آپ اس وقت اس ویب سائٹ کا ٹیکسٹ پر مبنی ورژن دیکھ رہے ہیں جو کم ڈیٹا استعمال کرتا ہے۔ مرکزی ویب سائٹ جہاں تمام تصاویر اور ویڈیوز موجود ہیں دیکھیے
ادھو ٹھاکرے: ریموٹ کنٹرول کی سیاست سے مہاراشٹرا کے وزیر اعلیٰ تک
- مصنف, گرپریت سینی
- عہدہ, بی بی سی نامہ نگار
بمبئی یعنی نئے نام کے بعد آج ممبئی۔ یہاں 1966 میں ہندو نظریاتی علاقائی جماعت شیو سینا وجود میں آئی۔ پارٹی کے بانی بال ٹھاکرے کا یقین تھا کہ ان کی ریاست مہاراشٹر میں نوجوانوں کے مفاد کا خیال رکھنا سب سے اہم کام ہے۔
2019 سے پہلے یا یہ سمجھیے کہ بال ٹھاکرے کے فرزند اُدھو ٹھاکرے سے قبل ٹھاکرے خاندان سے تعلق رکھنے والا کوئی بھی شخص کبھی وزیر اعلیٰ نہیں بنا۔
حالانکہ شیو سینا پارٹی کے دو وزرائے اعلیٰ منتخب ہوئے ہیں۔ ان میں سے ایک ہیں منوہر جوشی اور دوسرے نارائن رانا۔ لیکن ٹھاکرے خاندان کو کوئی بھی فرد تو کبھی کابینہ میں وزیر کے عہدے پر فائز رہا اور نہ ہی وزیر اعلیٰ کی کرسی پراور نہ ہی کسی سرکاری ادارے کا عہدیدار بنا۔
50 برس سے بھی پرانی اس پارٹی کا اقتدار سنبھالنے والے اس خاندان کے ادتیہ ٹھاکرے وہ پہلے شخص تھے جنہوں نے اتنخاب میں حصہ لیا۔ ان کے بعد اب ادھو ٹھاکرے وہ شخص ہیں جو مہاراشٹر کے وزیر اعلیٰ بنے ہیں۔
انھوں نے ممبئی کے شوا جی پارک میں وزیر اعلی کا حلف اٹھایا۔ وہی شوا جی پارک جسے ان کے والد بال ٹھاکرے اپنی سرزمین کہتے تھے۔
یہ بھی پڑھیے
End of سب سے زیادہ پڑھی جانے والی
اب یہ بات زیر بحث ہے کہ ٹھاکرے خاندان ابھی تک اقتدار سے دور کیوں تھا؟
سینیئر صحافی ثمر کھڑس کہتے ہیں کہ بال ٹھاکرے ہمیشہ اقتدار سے دور رہے کیونکہ ان کی سیاست کرنے کا 'سٹائل' یا طریقہ بالکل مختلف تھا۔ وہ اقتدار سے دور رہنے کے باوجود بھی 'پاور سینٹر' بنے رہیں۔
ثمر کھڑس مزید کہتے ہیں کہ 'بال ٹھاکرے جو کہتے تھے مہاراشٹر کی سیاست میں وہی ہوتا تھا۔ اقتدار میں بیٹھا اگر کوئی سیاست دان ان کی بات نہیں بھی مانتا تھا تو ان کو چاہنے والے اتنے لوگ تھے کہ وہ اپنی بات منوا لیتے تھے۔ اس لیے انہوں نے کبھی اقتدار نہیں سنبھالا۔‘
لیکن سینیئر صحافی سجاتا آنندن کہتی ہیں کہ ٹھاکرے خاندان اقتدار سے اس لیے دور رہا کیونکہ وہ اقتدار حاصل نہیں کرسکتا تھا۔
سجاتا کہتی ہیں کہ 'زیادہ سے زیادہ انہیں میونسپل سطح پر اقتدار حاصل تھا۔ لیکن وہاں ایک بار اقتدار حاصل کرنے کے بعد انہیں یہ سمجھ میں آگیا تھا کہ اقتدار کا مطلب ہوتا کیا ہے۔ اس لیے انہوں نے آج تک میونسپل سطح پر اقتدار کا دامن نہیں چھوڑا'۔
بعض ماہرین کا خیال ہے کہ یہی وجہ ہے کہ ایک وقت تھا کہ ممبئی بال ٹھاکرے کی مٹھی میں تھا۔
سجاتا مزید کہتی ہیں کہ 'مہاراشٹر اسمبلی تک پہنچنے کے لیے ٹھاکرے خاندان کو ایک زمانے میں اپنی اتحادی جماعت بھارتیہ جنتا پارٹی کی مدد لینی پڑی تھی۔ اس سے قبل ان کے اتنے ایم ایل اے منتخب ہوتے ہی نہیں تھے کہ وہ اقتدار کا حصہ بن سکیں۔ اور 90 کی دہائی کے میں جب بھارت کی سیاست کا روپ بدلا اور ہندو نظریاتی تنظیمیں زیادہ سیٹیں حاصل کرنے لگیں تب ان جماعتوں سے ہاتھ ملا کر شو سینا اقتدار کے قریب آئی'۔
