آپریشن ’جیک پاٹ‘ اور قیامِ بنگلہ دیش: جب پاکستانی بحری جہاز پانیوں میں ڈبو دیے گئے

    • مصنف, ریحان فضل
    • عہدہ, نمائندہ بی بی سی، انڈیا

(یہ رپورٹ پہلی مرتبہ 16 دسمبر 2019 کو شائع ہوئی تھی جسے قیام بنگلہ دیش کی مناسبت سے آج دوبارہ شائع کیا جا رہا ہے۔)

یکم اگست 1971 کو 20 ہزار شائقین سے بھرے نیویارک کے میڈیسن سکوائر گارڈن میں جب بیٹلز کے جارج ہیریسن نے بنگلہ دیش کی صورتحال کے متعلق اپنا گیت گایا تو نہ صرف پورا سٹیڈیم جھوم اٹھا بلکہ اس نغمے نے پوری دنیا کی توجہ مشرقی پاکستان کے حالات اور وہاں سے لاکھوں کی تعداد میں انڈیا آنے والے پناہ گزینوں کی طرف مبذول کیا۔

لیکن مارچ سنہ 1971 سے اپنے ہی عوام کے خلاف پاکستانی فوج کی جانب سے ’کریک ڈاؤن‘ کی خبریں ملک سے باہر جانے لگی تھیں۔

اسی وقت فرانس کے پانیوں میں مشق کر رہی پاکستانی آب دوز ’پی این ایس مانگرو‘ کے آٹھ بنگالی اہلکاروں نے آبدوز چھوڑ کر بنگلہ دیش کی آزادی کی تحریک میں شامل ہونے کا فیصلہ کیا۔

’آپریشن ایکس: دی ان ٹولڈ سٹوری آف انڈیاز کوورٹ نیول وار ان ایسٹ پاکستان، 1971‘ کے مصنف اور انڈیا ٹوڈے میگزین کے ایگزیکٹیو ایڈیٹر سندیپ انیتھن بتاتے ہیں کہ ’31 مارچ سنہ 1971 کو سپین کے دارالحکومت میڈرڈ میں واقع انڈین سفارتخانے کے دروازے پر فرانس سے بھاگ کر آنے والے پاکستانی بحریہ کے ان اہلکاروں نے دستک دی۔

’سنہ 1964 میں وہاں تعینات کے انڈین سول سروس کے اہلکار گردیپ بیدی نے ان کے پاسپورٹس کا معائنہ کیا اور انھیں قریب ہی ایک سستے ہوٹل میں ٹھہرا دیا۔ انھوں نے ان کے بارے میں دلی سے صلاح مشورہ کیا تو وہاں سے یہ حکم آیا کہ ان اہلکاروں کو فوراً دلی بھیجے جانے کا انتظام کیا جائے۔‘

یہ بھی پڑھیے

انھوں نے مزید لکھا ’ان آٹھ اہلکاروں کے نقلی ہندو نام رکھے گئے اور ہندوستانی شہری بتا کر دلی جانے والے طیارے میں بٹھا دیا گیا۔ انھیں پہلے میڈرڈ سے روم بھیجا گيا۔ لیکن اس سے پہلے کہ وہ دلی پہنچتے ان کی خبر میڈیا میں لیک ہو گئی اور روم میں واقع پاکستانی سفارتخانے کے اہلکاروں کو بھی اس کی خبر ہو گئی۔‘

’پاکستانی سفارتخانے کے اہلکار ان آٹھ اہلکاروں کو منانے کے لیے ایئرپورٹ پہنچے۔ ان میں اور ان اہلکاروں کے درمیان جھڑپ بھی ہوئی لیکن ان اہلکاروں کے لیڈر عبدالوحید چودھری نے سفارتی عملے سے واضح الفاظ میں کہا کہ وہ بنگلہ دیش کی آزادی کے لیے لڑنے جا رہے ہیں۔‘

