قراقرم: ترتوک وہ گاؤں ہے جس سے اس کا ملک چھین لیا گیا

،تصویر کا ذریعہDave Stamboulis
ترتوک تک رسائی آسان نہیں۔ یہ گاؤں انڈیا کے شمال میں لداخ کی دورافتادہ وادی نبرا میں واقع ایک چھوٹا سا گاؤں ہے۔
قراقرم کے پہاڑی سلسلے میں دریائے شیوک کے کنارے واقع اس گاؤں تک پہنچنے کا راستہ پتھریلی چٹانوں اور ایک ٹوٹی پھوٹی سڑک پر مشتمل ہے جو لیہ کے بلندوبالا دروں سے ہو کر گزرتی ہے۔
انتہائی حسین قدرتی نظاروں والے اس گاؤں کی تاریخ ان نظاروں سے کہیں دلچسپ اور ہنگامہ خیز ہے کیونکہ یہ وہ گاؤں ہے جس سے اس کا ملک چھین لیا گیا۔

،تصویر کا ذریعہDave Stamboulis
انڈیا کا بلتی گاؤں
جہاں لداخ کا بقیہ حصہ بودھ مت کے ماننے والے لداخی بلتیوں کا گڑھ ہے وہیں ترتوک بلتی مسلمانوں کا گاؤں ہے۔
بلتی تبتی نسل کے وہ لوگ ہیں جو زیادہ تر پاکستان میں سکردو کے علاقے میں مقیم ہیں۔
اس گاؤں کے باسی نوربخشی مسلمان ہیں جو بلتی زبان بولتے ہیں، پاکستان کا قومی لباس شلوار قمیض پہنتے ہیں اور ان میں چھ کلومیٹر دور سرحد پار بلتستان کے لوگوں سے بہت مماثلت ہے۔
درحقیقت ترتک 1971 تک پاکستان کا ہی حصہ تھا اور اس برس پاکستان کو انڈیا سے الگ کرنے والی متنازع لائن آف کنٹرول پر ہونے والی جنگ میں انڈین فوج نے اس پر قبضہ کر لیا تھا۔

،تصویر کا ذریعہDave Stamboulis
انڈیا نے سرحدی سلامتی کے خدشات کو وجہ قرار دیتے ہوئے پھر یہ گاؤں پاکستان کو واپس نہیں کیا۔ 1971 میں جنگ کے زمانے میں جو لوگ کام کاج کے سلسلے میں یا دوستوں رشتہ داروں سے ملاقات کے لیے گاؤں سے باہر تھے وہ کبھی واپس نہیں آ سکے اور برسوں تک انڈیا نے یہ صرف اس علاقے کو بند رکھا بلکہ اس پر کڑا کنٹرول قائم رکھا۔
End of سب سے زیادہ پڑھی جانے والی
پھر 2010 میں ترتوک کو سیاحوں کے لیے کھولا گیا جس کے بعد باہر کی دنیا کو اس انوکھے گاؤں اور یہاں کے باسیوں کی زندگی کے بارے میں علم ہوا۔
ترتوک کے باسیوں نے اپنے گاؤں کو حصار میں لیے قراقرم کے پہاڑوں کی چٹانوں سے اپنے گھر تعمیر کیے ہیں اور یہی چٹانی پتھر گلیوں اور آبپاشی کے راستوں کی تعمیر میں بھی استعمال کیے گئے ہیں۔

،تصویر کا ذریعہDave Stamboulis
ترتوک لداخ کے دیگر علاقوں کے مقابلے میں کم بلندی پر ہے۔
صرف 2900 میٹر کی بلندی پر ہونے کی وجہ سے یہاں موسمِ گرما شدید ہوتا ہے اور دیہاتیوں نے اپنے چٹانی ماحول کا استعمال کرتے ہوئے پتھریلے گودام بنائے ہیں جو ٹھنڈے رہتے ہیں اور انھیں گوشت اور مکھن سمیت ایسی اشیا ذخیرہ کرنے کے لیے استعمال کیا جاتا ہے جو گرمی سے خراب ہو سکتی ہیں۔
بلتی میں اسے نانگ چنگ یا سرد خانہ کہا جاتا ہے۔ ان پتھریلے بنکرز میں پتھروں کے درمیان خلا رکھا جاتا ہے جہاں سے ہوا گزرتی ہے اور باہر کے گرم موسم کے مقابلے میں ان بنکرز کو ٹھنڈا رکھتی ہے۔

