بابری مسجد کے انہدام کو سکول ٹیبلو کی شکل میں پیش کرنے پر سوشل میڈیا پر بحث

،تصویر کا ذریعہGetty Images
سوشل میڈیا پر گردش کرنے والی ایک ویڈیو میں انڈیا کی ریاست کرناٹک کے ایک سکول کی تقریب کے دوران ہزاروں طلبا کو بابری مسجد مسمار کرنے کے واقعے کو ایک ٹیبلو کی صورت میں پیش کرتے ہوئے دیکھا جا سکتا ہے۔
ویڈیو میں سفید قمیض اور نارنجی رنگ کی دھوتی پہنے ہوئے سکول کے سینکڑوں بچوں کو بابری مسجد کی ایک تصویر کی طرف دورڑتے اور پھر اس تصویر کو تباہ کرتے ہوئے دیکھا جا سکتا ہے۔ تصویر کو توڑنے کے بعد یہ بچے نہ صرف خوشی سے نعرے بلند کرتے ہیں بلکہ موم بتیاں اٹھا کر مجوزہ رام مندر کی تصویر بھی بناتے ہیں۔
اس تحریر میں ایسا مواد ہے جو X کی جانب سے دیا گیا ہے۔ کسی بھی چیز کے لوڈ ہونے سے قبل ہم آپ سے اجازت چاہتے ہیں کیونکہ یہ ممکن ہے کہ وہ کوئی مخصوص کوکیز یا ٹیکنالوجیز کا استعمال کر رہے ہوں۔ آپ اسے تسلیم کرنے سے پہلے X ککی پالیسی اور پرائیویسی پالیسی پڑھنا چاہیں گے۔ اس مواد کو دیکھنے کے لیے ’تسلیم کریں، جاری رکھیں‘ پر کلک کریں۔
X پوسٹ کا اختتام, 1
انڈین میڈیا کے مطابق شری رامہ ودیاکیندرا نامی یہ ہائی سکول انڈیا کی ہندو نظریاتی تنظیم راشٹریہ سویم سنگھ یعنی آر ایس ایس کے ایک رہنما پرابھارکر بھٹ کا ہے۔
سکول کی مذکورہ تقریب میں بی جے پی حکومتی نمائندوں نے، جن میں پڈوچیری کی گورنر کرن بیدی اور چند دیگر وزراء شامل ہیں، بطور مہمان خصوصی شرکت کی جبکہ کرن بیدی نے اس ٹیبلو کی تعریف کرتے ہوئے اس کی ویڈیو بھی ٹویٹ کی۔
یہ بھی پڑھیے
End of سب سے زیادہ پڑھی جانے والی
اس تحریر میں ایسا مواد ہے جو X کی جانب سے دیا گیا ہے۔ کسی بھی چیز کے لوڈ ہونے سے قبل ہم آپ سے اجازت چاہتے ہیں کیونکہ یہ ممکن ہے کہ وہ کوئی مخصوص کوکیز یا ٹیکنالوجیز کا استعمال کر رہے ہوں۔ آپ اسے تسلیم کرنے سے پہلے X ککی پالیسی اور پرائیویسی پالیسی پڑھنا چاہیں گے۔ اس مواد کو دیکھنے کے لیے ’تسلیم کریں، جاری رکھیں‘ پر کلک کریں۔
X پوسٹ کا اختتام, 2
اس ویڈیو کے سوشل میڈیا پر آنے کے بعد کچھ نے اس ویڈیو اور انڈین معاشرے میں بڑھتی ہوئی مذہبی انتہا پسندی پر تشویش کا اظہار کیا جبکہ کچھ نے اس کا دفاع کیا۔
اس تحریر میں ایسا مواد ہے جو X کی جانب سے دیا گیا ہے۔ کسی بھی چیز کے لوڈ ہونے سے قبل ہم آپ سے اجازت چاہتے ہیں کیونکہ یہ ممکن ہے کہ وہ کوئی مخصوص کوکیز یا ٹیکنالوجیز کا استعمال کر رہے ہوں۔ آپ اسے تسلیم کرنے سے پہلے X ککی پالیسی اور پرائیویسی پالیسی پڑھنا چاہیں گے۔ اس مواد کو دیکھنے کے لیے ’تسلیم کریں، جاری رکھیں‘ پر کلک کریں۔
X پوسٹ کا اختتام, 3
