انڈین ریاست مہاراشٹرا میں حکومت سازی کا کھیل رات بھر چلتا رہا

    • مصنف, مرزا اے بی بیگ
    • عہدہ, بی بی سی اردو ڈاٹ کام، دہلی

انڈیا کی مغربی ریاست مہاراشٹرا میں لوگ سنیچر کی صبح اٹھے تو تقریباً تمام اخبارات کی شہ سرخیاں پرانی ہوچکی تھیں۔ اکثر کا خیال تھا کہ کانگریس پارٹی کی حمایت کے ساتھ نیشنلسٹ کانگریس پارٹی (این سی پی) اور شیو سینا حکومت سازی کریں گے لیکن ایسا نہ ہوا۔

جمعے کی شام یہ طے ہو چکا تھا کہ مہاراشٹرا کے نئے وزیرِ اعلیٰ شیو سینا کے رہنما اُدھو ٹھاکرے ہوں گے۔

لیکن صبح آٹھ بجے بازی اس وقت پلٹی ہوئی نظر آئی جب یکایک یہ دیکھا گیا کہ سابق وزیر اعلیٰ دیویندر فڈنویس کو گورنر وزیر اعلیٰ کا حلف دلوا رہے ہیں۔ جیسے راتوں رات سب بدل گیا۔

اسمبلی کے انتخابات کے نتائج میں واضح اکثریت نہ ہونے کی وجہ سے ایک ماہ تک حکومت سازی کے لیے سیاسی رسہ کشی جاری رہی اور اب جب گذشتہ روز حکومت کی تشکیل ہو گئی ہے تو اسے سپریم کورٹ میں چیلنج کر دیا گیا ہے۔

یہ بھی پڑھیے

مہاراشٹرا کی سیاسی تاریخ میں سنیچر کے روز یکے بعد دیگرے جتنے واقعات رونما ہوئے وہ اس سے پہلے کبھی نہیں دیکھے گئے۔

ریاست میں چونکہ صدر راج نافذ تھا اس لیے ساری قانونی پیچیدگیوں کو راتوں رات حل کر لیا گيا لیکن اجیت پوار کی سربراہی میں این سی پی کے ایک دھڑے کی حمایت سے بی جے پی حکومت کے قیام کے بعد اب بھی کئی موڑ باقی ہیں جس میں سے پہلا موڑ سپریم کورٹ کی سماعت کے ساتھ ہی دیکھا جا سکتا ہے۔

لیکن سپریم کورٹ نے بھی ایک موڑ دے دیا ہے اور اس نے وزیر اعلیٰ دیویندر فڈنویس اور نائب وزیر اعلی اجیت پوار کو نوٹس جاری کیا ہے۔

اس کے ساتھ عدالتِ عظمیٰ نے مہاراشٹرا حکومت اور مرکزی حکومت کو بھی نوٹس جاری کیا ہے اور سالیسیٹر جنرل (انڈین اٹارنی جنرل کے ماتحت قانونی افسر) سے کہا ہے کہ وہ حکومت سازی کے لیے گورنر کو دیے جانے والے خطوط اور ديگر دستاویزات پیر کو صبح ساڑھے دس بجے تک پیش کریں۔

حزب اختلاف جلد از جلد فلور ٹیسٹ چاہتا تھا جبکہ بی جے پی اور حکومت کے وکیل وقت چاہتے تھے۔ بظاہر حکومت کو ایک دن کا وقت ملا ہے۔ اب پیر کو اس معاملے کی سماعت ہوگی اور پھر کوئی فیصلہ سامنے آئے گا۔

اب ساری پارٹیوں بطور خاص این سی پی اور کانگریس نے اپنے اپنے منتخب نمائندوں کو ایسے مقامات پر رکھنے کا انتظام کیا ہے جہاں ان سے رابطہ نہیں کیا جاسکے اور کسی قسم کی خرید و فروخت کو ناکام بنایا جا سکے۔

صبح آٹھ بجے تک شاید ہی کسی کو علم ہو کہ کیا ہو رہا ہے لیکن خبر رساں ادارے اے این آئی نے صبح آٹھ بجے ایک ٹویٹ کیا اور پھر آٹھ بج کر 10 منٹ پر حلف برداری کی تقریب براہ راست نشر کی جانے لگی۔ یہاں تک کہ وہاں سرکاری میڈیا بھی موجود نہیں تھا۔

ایک نیا موڑ اس وقت سامنے آیا جب این سی پی کے جو منتخب رکن اسمبلی اجیت پوار کے ساتھ حلف برداری میں گئے تھے جہاں اجیت پوار نے نائب وزیر اعلیٰ کے عہدے کا حلف لیا ان میں سے کئی شام کو واپس شرد پوار کے خیمے میں آ گئے اور شام کو شرد پوار نے اپنے بھتیجے اجیت پوار کو منتخب ارکان کے رہنما کے عہدے سے ہٹا دیا اور ان کی جگہ جینت پاٹل کو رہنما منتخب کیا۔