پلاسی کی جنگ کے میدان میں خفیہ ٹریننگ کیمپ

ان آٹھ آبدوز اہلکاروں کے انڈیا پہنچنے کے بعد انھیں دلی میں انڈین خفیہ ادارے ’را‘ کے ایک محفوظ ٹھکانے پر ٹھہرایا گیا۔ اس وقت انڈین بحریہ کے ڈائریکٹر نیول انٹیلیجنس کپتان ایم کے میکی رائے کو خیال آیا کہ پاکستان سے بھاگ کر آنے والے بحریہ کے ان اہلکاروں کا استعمال مشرقی پاکستان میں پاکستانی جہازوں کو ڈبونے اور نقصان پہنچانے میں کیا جائے۔

اس طرح آپریشن ’جیک پاٹ‘ کا آغاز ہوا اور کمانڈر ایم این آر سامنت کو اس کی ذمہ داری سونپی گئی۔ انڈیا اور مشرقی پاکستان کی سرحد کے قریب جہاں پلاسی کی جنگ ہوئی تھی وہاں بنگلہ دیش کی آزادی کے لیے لڑنے والے ’مکتی باہنی‘ کے جنگجوؤں کو تربیت دینے کے لیے کیمپ لگایا گیا اور اس کو ’کیمپ ٹو پلاسی‘ یا ’سی ٹو پی‘ کا ایک کوڈ نام دیا گیا۔

اس کمیپ میں دن کا آغاز بنگلہ دیش کے قومی ترانے ’امار شونار بنگلہ دیش‘ سے ہوتا تھا اور وہاں موجود سبھی لوگ بنگلہ دیش کے سبز اور نارنجی رنگ کے پرچم کو سلامی دیتے تھے۔

اس کیمپ کی قیادت کرنے والے کمانڈر وجے کپل یاد کرتے ہوئے کہتے ہیں کہ ’وہاں بجلی اور پانی کچھ بھی نہیں تھا۔ رات کو ہم لوگ لالٹین جلاتے تھے، پانی ہینڈ پمپ سے آتا تھا۔ کُل نو ٹینٹ لگائے گئے تھے۔ ہم لوگ صبح پانچ بجے اٹھ جاتے تھے۔ پی ٹی یا صبح کی ورزش کے بعد انھیں کھیتوں میں ننگے پاؤں دوڑایا جاتا تھا۔‘

’پھر انھیں بھارتی بحریہ کے کمانڈو خفیہ طریقے سے بم نصب کرنے کا طریقہ بتاتے تھے۔ مانگرو سے بھاگ کر آنے والے بنگالی سب مرینرز ہندی میں دی جانے والے اس تربیت کو سمجھیں، اس کے لیے بنگلہ زبان میں ترجمہ کیا جاتا تھا۔ اس کے بعد انھیں تیرنا سکھایا جاتا تھا۔ تب تک دوپہر کے کھانے کا وقت ہو جاتا تھا۔‘

’ڈیڑھ گھنٹے کے آرام کے بعد انھیں انسانوں کے قد کے برابر مجسموں پر گولیاں چلانے کی ٹریننگ دی جاتی تھی۔ سورج ڈوبنے کے بعد جب یہ لوگ بری طرح تھک جاتے تھے انھیں پھر سے رات میں تیرنے کی تربیت دی جاتی تھی۔ کل ملا کر یہ لوگ ایک دن میں تقریبا چھ گھنٹے پانی میں گزارتے تھے۔‘

’اس دوران ان کے پیٹ میں کپڑے کے سہارے دو اینٹیں باندھ دی جاتی تاکہ انھیں وزن کے ساتھ تیرنے کی تربیت مل سکے۔‘

کھانے پینے کی عادات میں تبدیلی

کمیپ میں تربیت حاصل کرنے والے لوگوں کا انتخاب مشرقی پاکستان سے آنے والے مہاجرین میں سے کیا گیا تھا۔ ان کو صحیح سے کھانا کھائے ہوئے ہفتوں گزر گئے تھے۔ ابتدا میں انھیں چاول کھانے کا اتنا شوق اور لالچ ہوتا تھا کہ وہ چاول ابلنے سے پہلے ہی ان پر ٹوٹ پڑتے تھے۔

