ایسا سینہ پہلے نہیں دیکھا!

    • مصنف, سہیل حلیم
    • عہدہ, بی بی سی اردو ڈاٹ کام، نئی دہلی

آج کل تو ہم بس اپنا منھ اور سینہ دونوں چھپائے پھرتے ہیں اور فکر بس یہ ہے کہ انڈیا میں جب شمال مشرقی ریاست آسام کی طرز پر شہریت کا قومی رجسٹر یا این آر سی ترتیب دیا جائے گا تو اس میں کہیں سینے کی پیمائش کا خانہ شامل نہ ہو۔

بلاوجہ مذاق بن جائے گا۔

اور اگر ہو بھی تو ایسا نہ ہو کہ رجسٹر میں شمولیت کے لیے کم سے کم پیمائش کا کوئی معیار لازمی کردیا جائے کہ جن کے سینے ساڑھے 32 انچ سے زیادہ ہوں گے، انھیں ہی شہریت کا حق حاصل ہو گا۔

ساڑھے 32 انچ کے ’کٹ آف‘ کا خیال اس لیے آیا کہ اب انڈیا کے وزیر دفاع راج ناتھ سنگھ کے مطابق وزیراعظم نریندر مودی کا سینہ 56 انچ کا نہیں، جیسا کہ اب تک کہا جاتا رہا ہے، بلکہ 65 انچ کا ہے۔

راج ناتھ سنگھ کے مطابق ’لوگ کہتے ہیں کہ نریندر مودی کا سینہ 56 انچ کا ہے لیکن مجھے لگتا ہے کہ ناپنے میں غلطی ہوئی ہے، میرے خیال میں ان کا سینہ 65انچ کا ہے۔‘

سننے میں یہ بات بہت معمولی لگتی ہے، ہو سکتا ہے کہ درزی سے غلطی ہوگئی ہو، لیکن اس کے سنگین سیاسی مضمرات ہو سکتے تھے اور جس نے بھی سینہ ناپنے میں اتنی بڑی غلطی کی ہے اسے بخشا نہیں جانا چاہیے۔ راج ناتھ سنگھ کا بظاہر خیال یہ ہے کہ حکومت نے کشمیر میں جو تبدیلیاں کی ہیں، وہ 65 انچ کے سینے کے بغیر ممکن نہیں تھیں۔

لیکن یہ غلطی کیسے ہوئی ہو گی؟ اگر درزی کی غلطی تھی تو وزیراعظم کے شاندار کرتوں اور جیکٹوں کی فٹنگ اتنی اچھی کیسے ہوتی ہے؟ کھیں کوئی شکن نہیں کہیں کوئی جھول نہیں۔

کہیں ایسا تو نھیں کہ حکومت نے انچ کا سائز چھوٹا کر دیا ہو اور بیچارے درزی کی کوئی غلطی نہ ہو۔ آپ کو عجیب بھلے ہی لگے لیکن یہ کوئی انہونی بات نہیں ہے۔ مودی حکومت پہلے معیشت کی ترقی کی رفتار ناپنے کا طریقہ بھی بدل چکی ہے اور اسے ’کوالٹی آف ڈیٹا‘ یا اعداد و شمار کے معیار کے ساتھ کھلواڑ کرنے کے الزامات کا سامنا ہے۔

اگر انچ کا سائز چھوٹا کیا گیا ہے تو سب کا فائدہ ہے اور سب اپنا سینہ چوڑا کرکے چل سکیں گے، اگر نہیں تو ڈھیلے کرتے سے ہی کام چلانا ہوگا۔ یہ بھی ہو سکتا ہے کہ اپوزیشن کے سینے ناپنے کے لیے پرانے فیتے استعمال کیے جائیں اور حکمرانوں کے سینوں کے لیے نئے۔

عام آدمی کا تو کیا ذکر کیا جائے، لیکن سیاستدان بہت تیز ہوتے ہیں۔ وہ ان نزاکتوں کو خوب سمجھتے ہیں۔ مثال کے طور پر کانگریس پارٹی کو ہی لیجیے، اس نے سیکولرازم کو ناپنے کا فیتا بدل دیا ہے اور 70 برسوں میں پہلی مرتبہ کانگریس ایک ایسی پارٹی کے ساتھ مل کر (مہاراشٹر میں) حکومت بنا رہی جسے نظریات کی بنیاد پر بی جے پی کی کاربن کاپی کہا جاسکتا ہے۔

شیو سینا اور کانگریس کی سیاست میں شاید ہی کوئی مماثلت ہو لیکن 65 انچ کے سینے کا مقابلہ کرنا ہو تو بائیس، بائیس انچ کے سینے والی تین پارٹیوں کی ضرورت پڑنی ہی ہے۔

اس لیے سینے کا سائز کافی اہم ہوتا ہے، اگر 56 سے کم ہو تو اپنی نظریاتی بنیاد ہی بدلنی پڑسکتی ہے، اگر 56 یا اس سے زیادہ ہو تو آپ پیمانہ بھی بدل سکتے ہیں!

لیکن ایک سینہ ایسا بھی ہے جسے دیکھنے والوں کا دعویٰ ہے کہ ایسا سینہ انھوں نے پہلے کبھی نہیں دیکھا۔ ظاہر ہے کہ یہ سینہ امریکہ کے صدر کے علاوہ اور کس کا ہوسکتا ہے؟ ایران کے علاوہ تقریباً باقی پوری دنیا یہ تسلیم کرتی ہے کہ امریکہ کے صدر سے زیادہ طاقتور اور کوئی نہیں ہے۔ (کم سے کم زمین پر تو نہیں) اور ستم یہ ہے کہ کوئی ان کا سینہ ناپنے کی جرات بھی نہیں کر سکتا۔

یا ہو سکتا ہے کہ اتنا بڑا فیتہ ہی نہ بنا ہو جو صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے سینے کو ناپ سکے۔ کچھ دن پہلے وہ اچانک ہسپتال گئے تھے اور تب سے ہی یہ قیاس آرائی جاری ہے کہ ان کی صحت اچھی نہیں ہے۔

جواب میں صدر ٹرمپ نے ایک ہوش ربا ’فوٹو شاپڈ‘ تصویر ٹویٹ کی ہے۔

اور ان کا دعویٰ ہے کہ جب وہ ہسپتال پہنچے تو وہاں ڈاکٹروں کی دلچسپی بس اس بات میں تھی کہ ان کا سینہ دیکھ لیں!

’پہلی بات جو انھوں نے مجھ سے کہی وہ یہ تھی کہ سر اپنی شرٹ اتار دیجیے اور ہمیں اپنا زبردست سینہ دکھا دیجیے، ایسا سینہ ہم نے پہلے کبھی نہیں دیکھا!‘

غیر سیاسی لوگوں کے لیے سیاسی باریکیوں کو سمجھنا آسان نہیں ہوتا لیکن یہ ضرور چیک کرنا چاہیے کہ راج ناتھ سنگھ کا بیان صدر ٹرمپ کے دعوے سے پہلے آیا تھا یا بعد میں۔

اور ہاں، ساڑھے 32 اور اس سے کم سینے والوں کی بات بیچ میں ہی رہ گئی۔ انھیں فکر کرنے کی ضرورت نہیں ہے، وزیر داخلہ امت شاہ پہلے ہی پارلیمان میں یہ اعلان کر چکے ہیں کہ این آر سی میں کسی بھی شہری کے خلاف کوئی امتیاز نہیں برتا جائے گا۔

پھر بھی اطمینان نہ ہو تو فوٹو شاپ تو ہے ہی!