کے بارے میں براہ راست بات کر رہے ہیں۔ اور ایسا اس وقت تک نہیں ہو سکتا جب تک کہ انھیں حکومت کی جانب سے ایسے اشارے نہ ملے ہوں۔‘

،تصویر کا ذریعہGetty Images
اتر پردیش حکومت نے اپنے قیام کے ساتھ ہی پولیسنگ کے طریقہ کار سے متعلق سوالوں پر اپنے پولیس افسران کا دفاع کیا ہے کیونکہ یوپی حکومت کے تقریبا ’نصف تصادم‘ پر مختلف سطحوں پر سوالات اٹھائے گئے ہیں۔
خبر رساں ادارے پی ٹی آئی کے مطابق مغربی بنگال میں بی جے پی کی ریاستی شاخ کے جنرل سکریٹری سینتن باسو نے کہا کہ اگر بی جے پی اقتدار میں آتی ہے تو مغربی بنگال میں اترپردیش ماڈل پر عمل درآمد کیا جائے گا، پولیس کو کھلی چھوٹ دی جائے گی اور اگر مجرم سرنڈر نہیں کرتے تو انکاؤنٹر میں مارے جائیں گے۔
اب سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ کیا یوپی پولیس کے ایک افسر کی جانب سے اس طرح کے بیان کا دفاع کرتے ہوئے بی جے پی مغربی بنگال کے ووٹروں کو کسی قسم کا اشارہ دینا چاہتی ہے۔
شرت پردھان نے کہا کہ ’اس کا بہت شبہ ہے کیونکہ بی جے پی قائدین غیر دانستہ طور پر بیان نہیں دیتے ہیں۔ بی جے پی کے لیے مغربی بنگال کا انتخاب بہت اہم ہے۔ اور یہ ممکن ہے کہ مغربی بنگال میں وہ یہ پیغام دینا چاہتے ہیں کہ دیکھو، ہم نے یہ کام یوپی میں کیا ہے مغربی بنگال میں بھی ایسا ہی کرسکتے ہیں۔‘
دوسری جانب میرٹھ ایس پی سٹی کے خلاف حزب اختلاف کی مخالفت جاری ہے۔ ایسی صورت میں یہ وقت ہی بتائے گا کہ آیا مرکزی وزیر مختار عباس نقوی کے اشارے ملنے کے بعد بھی یوپی حکومت اپنے افسر کا دفاع جاری رکھے گی یا ان کے خلاف کوئی کارروائی کرے گی۔