تربیت دینے والے اہلکاروں نے طے کیا کہ اگر ان لوگوں کا صحیح استمعال کرنا ہے تو ان کے کھانے پینے کے طریقے میں خاصی تبدیلی کرنی ہو گی۔

کمانڈر وجے کپل بتاتے ہیں کہ ’جب یہ لوگ انڈیا آئے اس وقت وہ خوراک کی کمی کا شکار تھے۔ ان کی ہڈیاں نکلی ہوئی تھیں۔ ان پر پاکستانی فوج نے بہت مظالم ڈھائے تھے۔ انھوں نے اپنی آنکھوں سے خواتین کے ریپ دیکھے تھے اور پاکستانی فوج کے مظالم کو برداشت کیا تھا۔‘

’ان کو تربیت دینے والے بحریہ کے کمانڈوز نے محسوس کیا کہ یہ لوگ بہت جلدی تھک جاتے ہیں اور دور تک تیرنا ہو تو بہت زیادہ غلطیاں کرتے ہیں۔ کلکتہ کے فورٹ ولیم میں کمانڈر سامنت کے پاس یہ پیغام بھیجا گیا کہ ان کے لیے بہتر کھانے کا انتظام کیا جائے۔‘

’اس کے بعد سے ہر دن ایک جنگجو کو روزانہ دو انڈے، 120 گرام دودھ، ایک لیموں اور 80 گرام پھل دیے جانے لگیں۔ اس کا بہت جلد اثر دکھائی دینے لگا اور ان لوگوں صورت بدلنے لگی۔‘

لمپیٹ مائن کے استمعال کی تربیت

ان لوگوں کو تین ہفتوں تک جنگی جہازوں کو نقصان پہنچانے کی اہم تربیت دی گئی اور لمپیٹ مائن کا استعمال سکھایا گیا اور یہ بھی سکھایا گیا کہ کس وقت حملہ کرنا ہے۔

کمانڈر وجے کپل بتاتے ہیں کہ ’پانی کے اندر دھماکہ کرنے کے لیے لمپیٹ مائن کا استعمال کیا جاتا ہے۔ انڈین بحریہ کے پاس یہ بہت بڑی تعداد میں موجود نہیں تھے۔ بیرونی کرنسی کی کمی کی وجہ سے ہم انھیں بیرونی ممالک سے نہیں منگوا سکتے تھے۔‘

’اگر بیرونی ممالک سے ان کی سپلائی کا آرڈر دیا بھی جاتا تو پاکستان کو اس کی فوراً اطلاع مل جاتی۔ اس لیے ہم نے انھیں بھارت میں ہی آرڈیننس فیکٹریوں میں بنوانے کا فیصلہ کیا۔ یہ ایک طرح کا ٹائم بم بوتا تھا جس ميں مقناطیس لگا ہوا ہوتا تھا۔ تیراک انھیں جہاز میں لگا کر بھاگ نکلتے تھے اور اس میں تھوڑی دیر بعد دھماکہ ہوجاتا تھا۔‘

کنڈوم کا استعمال

دلچسپ بات یہ ہے کہ اس پورے آپریشن کے دوران بڑی تعداد میں کونڈومز کا بھی انتظام کیا گیا تھا۔

جب اس کا مطالبہ فورٹ ولیم پہنچا تو کمانڈر سامنت کی بھویں چڑھ گئیں لیکن انھیں کمانڈر مارٹس نے ہنستے ہوئے بتایا کہ اس کا استعمال جو آپ سوچ رہے ہیں اس کے لیے نہیں ہو گا۔

سندیپ انیتھین نے کہا: ’دراصل یہ جو لمپیٹ مائن تھی اس میں ایک طرح کا فیوز لگا ہوا ہوتا تھا جو کہ ایک گھلنے والے پلگ کی طرح کام کرتا تھا۔ تیس منٹ میں گھل جاتا تھا جب کہ غوطہ خور کو اپنا آپریشن مکمل کرنے کے لیے کم سے کم ایک گھنٹہ لگتا تھا۔‘