ایک ٹوئٹر صارف کا کہنا تھا کہ ’سپریم کورٹ نے رام مندر کے لیے زمین دی لیکن کورٹ نے بابری مسجد کے انہدام کو مجرمانہ اقدام قرار دیا۔ تو اس تناظر میں یہ سکول بچوں کو مجرمانہ کاروائیاں کرنا سکھا رہا ہے‘۔
اس تحریر میں ایسا مواد ہے جو X کی جانب سے دیا گیا ہے۔ کسی بھی چیز کے لوڈ ہونے سے قبل ہم آپ سے اجازت چاہتے ہیں کیونکہ یہ ممکن ہے کہ وہ کوئی مخصوص کوکیز یا ٹیکنالوجیز کا استعمال کر رہے ہوں۔ آپ اسے تسلیم کرنے سے پہلے X ککی پالیسی اور پرائیویسی پالیسی پڑھنا چاہیں گے۔ اس مواد کو دیکھنے کے لیے ’تسلیم کریں، جاری رکھیں‘ پر کلک کریں۔
X پوسٹ کا اختتام, 4
جبکہ گجندرا شرما کا کہنا تھا کہ آر ایس ایس کے زیر انتظام سکول ایک کھیل میں بچوں سے بابری مسجد کو مسمار کرواتا ہے۔ آگے کیا ہوگا؟ یہ سکھائیں گے کہ لوگوں کو ہجوم سے کیسے مروایا جائے؟ اینٹی رومیو (ہندو مسلمان شادی روکنے والا) گروپ میں شمولیت کیسے اختیار کی جائے؟ ہنگامے کیسے برپا کیے جائیں؟ ریپ کے ملزم ممبر پارلیمان کو کیسے بچایا جائے؟‘
انھوں نے کہا کہ 'کم سے کم ہمارے بچوں کو تو بخش دو۔'
اس تحریر میں ایسا مواد ہے جو X کی جانب سے دیا گیا ہے۔ کسی بھی چیز کے لوڈ ہونے سے قبل ہم آپ سے اجازت چاہتے ہیں کیونکہ یہ ممکن ہے کہ وہ کوئی مخصوص کوکیز یا ٹیکنالوجیز کا استعمال کر رہے ہوں۔ آپ اسے تسلیم کرنے سے پہلے X ککی پالیسی اور پرائیویسی پالیسی پڑھنا چاہیں گے۔ اس مواد کو دیکھنے کے لیے ’تسلیم کریں، جاری رکھیں‘ پر کلک کریں۔
X پوسٹ کا اختتام, 5
جبکہ ایک اور ٹوئٹر صارف کا کہنا تھا کہ بہت تکلیف ہوئی یہ دیکھ کر کہ ہمارے بچے تعمیر کے بجائے تباہ کرنا سیکھ رہے ہیں۔
لیکن چند صارفین نے ان اعتراضات کو رد کیا ہے۔
اس تحریر میں ایسا مواد ہے جو X کی جانب سے دیا گیا ہے۔ کسی بھی چیز کے لوڈ ہونے سے قبل ہم آپ سے اجازت چاہتے ہیں کیونکہ یہ ممکن ہے کہ وہ کوئی مخصوص کوکیز یا ٹیکنالوجیز کا استعمال کر رہے ہوں۔ آپ اسے تسلیم کرنے سے پہلے X ککی پالیسی اور پرائیویسی پالیسی پڑھنا چاہیں گے۔ اس مواد کو دیکھنے کے لیے ’تسلیم کریں، جاری رکھیں‘ پر کلک کریں۔
X پوسٹ کا اختتام, 6
نتھیا یوگی کا کہنا تھا کہ ’یہ صرف ایک کھیل ہے اور کھیل ایک آرٹ کی قسم ہے کیا اب اس ملک میں آرٹ کی بھی اجازت نہیں؟‘
اس تحریر میں ایسا مواد ہے جو X کی جانب سے دیا گیا ہے۔ کسی بھی چیز کے لوڈ ہونے سے قبل ہم آپ سے اجازت چاہتے ہیں کیونکہ یہ ممکن ہے کہ وہ کوئی مخصوص کوکیز یا ٹیکنالوجیز کا استعمال کر رہے ہوں۔ آپ اسے تسلیم کرنے سے پہلے X ککی پالیسی اور پرائیویسی پالیسی پڑھنا چاہیں گے۔ اس مواد کو دیکھنے کے لیے ’تسلیم کریں، جاری رکھیں‘ پر کلک کریں۔
X پوسٹ کا اختتام, 7
ایک اور ٹوئٹر صارف کا کہنا تھا کہ ’یہ اچھی بات ہے۔ ہماری آئندہ نسلوں کو بھی پتہ چلے کہ مسلمان حملہ آوروں نے ماضی میں کیا کِیا‘۔










