سیاچن: برفانی تودہ گرنے سے چار انڈین فوجیوں سمیت چھ افراد ہلاک

سیاچین

،تصویر کا ذریعہGetty Images

انڈین آرمی کے ترجمان کے مطابق پیر کے روز دنیا کے بلند ترین عسکری میدان سیاچن میں ایک برفانی تودہ گرنے سے چار انڈین فوجیوں سمیت چھ افراد ہلاک ہو گئے ہیں۔

ہلاک ہونے والوں میں چار انڈین فوجیوں کے علاوہ دو پورٹر بھی شامل ہیں۔

یہ حادثہ انڈیا اور پاکستان کے درمیان متنازعہ سیاچن گلیشئیر پر 5000 میٹر (16500 فٹ) کی بلندی پر پیش آیا۔

گزشتہ تین دہائیوں میں موسم کی شدت اور برفانی تودوں کی زد میں آنے کے باعث انڈیا اور پاکستان کے سینکڑوں فوجی دستے یہاں ہلاک ہوئے ہیں۔

یہ بھی پڑھیے

انڈین آرمی کے ایک ترجمان نے خبر رساں ادارے اے ایف پی کو بتایا کہ آٹھ افراد پر مشتمل یہ گشتی پارٹی، قراقرم کے پہاڑی سلسلوں میں گشت کرتے ہوئے برفانی تودے کی زد میں آ گئی تھی۔

سیاچین

،تصویر کا ذریعہGetty Images

آٹھ افراد کی یہ گشتی پارٹی ہمالیہ میں 19000 فٹ کے قریب تھی جب برفانی تودہ ان پر آ گرا۔

امدادی کارروائیاں کرنے والی ٹیم گشتی پارٹی میں شامل افراد کو برف سے نکالنے میں کامیاب رہی اور انھیں براستہ ہیلی کاپٹر ہسپتال پہنچایا گیا۔

ترجمان کرنل راجیش کالیا کے مطابق ہائیپوتھرمیا یا جسم میں درجہ حرارت کی کمی کے باعث چار فوجی اور دو سیویلین پورٹر ہلاک ہو گئے۔

اس 700 مربع کلومیٹر پر پھیلے گلیشئیر پر برفانی تودے ایک معمول ہیں اور یہاں درجہ حرارت منفی 60 ڈگری سینٹی گریڈ تک گر جاتا ہے۔

سیاچین

،تصویر کا ذریعہGetty Images

سنہ 2016 میں بھی یہاں 10 انڈین فوجی ہلاک ہو گئے تھے۔

انڈیا نے سنہ 1984 میں سیاچن کا کنٹرول سنبھالا تھا۔ تب سے اس گلیشئیر پر 900 انڈین فوجی ہلاک ہو چکے ہیں۔

یہ گلیشئیر انڈیا اور پاکستان کے درمیان لائن آف کنٹرول کے شمالی سرے پر واقع ہے جو کشمیر کو تقسیم کرتی ہے۔ دونوں ممالک سنہ 1947 سے کشمیر کے مسئلے پر لڑتے آرہے ہیں۔