مہاراشٹرا میں آنے والی اس پیشرفت پر جہاں بی جے پی اور اس کے حامیان خوشی مناتے نظر آئے وہیں حزب اختلاف نے بیک آواز اس کی مذمت کی۔

کانگریس رہنما احمد پٹیل نے کہا ’بی جے پی کی حرکت نے جمہوری اقدار کی دھجیاں اڑا دیں‘ تو کمیونسٹ پارٹی آف انڈیا (مارکسی گروپ) نے کہا ’بھارتیہ جنتا پارٹی اقتدار کے لیے کسی بھی حد تک جا سکتی ہے۔‘

مہاراشٹرا کی صورتحال

مہاراشٹرا کی پل پل بدلتی صورتحال اور سیاسی رسہ کشی کو سمجھنے کے لیے شروع سے بات شروع کرنی ہو گی۔

ریاست میں کل اسمبلی سیٹیں 288 ہیں۔ بی جے پی اور شو سینا نے مل کر انتخابات میں شرکت کی۔ بی جے پی کو 105 نشستیں ملیں تو شیو سینا کو 56 سیٹوں پر کامیابی حاصل ہوئی۔

مہاراشٹرا کے قدآور رہنما شرد پوار کی نیشنلسٹ کانگریس پارٹی (این سی پی) کو 54 سیٹیں ملیں جبکہ کانگریس پارٹی کی جھولی میں 44 سیٹیں آئیں۔

حکومت سازی کے لیے 145 سیٹیں درکار تھیں اور بی جے پی اور شیوسینا کی مجموعی سیٹیں 161 ہو رہی تھیں اور انھیں سادہ اکثریت حاصل تھی۔ این سی پی رہنما نے انتخابی نتائج کے بعد کہا تھا کہ عوام نے انھیں حزبِ اختلاف میں بیٹھنے کا ووٹ دیا ہے۔

لیکن حکومت سازی کا جو عمل انتہائی آسان تھا وہ یکایک اس وقت مشکل ہو گيا جب شیو سینا نے یہ کہنا شروع کر دیا کہ بی جے پی کے ساتھ ان کا اتحاد مساوات کی بنیاد پر تھا اور یہ کہ 50-50 فارمولے پر بات ہوئی تھی۔ جس کا مطلب یہ تھا کہ اسمبلی کی پانچ سال کی مدت میں ڈھائی سال کے لیے شیو سینا کا وزیر اعلیٰ ہونا چاہیے۔

بی جے پی کا کہنا تھا کہ وزیرِ اعلیٰ تو دیویندر فڈنویس ہی ہوں گے اور وہ بھی پورے پانچ سال کے لیے۔

تلخیاں بڑھنے لگیں۔ بیان بازیاں ہونے لگيں اور پھر پارلیمان کے موسم سرما کے اجلاس سے قبل جب بی جے پی نے اپنے اتحادیوں کی میٹنگ بلائی تو اس میں شیو سینا نے شرکت نہیں کی اور مرکزی حکومت میں شامل ان کے وزیر نے وزارت کے عہدے سے استعفیٰ دے دیا جس کے ساتھ بی جے پی اور شیوسینا کی 30 سالہ پرانی رفاقت ختم ہو گئی۔

اس کے بعد حکومت سازی کے لیے کسی کے پاس بھی مطلوبہ تعداد نہیں تھی۔ این سی پی اور کانگریس جو شیو سینا کے نظریات کی بالکل مخالف رہی ہیں، ان کا ساتھ آنا بھی مشکل نظر آ رہا تھا اور ان لوگوں کا بی جے پی کے ساتھ جانا تو اور بھی بعید از قیاس تھا۔

دریں اثنا حکومت سازی کے لیے معینہ مدت ختم ہونے کے بعد ریاست میں صدر راج نافذ کر دیا گیا۔

سنیچر کی رات سے رونما ہونے والے واقعات

کہا جاتا ہے کہ این سی پی نے اپنے منتخب اسمبلی رہنماؤں کے جو دستخط شیو سینا کی حمایت کے لیے حاصل کیے اسے این سی پی رہنما شرد پوار کے بھتیجے اجیت پوار نے بی جے پی کے رہنما دیویندر فڈنویس کے حوالے کر دیا جسے مہاراشٹرا کے گورنر بھگت سنگھ کوشیاری کو دکھا کر حکومت سازی کی درخواست دی گئی۔

گورنر نے اس کے بعد رات میں ہی یہ پیغام صدر جمہوریہ رام ناتھ کووِند کے پاس بھیجا کہ مہاراشٹرا میں حکومت سازی کے لیے ساز گار ماحول ہے اس لیے صدر راج ختم کیا جائے۔

