چین: کچرا ٹھکانے لگانے والا گڑھا 25 سال پہلے ہی بھر گیا

چین میں کچرے کا گڑھا

،تصویر کا ذریعہGetty Images

چین میں کچرا ٹھکانے لگانے والا سب سے بڑا گڑھا، جسے 25 سال میں بھرنا تھا وہ پہلے ہی بھر چکا ہے۔

چین کے صوبے شانزی میں جیانگکوگو کا گڑھا جو سو فٹبال میدانوں کے برابر ہے، اسے 2500 ٹن کچرا یومیہ ڈالنے کے لیے بنایا گیا تھا۔

لیکن اس میں دس ہزار ٹن کچرا یومیہ ڈالا جانے لگا جو چین میں سب سے زیادہ کچرا ڈالے جانے والی جگہ بن گئی۔

چین آلودگی پھیلانے والا سب سے بڑا ملک ہے اور اس کی ایک اعشاریہ چار ارب کی آبادی جو کچرا پیدا کرتی ہے اس سے نمٹنا اس کے لیے ایک بڑا مسئلہ بنا ہوا ہے۔

یہ بھی پڑھیے

کچرا

،تصویر کا ذریعہGetty Images

کچرا ڈالنے کا یہ گڑھا کتنا بڑا ہے؟

جیانگکوگو میں کچرے کا گڑھا ژان شہر میں سنہ 1994 میں بنایا گیا تھا اور اسے ابتدائی اندازے کے مطابق سنہ 2044 میں بھرنا تھا۔

اس گڑھے میں اسی لاکھ شہریوں کا کچرا پھینکا جاتا ہے۔ یہ سات لاکھ مربع میڑ وسیع ہے اور اس کی گہرائی 150 میٹر ہے اور میں کچرا پھینکے کی کل گنجائش تین کروڑ چالیس لاکھ مربع میٹر ہے۔

تھوڑے عرصے قبل تک ژان شہر چین کے ان چند شہروں میں شامل تھا جہاں شہریوں کا کچرا ٹھکانے لگانے کے لیے صرف زمین میں دفن کرنے کا طریقہ استعمال کیا جاتا تھا۔ جس کی وجہ سے یہ جگہ جلد بھر گئی۔

اس ماہ کے شروع میں کچرا جلانے کے کچھ پلانٹ کھولے گئے ہیں اور کم از کم مزید چار پلانٹ سنہ 2020 تک کھولے جائیں گے۔ یہ سب پلانٹ مجموعی طور پر بارہ ہزار سات سو پچاس ٹن کچرا یومیہ جلانے کی گنجائش مہیا کریں گے۔

یہ اقدام اس قومی پالیسی کا حصہ ہے جس کے تحت کچرے کو ٹھکانے لگانے کے لیے دوسرے طریقے بھی اختیار کیے جانے کا فیصلہ کیا گیا ہے۔ ژان میں کچرا ٹھکانے لگانے کا یہ گڑھا بعد ازاں ایک ’ایکولوجیکل پارک‘ بنا دیا جائے گا۔

چین کے قومی شماریاتی بیورو کے مطابق سنہ 2017 میں چین میں 21 کروڑ پچاس لاکھ ٹن کچرا شہروں سے اکٹھا کیا گیا جو کہ دس سال پہلے پندرہ کروڑ بیس لاکھ ٹن ہوتا تھا۔

چین میں کچرا ڈالنے کے 654 گڑھے ہیں اور 286 کچرا جلانے والے پلانٹ ہیں۔

ابھی یہ واضح نہیں ہے کہ چین کی ’ریسائکلنگ‘ شرح یا چیزوں کو دوبارہ قابلِ استعمال بنانے کی شرح کیا ہے کیونکہ اس بارے میں کوئی اعداد و شمار دستیاب نہیں ہیں۔

ایک سرکاری رپورٹ کے مطابق چین کا منصوبہ ہے کہ وہ بڑے بڑے شہروں میں سنہ 2020 سے ریسائکلنگ کی شرح 35 فیصد تک لے کر جائے گا۔

اس سال جولائی میں شنگھائی میں کچرے کی ری سائکلینگ کو لازمی کر دیا گیا ہے جس سے کچھ شہریوں میں اس بار میں تشویش بھی پیدا ہو گئی ہے۔

چین کے جنوبی شہر شینزان میں سنہ 2015 میں کچرا ڈالنے والے ایک گڑھے میں 73 افراد ہلاک ہو گئے تھے۔ یہ گڑھا چالیس لاکھ مربع میٹر وسیع کچرا ڈالنے کے لیے بنایا گیا تھا جس کی اونچائی 95 میٹر تھی۔

کیا چین دوسرے ملکوں کا کچرا بھی اٹھا رہا ہے؟

اب نہیں۔ سنہ 2017 میں اس نے کچرا درآمد کرنے پر پابندی لگا دی تھی جس میں 24 مختلف قسم کا کچرا شامل تھا۔

سنہ 2017 میں چین نے یورپ، جاپان اور امریکہ سے ستر لاکھ ٹن پلاسٹک کا کچرا اور دو کروڑ ستر لاکھ ٹن کاغذ کا کچرا اٹھایا تھا۔