ان کا مزید کہنا ہے کہ 50 سال پرانی پارٹی جس طرح 1967 میں کام کرتی تھی اب وہ 2019 میں اس طرح سے کام نہیں کرسکتی ہے۔ اس لیے ان کے کام کرنے کا طریقہ بدلا ہے۔ سیاست بدلی ہے۔ اور یہی وجہ ہے کہ اسی ٹھاکرے خاندان سے تعلق رکھنے والے ادھو ٹھاکرے اقتدار کے لیے تمام داؤ پیچ کھیل کر آج ریاست کے وزیر اعلیٰ بنے ہیں۔
اقتدار کا 'ریموٹ کنٹرول'
1995 میں مہاراشٹر میں جب پہلی بار مخلوط حکومت بنی تو شیو سینا کے منوہر جوشی وزیر اعلیٰ مقرر ہوئے۔ اس وقت بال ٹھاکرے نے کہا تھا کہ اس حکومت کا ریموٹ ان کے ہاتھ میں رہے گا۔
سجاتا آنندن بتاتی ہیں' بال ٹھاکرے نے کہا تھا کہ میں جس طرح چاہتا ہوں اس طرح حکومت کو چلاؤں گا۔ بہت حد تک انہوں نے ایسا کیا بھی۔ ایک بے حد متنازعہ کمپنی تھی ان دنوں میں، وہ وزیر اعلیٰ کے دفتر جاکر منوہر جوشی سے بات کرنے کے بجائے بال ٹھاکرے سے بات کر کے اپنے کانٹریکٹ پاس کراتی تھی۔ اس طرح حکومت کا ریموٹ کنٹرول بال ٹھاکرے کے پاس ہی تھا۔ سب کو معلوم تھا کہ وزیر اعلیٰ منوہر جوشی سے بات کرنے سے کچھ حاصل نہیں ہوگا'۔
سجاتا کا خیال ہے بال ٹھاکرے کے زمانے میں ممبئی اور تھانے شہر میں شیو سینا کا بہت خوف تھا۔ یہی وجہ تھی کہ بال ٹھاکرے کو اقتدار حاصل کرنے کی کوئی ضرورت ہی نہیں تھی۔ وہ اپنے تمام کام وزرائے اعلیٰ سے کروا لیتے تھے اور زبردستی کروا لیتے تھے۔'
لیکن گذشتہ 12-10 سالوں میں جب پارٹی کی کمان اُدھو ٹھاکرے نے سنبھالی تب انہوں نے پارٹی کو 'مینسٹریم پارٹی' بنانے کی کوشش کی۔
سجاتا کہتی ہیں کہ ادھو نے شیو سینا کی شبیہ کو بدلا ہے۔
وہ مزید کہتی ہیں کہ 'انہوں نے شیوسینا کو ایک طرح سے جنٹلمین کی پارٹی بنانے کی کوشش کی ہے۔ اس لیے اب انہیں اقتدار حاصل کرنے کے سارے صحیح اور سیدھے طریقے اپنانے پڑ رہے ہیں۔ مثال کے طور پر اتنخاب لڑنا، اسمبلی میں جانا، پارلیمان میں جانا۔ اب یہ سب کرنا ان کے لیے ضروری ہوگیا ہے'۔
مرکزی دھارے کی پارٹی
سجاتا آنندن کہتی ہیں کہ لوگ جتنا بال ٹھاکرے کی عزت کرتے تھے اور جتنا ان سے ڈرتے تھے ویسا اُدھو ٹھاکرے کے ساتھ نہیں ہے۔ اس لیے ادھو ٹھاکرے کے پاس کسی بھی سیاسی رہنما کا ریموٹ کنٹرول نہیں ہوسکتا۔ یہ ضروری تھا کہ ادھو ریاست کے وزیر اعلیٰ کا عہدہ سنبھالیں اور تب ریاست کی سیاست اپنے طریقے سے چلائیں۔
ثمر کھڑس کہتے ہیں 'سیاست پل پل بدلتی ہے۔ ادھو ٹھاکرے وہی کر رہے ہیں جو آج کے دور کی سیاست کے حساب کے مناسب ہے۔ کیونکہ اب بال ٹھاکرے زندہ نہیں ہیں اور ان کی وفات کے بعد سیاست کرنے کا طریقہ بھی بدل چکا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ ادھو ٹھاکرے نے اتنا بڑا فیصلہ کیا۔'
لیکن اب جب ٹھاکرے خاندان نے ریاست کا اقتدار سنبھال لیا ہے تو وہ اب وہ اسے کس طرح انجام دیں گے؟