صدر راج ہٹانے کے لیے کابینہ کی میٹنگ ضروری ہوتی ہے لیکن وزیر اعظم نریندر مودی نے انڈیا کے آئین کے آرٹیکل 356 کے تحت خصوصی اختیار کا استعمال کرتے ہوئے صبح پانچ بج کر 47 منٹ پر مہاراشٹرا سے صدر راج کے خاتمے کا اعلان کیا گيا۔

اس کے بعد صبح آٹھ بجے حلف برداری کا اعلان ہوا اور پھر آٹھ بج کر 10 منٹ پر لوگوں نے دیویندر فڈنویس کو وزیرِ اعلیٰ اور اجیت پوار کو نائب وزیرِ اعلیٰ کا حلف اٹھاتے دیکھا۔

این سی پی کے رہنما شرد پوار نے کہا کہ ان کے ساتھ دھوکہ ہوا ہے جبکہ ان کی بیٹی سوپریا سولے نے کہا کہ یہ خاندان کے بٹوارے جیسا کام ہے۔ شرد پوار نے کہا کہ ان سب کے باوجود اسمبلی میں بی جے پی اکثریت ثابت کرنے میں ناکام رہے گی جبکہ سوشل میڈیا پر اس حوالے سے مختلف قسم کے ہیش ٹيگ ٹرینڈ کرتے رہے۔ ٹی وی چینلوں نے نان سٹاپ خبریں اور تجزیے اور مباحثے نشر کیے۔

بی جے پی کے حامیوں نے اسے ’مہا ماسٹر سٹروک‘ بتایا تو کسی نے کہا کہ ’مودی ہے تو ممکن ہے‘۔ کسی نے بی جے پی رہنما امت شاہ کی تدابیر کو 'چانکیہ نیتی' سے تعبیر کیا۔ چانکیہ در اصل قدیم انڈیا کی تاریخ میں اپنی سیاسی چالوں کے لیے معروف تھے اور انھیں کنگ میکر بھی کہا جاتا ہے۔

’گیم آف تھرونز‘

اس سارے معاملے پر سوشل میڈیا پر کافی بحث ہوتی رہی اور کئی دلچسپ ہیش ٹیگز ٹرینڈ کرتے رہے۔ ’موٹا بھائی راکس‘ بھی ٹرینڈ کر رہا تھا جس کا مطلب تھا بڑے بھائی چھا گئے اور بڑے بھائی سے مراد امت شاہ اور نریندر مودی ہیں۔

اس کے برعکس ’مہا بی جے پی کو‘ یعنی بی جے پی کا تختہ پلٹ بھی ٹرینڈ کرتا رہا۔ اس کے ساتھ ممبئی میں تھوڑے عرصے کے لیے ’گیم اف تھرونز‘ بھی ٹرینڈ کرتا ہے۔ جنھوں نے گیم آف تھرونز دیکھا ہے وہ جانتے ہیں کہ وہاں کیا کیا ہوتا ہے۔

لوگ دو خیموں میں تقسیم ہیں اور کہا جا رہا ہے کہ بی جے پی شمال مشرقی ریاست بہار اور جنوبی ریاست کرناٹک کی طرح مہاراشٹرا میں بھی حکومت قائم رکھنے میں کامیاب ہو جائے گی۔

لیکن مہاراشٹر کے سینیئر صحافی پرمود چانچوار نے بی بی سی کے نمائندے دلنواز پاشا کے ساتھ بات چیت کے دوران کہا کہ سب سے زیادہ نقصان میں وزیر اعلی دیویندر فڈنویس رہیں گے اور اس کے بعد اجیت پوار۔

انھوں نے کہا: ’موجودہ حساب کتاب کو دیکھتے ہوئے ایسا محسوس ہوتا ہے کہ سب سے زیادہ نقصان میں دیویندر فڈنویس ہوں گے کیونکہ شیوسینا، کانگریس اور این سی پی نے اپنے ایم ایل اے کو اپنے پاس برقرار رکھا ہے اور اس لیے انھیں اکثریت ثابت کرنا مشکل ہوگا۔‘

پرمود چانچوار کا کہنا ہے کہ ’دوسرے نمبر پر زیادہ نقصان میں اجیت پوار ہوں گے۔ انھوں نے اپنے چچا شرد پوار سے بغاوت کی اور این سی پی کے اعتماد کو مجروح کیا ہے۔ اس سے ان کی ساکھ کو بہت نقصان پہنچا ہے۔ انھیں شرد پوار کے وارث کے طور پر بھی دیکھا جاتا تھا۔ انھوں نے ان کے ساتھ بھی غداری کی ہے۔‘

دیویندر فڈنویس نے گورنر بھگت سنگھ کوشیاری کے آشیرباد سے وزیر اعلیٰ کا حلف لے تو لیا ہے لیکن ابھی عشق کے امتحاں اور بھی ہیں۔