’اس کا یہ حل نکالا گیا کہ فیوز کے اوپر کنڈوم پہنا دیا جائے۔ غوطہ خور پاکستانی بحری جہاز میں لمپیٹ مائن چپکانے سے پہلے اس کے فیوز پر لگے کنڈوم کو اتار دیتے تھے اور وہاں سے تیزی سے تیرتے ہوئے دور چلے جاتے تھے۔‘

آرتی مکھرجی کا نغمہ کوڈ بنا

150 سے زیادہ بنگالی کمانڈوز کو مشرقی پاکستان کی سرحد کے اندر پہنچایا گيا اور نیول انٹیلیجنس کے چیف اور کمانڈر سامنت نے فیصلہ کیا کہ پاکستان کی چار بندرگاہوں پر کھڑے جہازوں پر ایک ساتھ حملہ کیا جائے۔

سبھی کمانڈوز کو ایک ایک لمپیٹ مائن، نیشنل پیناسونک کا ایک ریڈیو اور50 پاکستانی روپے دیے گئے۔

سندیپ انیتھن بتاتے ہیں: ’ان سے رابطہ کرنے کے لیے واکی ٹاکی ایک متبادل تھا لیکن اس کا استعمال صرف 10 سے 12 کلومیٹر کی دوری تک ہی کیا جا سکتا تھا تو اس لیے یہ فیصلہ کیا گیا کہ ان کمانڈوز تک پیغام پہنچانے کے لیے انڈیا کے سرکاری ریڈیو سٹیشن ’آکاش وانی‘ کا استعمال کیا جائے۔‘

’دوسری جنگ عظیم میں بھی اس طرح کے خفیہ پیغامات بھیجنے کے لیے دونوں جانب سے ریڈیو کا استعمال کیا گیا تھا۔ اس لیے سب لوگوں سے لگاتار ریڈیو سننے کے لیے کہا گیا۔ یہ فیصلہ کیا گیا کہ جب آکاش وانی کے کلکتہ سٹیشن ’بی کیندر‘ سے آرتی مکھرجی کا گایا ہوا یہ نغمہ ’امار پوتول آج کے پرتھم جابے سوسر باڑی‘ بجے گا تو اس کا مطلب یہ ہو گا کہ حملہ کرنے کے لیے 48 گھنٹے کا وقت بچا ہے۔‘

ٹویوٹا پک اپ ٹرک کا انتظام

14 اگست سنہ 1971 کی صبح چھ بجے آکاش وانی کے کلکتہ سٹیشن سے ہیمنت کمار کا ایک نغمہ سنوایا گیا ’آمی تومائی جوتو شونیے چھی چھی لیم گان۔‘

یہ بھی ایک طرح کا کوڈ تھا جس کا مطلب تھا کہ جنگجوؤں کو اس رات چٹ گاؤں سمیت چار بندرگاہوں پر حملہ کرنا تھا۔

سندیپ انیتھین بتاتے ہیں: ’ان دنوں چٹ گاؤں میں سینکڑوں بسیں اور تین پہیوں والے آٹو رکشا چلا کرتے تھے۔ وہاں نجی کاریں بہت کم تھیں۔ ایسی کاریں تو بہت کم تھیں جو کسی کی توجہ کا مرکز بنے بغیر شہر میں گھوم سکتی تھیں۔ اس مشن کو انجام دینے کے لیے مکتی واہینی کے جنگجوؤں کو شہر کے باہر جانا تھا۔‘

’مکتی واہنی کے ایک کارکن خورشید نے اس کا حل نکال لیا۔ اس نے کہیں سے ’واٹر اینڈ پاور ڈیولپمنٹ اتھارٹی‘ کے ایک ٹویوٹا پک اپ ٹرک کا انتظام کیا۔ اس میں پہلے لمپیٹ مائن رکھ کر اوپر سے سازوان کی پھلیوں یعنی ڈرم سٹکس سے ڈھانپ دیا۔‘

’اس ٹرک کو انوارا نامی گاؤں لے جایا گیا جہاں ایک محفوظ گھر میں ان لمپیٹ مائنز میں ڈیٹونیٹر فٹ کیے گئے اور ان کے پانی میں گھلنے والے پلگوں پر کنڈوم چڑھائے گئے۔‘