سجاتا آنندن کہتی ہیں یہ تو وقت ہی بتائے گا۔ ابھی تو سب کو یہی تشویش ہے کہ ادھو ٹھاکرے نے وزیر اعلیٰ کا عہدہ پہلی بار سنبھالا تو کیا وہ صحیح طریقے سے حکومت چلا سکیں گیں یا نہیں؟ 'لیکن یہ بات بھی صحیح ہے کہ منوہر جوشی بھی تو پہلی بار وزیر اعلیٰ بنے تھے اور ڈیوڈ فڈناویس نے بھی پہلی بار ہی یہ عہدہ سنبھالا تو وہ اُدھو سے عمر میں بھی بہت چھوٹے تھے'۔
ان کا کہنا ہے کہ کسی نہ کسی کو پہلی بار اقتدار سنبھالنا پڑتا ہے اور ہمیں انتظار کرنا ہوتا ہے یہ دیکھنے کے لیے وہ اپنے فرائض کس طرح انجام دے رہے ہیں ' بعض رہنماؤں نے حکومت بہت اچھے طریقے سے کی بعض نے نہیں۔ تو جیسے جیسے وقت گزرے گا معلوم ہوجائے گا کہ وہ صحیح سے حکومت کر پارہے ہیں یا نہیں'۔
ایسا کہا جارہا ہے کہ حکومت کی تشکیل کے بعد این سی پی کے رہنما اور ادھو ٹھاکری کی جماعت کے اہم اتحادی شرد پوار کا حکومت میں ایک اہم کردار ہوگا۔ سجاتا آنندن کے مطابق 'شرد پوار اب بیک سیٹ ڈرائیونگ کریں گے یعنی پيچھے بیٹھ کر گاڑی چلائیں گے'۔
بے تاج بادشاہ
سجاتا کا خیال ہے کہ اس حکومت میں شرد پوار کی پارٹی این سی پی کا بہت اہم کردار ہوگا۔ ادھو ٹھاکرے کے پاس تجربہ نہیں ہے وہ بیوروکریٹس یا نوکر شاہوں پر انحصار کرے گیں، وہ ان وزراء پر منحصر ہونگیں جو ماضی کی حکومتوں کا حصہ رہے ہیں لیکن ان کا سب سے زیادہ انحصار این سی پی پر ہوگا۔ اس لیے کہا جاسکتا ہے کہ اقتدار کی ڈرو تو شرد پوار کے ہاتھ میں ہے۔
ان کا مزید کہنا ہے 'ہم اتنے برسوں شرد پوار کے بارے میں یہ کہتے رہے ہیں کہ وہ مہاراشٹر کے ' باتاج بادشاہ' ہیں۔ مہاراشٹر کی سیاست میں پھر سے وہی صورتحال پیدا ہوگئی ہے کہ اقتدار کا حصہ بنے بغیر اس کی ڈور شرد پوار کے ہاتھ میں ہے۔ یہی بات کبھی بال ٹھاکرے کے بارے میں کہی جاتی تھی۔ لیکن اگر سیاست میں تجربے اور 'سٹیچر' کی بات کی جائے تو شرد پوار کا بال ٹھاکرے سے کوئی مقابلہ نہیں ہے۔ شرد پوار کو ایک تجربہ کار اور انڈین سیاست کی باریکیوں اور پیچیدگیوں کو سمجھنے والا قومی سطح کا لیڈر مانا جاتا ہے۔ بال ٹھاکرے کا دائرہ مہاراشٹر کی سیاست تک محدود تھا۔
ثمر کھڑس کا خیال ہے کہ شرد پوار اس طرح کی سیاست نہیں کرتے کہ اقتدار کا ریموٹ کنٹرول ان کے ہاتھ میں رہے گا۔
ان کا خیال ہے کہ ' شرد پوار کا سیاست کرنے کا طریقہ مختلف ہے۔ انہوں نے پورے اعتماد سے ادھو ٹھاکرے کو وزیر اعلیٰ کے عہدے لیے اپنی حمایت دی ہے۔ ادھو ٹھاکرے پہلے اس بات پر راضی نہیں ہو رہے تھے لیکن شرد پوار نے ان سے کہا کہ اگر ایک مستحکم حکومت چلانی ہے تو آّپ کو اس کی ذمہ داری سنبھالنی ہوگی۔
پھر ادھو ٹھاکرے راضی ہو گئے۔ اس لیے میرا خيال ہے شرد پوار ریموٹ کنٹرول والی سیاست نہیں کرتے ہیں۔ وہ ایک منصوبے کے تحت حکمت عملی طے کرتے ہیں کہ شہروں کی ترقی کیسے کرنی ہے، مزدوروں کو کیا دینا اور کارپریٹ سیکٹر کے لیے کیا کرنا ہے۔'