،تصویر کا ذریعہDave Stamboulis
اس خطے کی بڑی فصل جو ہے کیونکہ اتنی بلندی پر صرف یہی اناج اگ پاتا ہے۔ ترتوک چونکہ کم بلندی پر واقع ہے اس لیے بلتی یہاں گندم کی ایک قسم کٹو یا ’بک ویٹ‘ اگاتے ہیں۔
انڈیا میں ملنے والی خوبانی اور اخروٹ زیادہ تر اسی علاقے سے لائے جاتے ہیں اور ترتوک اس کے لیے مشہور ہے۔
سارا سال اس علاقے کے کھیت یا تو بوئی ہوئی فصل یا کٹی ہوئی فصل کی گانٹھوں سے بھرے رہتے ہیں۔
قراقرم کے بھورے اور بنجر پہاڑوں کے درمیان یہ سرسبز کھیت ایک نخلستان کا منظر پیش کرتے ہیں۔

،تصویر کا ذریعہDave Stamboulis
انڈیا اور پاکستان کے درمیان کشمیر کے تنازعے کے باوجود ترتک میں زندگی پرسکون اور پرامن ہے۔ 1971 میں قبضے کے بعد انڈین حکومت نے یہاں کے دیہاتیوں کو شناختی کارڈ جاری کیے اور انھیں انڈین شہری بنا لیا گیا۔
حال ہی میں وادی نبرا کو جدت بخشنے کے لیے سڑکوں کی تعمیر اور ذرائع نقل و حمل کی فراہمی نے جہاں اس علاقے کو سیاحوں کی توجہ کا مرکز بنایا ہے وہیں خوشحالی نے بھی اس کے در پر دستک دی ہے۔
خوبانی کے باغ، نوربخشی مساجد، پتھریلے مکانات اور آبپاشی کے راستے اور ساتھ میں کیسر جیسے روایتی بلتی پکوان اس گاؤں کے اس کی بلتی جڑوں سے وابستہ ہونے کا احساس دلاتے ہیں۔

،تصویر کا ذریعہDave Stamboulis
یہ گاؤں خصوصاً موسمِ خزاں میں دیکھنے کے قابل ہوتا ہے جب قطاروں میں لگے پاپلر کے درختوں کے پتے رنگ بدلتے ہیں اور پتھریلے پس منظر میں کسی پینٹنگ کی مانند دکھائی دیتے ہیں۔
وادی نبرا میں جہاں دیگر لداخی دیہات میں پتھروں کا استعمال عام ہے لیکن یہ ترتوک کے مقابلے میں کچھ نہیں۔ ایک ایسے خطے میں جہاں زلزلے اور پہاڑی پتھر گرنے کے واقعات عام ہوں پتھروں کی بلتی دیواریں جم کر کھڑی رہتی ہیں۔

،تصویر کا ذریعہDave Stamboulis
یہ ایک ایسا علاقہ ہے جہاں کے باسیوں نے نہ صرف اپنے سخت اور مشکل ماحول میں جینا سیکھا ہے بلکہ وہ ترقی بھی کر رہے ہیں۔
پاکستان سے تعلق ٹوٹنے کے باوجود یہاں کے رہائشیوں کا ناتا اس ملک کی ثقافتی روایات سے نہیں ٹوٹا اور اب وہ مستقبل میں دنیا بھر سے سیاحوں کی آمد کے منتظر ہیں۔
تصاویر کے جملہ حقوق ڈیو سٹیمبولس کے نام محفوظ ہیں
(نوٹ: یہ خبر اس سے پہلے بھی 16 دسمبر 2019 کو بی بی سی اردو کی ویب سائیٹ پر شائع کی جا سکی ہے۔)