ایک ساتھ چار بندرگاہوں پر کھڑے جہازوں پر حملہ

مشرقی پاکستان میں 14 اگست سنہ 1971 کی آدھی رات کو 100 سے زیادہ بنگالی جنگجوؤں نے اپنے کپڑے اتار کر تیرنے والے ٹرنک اور پیروں میں ربڑ کے ’فِن‘ پہنے۔ انھوں نے لمپیٹ مائن کو گھمچھے (باریک تولیے) کی مدد سے اپنے سینے پر باندھا۔

دوسری جانب بحریہ کے دلی میں واقع ہیڈکواٹر میں کپتان مکی رائے اپنے سامنے رکھے فون میں سے ایک خاص فون کے بجنے کا انتظار کر رہے تھے۔

کلکتہ میں فورٹ ولیم میں اس پورے آپریشن کی قیادت کرنے والے کپتان سامنت اپنی رپورٹ لکھتے وقت وہی کوڈیڈ نغمہ سن رہے تھے جسے صبح آکاش وانی کے کلکتہ سٹیشن سے بجوایا گیا تھا۔

اس پورے مشن میں کپتان سامنت کا اہم کردار تھا۔ اس وقت فرانس میں رہائش پزیر ان کی بیٹی اججولا سامنت یاد کرتی ہوئی کہتی ہیں: ’1971 میں وہ 22 ماہ کے لیے گھر سے باہر تھے۔ شروع میں ہمیں معلوم ہی نہیں تھا کہ وہ کہاں گئے ہیں۔ پھر ایک دن وہ ’فرلو‘ لے کر وشاکھاپٹنم میں ہمارے گھر آئے تھے۔‘

'جب انھوں نے گھر کا دروازہ کھٹکھٹایا تو میں انھیں پہچان نہیں سکی تھیں۔ ان کی داڑھی بڑھی ہوئی تھی۔ وہ اپنی باتیں کسی کو نہیں بتاتے تھے۔'

’یہ تو جب میری والدہ بنگلہ دیش گئیں تو انھوں نے مجھے بتایا کہ تمہارے والد نے بنگلہ دیش کی آزادی کی لڑائی میں بہت کام کیا تھا۔‘

شاہ عالم نے پہلی چھلانگ لگائی

14 اگست سنہ 1971 کی آدھی رات کو چٹ گاؤں میں مکتی واہینی کے جنگجو شاہ عالم نے سب سے پہلے پانی میں چھلانگ لگائی اور وہ ایک کلومیٹر تیرتے ہوئے وہاں کھڑے پاکستانی جہاز کی طرف گئے۔ اس پورے آپریشن کو فرانس میں پی این ایس مانگرو سے بھاگ کر آنے والے عبدالواحد کنٹرول کر رہے تھے۔

سندیپ انیتھین بتاتے ہیں: ’ان کو تربیت دی گئی تھی کہ ندی میں پانی کے بہاؤ کے ساتھ تیرتے وہاں کھڑے جہازوں تک جائیں گے۔ وہاں جا کر جہازوں کی تلی پر لگی ہوئی کائی کو چاقو کی مدد سے صاف کریں گے اور لمپیٹ مائن چپکا کر واپس تیرتے ہوئے سمندر کے دوسرے ساحل تک پہنچ جائیں گے۔‘

’آدھی رات کا وقت اس لیے مقرر کیا گیا کیونکہ یہ ندی کی لہروں میں تیزی کا وقت تھا اور دوسری وجہ یہ کہ اس وقت جہاز کی شفٹ بھی بدلتی تھی۔ تیز لہروں کی وجہ سے شاہ عالم صرف 10 منٹ میں جہاز کے نیچے پہنچ گئے۔ انھوں نے اپنے سینے میں بندھی لمپیٹ مائن نکالی۔ گمچھے اور کنڈوم کو دور پھینکا۔‘

’جیسے ہی مائن کا مقناطیس جہازسے چپکا شاہ عالم نے واپس تیرنا شروع کیا۔ انھوں نے اپنے ’فن‘ تیرنے والے ٹرنک اور چاقو پھینکا اور واپس اپنی دھوتی پہن لی۔‘

زوردار دھماکے

ٹھیک آدھے گھنٹے بعد رات ایک بج کر 40 منٹ پر پورے چٹ گاؤں کی بندرگاہ میں پانی کے اندر دھماکوں کا سلسلہ شروع ہوا۔ پاکستانی بحری جہاز ’العباس‘ دھماکے کا سب سے پہلے نشانہ بنا اور پانی میں ڈوبنے لگا۔

وہاں اچانک افراتفری پھیل گئی۔ وہاں موجود فوجیوں نے دہشت میں آکر پانی میں اندھا دھند فائرنگ شروع کر دی۔ دھماکے جاری رہے۔ دیکھتے ہی دیکھتے لمپیٹ مائن سے کیے گئے سوراخوں سے ’العباس‘، ’اورینٹ بارج نمبر 6‘ اور ’اورمازد‘ جہازوں میں پانی بھرنے لگا اور تھوڑی دیر میں یہ تینوں جہاز پانی میں ڈوب گئے۔

اس رات نارائن گنج، چاندپور، چالنا اور مونگلا میں بھی کئی زوردار دھماکے سنے گئے۔ اس پورے آپریشن میں پاکستانی بحریہ کے 500،44 ٹن وزن کے جہاز ڈبوئے گئے اور 14000 ٹن وزن کے جہازوں کو نقصان پہنچایا گیا۔

کمانڈر وجے کپل بتاتے ہیں: ’پاکستانی نے تب تک مشرقی پاکستان میں اپنی تین ڈویژن فوج جھونک دی تھی۔ وہ مکتی واہنی کے جنگجوؤں کو بھگاتے ہوئے بھارتی سرحد تک لے آئے تھے۔‘

’ان دھماکوں کی وجہ سے نیازی کو اپنے فوجی وہاں سے ہٹانے پڑے اور مکتی واہنی کے جنگجوؤں پر سے اچانک دباؤ کم ہوگیا اور سب سے بڑی بات کہ آزادی کی جنگ لڑنے والے مکتی واہنی کے جنگجوؤں کا حوصلہ اچانک بڑھ گیا۔‘

کپتان سامنت کی گھر واپسی تین دسمبر 1971 کو انڈیا اور پاکستان کے درمیان لڑائی شروع ہوئی اور 16 دسمبر 1971 کو پاکستان کے 93000 فوجیوں نے انڈین فوج کے سامنے ہتھیار ڈال دیے۔

22 ماہ تک اپنے گھر سے دور رہنے والے کپتان اپنے وشاکھاپٹنم میں واقع گھر واپس آئے، لیکن صرف چند دنوں کے لیے ہی۔ ان کی بیٹی اججولا کو وہ دن ابھی تک یاد ہے۔ ’وہ بہت تھکے ہوئے تھے۔ ایسا لگ رہا تھا کہ جیسے وہ کئی روز سے سوئے نہیں ہیں۔ ڈاکٹر نے انھیں دیکھ کر کہا تھا کہ انھیں جتنا سونے دیا جائے اتنا اچھا ہے۔ ایک بات میں نے غور کی وہ بہت خاموش ہو گئے تھے۔‘

’میری والدہ نے ان کی پسند کے کھانے بنائے تھے۔ مچھلی کا سالن، کڑھی اور چاول۔ ہمارے لیے تو سارے تہوار اسی دن ہو گئے تھے۔ ہم نے اپنی ماں کے چہرے پر جو خوشی دیکھی تھی ہم وہ کبھی نہیں بھول سکتے ہیں۔ خوشی سے بڑھ کر ہم یہ اطمینان ہوا تھا کہ وہ زندہ ہیں۔‘

’لیکن ہمارے والد بہت دن تک ہمارے پاس نہیں رکے تھے۔ انھیں فوراً بنگلہ دیش جانا پڑا تھا۔ وہاں کی فوج کے قیام میں مدد کے لیے وہ وہاں گئے تھے۔‘