آرٹیکل 370 کی منسوخی اور کشمیر میں لاک ڈاؤن: ’آج کشمیری سوچ رہے ہیں کہ انڈیا سے ملنے کا فیصلہ درست تھا یا نہیں؟‘

انڈیا کے زیرِ انتظام کشمیر کی سابق وزیرِ اعلیٰ محبوبہ مفتی کی بیٹی التجا مفتی کا کہنا ہے کہ آج کشمیر میں ہر کوئی یہ سوچ رہا ہے کہ کیا بٹوارے کے بعد انڈیا سے جا ملنے کا فیصلہ درست تھا یا نہیں؟
بی بی سی اردو کے نامہ نگار شکیل اختر سے ایک خصوصی انٹرویو میں ان کا کہنا تھا کہ ’عمران خان کی تقریر کے بعد کشمیریوں نے سڑکوں پر آ کر نعرے بازی کی۔ آج کشمیری سوچ رہے ہیں کہ جس ملک (انڈیا) کے ساتھ ہم (بٹوارے کے وقت) منسلک ہوئے آج وہ سکیولر نہیں رہا تو کیا ہماری قیادت نے (اس وقت صحیح) فیصلہ کیا تھا۔‘
ان کا مزید کہنا تھا کہ آج ہر بوڑھے اور نوجوان کے ذہن میں یہی سوال ہے کہ انڈیا اپنے تنوع پر فخر کرتا تھا، کیا ہم نے صحیح کیا اس سے مل کر؟‘
یہ بھی پڑھیے
انھوں نے کہا کہ ’اقوام متحدہ میں کس نے ہمارے لیے بات کی؟ عمران خان صاحب نے بات کی اور کشمیریوں کو یہ اچھا لگا۔ اس وقت کشمیر میں نوجوانوں میں بہت زیادہ انڈیا مخالف جذبات پیدا ہو گئے ہیں۔‘
End of سب سے زیادہ پڑھی جانے والی
اس تحریر میں ایسا مواد ہے جو Google YouTube کی جانب سے دیا گیا ہے۔ کسی بھی چیز کے لوڈ ہونے سے قبل ہم آپ سے اجازت چاہتے ہیں کیونکہ یہ ممکن ہے کہ وہ کوئی مخصوص کوکیز یا ٹیکنالوجیز کا استعمال کر رہے ہوں۔ آپ اسے تسلیم کرنے سے پہلے Google YouTube ککی پالیسی اور پرائیویسی پالیسی پڑھنا چاہیں گے۔ اس مواد کو دیکھنے کے لیے ’تسلیم کریں، جاری رکھیں‘ پر کلک کریں۔
YouTube پوسٹ کا اختتام
انڈیا کی جانب سے جموں اور کشمیر کے علاقوں سے آرٹیکل 370 کی منسوخی اور لاک ڈاؤن کو تقریباً دو ماہ ہو گئے ہیں۔ انڈیا کی حکومت کا کہنا ہے کہ انھوں نے یہ اقدام کشمیر کی ترقی کے لیے کیا ہے۔
مگر التجا مفتی اس مؤقف کو نہیں مانتیں۔
’آرٹیکل 370 اور ترقی کا آپس میں کوئی لینا دینا نہیں ہے۔ لیکن کیونکہ اب یہ (انڈین حکومت) دنیا بھر میں جواز پیش کرنا چاہتے ہیں، اس لیے ترقی کا بول رہے ہیں۔ آپ کو ابھی تک کیا روک رہا تھا؟ جموں اور کشمیر میں ترقیاتی پیمانے جیسے شرحِ خواندگی، یا غربت کو دیکھیں۔۔۔ ریاست بہار سے لوگ یہاں مزدوری کے لیے آتے ہیں کیونکہ یہاں انھیں بہتر اجرت ملتی ہے۔‘
ان کا مزید کہنا تھا کہ ’یہ جو دکھانا چاہ رہے ہیں کہ کشمیری پرامن نہیں ہیں اور ترقی کے لیے یہ سب کیا گیا وہ غلط ہے۔ اگر آپ اتنا بڑا فیصلہ کرتے ہیں تو کیا لوگوں کا یہ حق نہیں بنتا کہ ان سے مشاورت کر کے فیصلہ کیا جائے۔‘

،تصویر کا ذریعہGetty Images
حکومت کا یہ بھی موقف ہے کہ کشمیر کی مرکزی دھارے کی جماعتوں نے کشمیر کو لوٹا اس لیے ان (جماعتوں) کے حق میں ہے کہ حالات جیسے تھے ویسے ہی رہیں۔
اس سوال کے جواب میں ان کا کہنا تھا کہ ’میرے نانا مفتی صاحب نے 1999 میں پارٹی بنائی تھی۔ اس سے پہلے کشمیر میں صرف ایک پارٹی تھی اور وہ این سی تھی۔ میری ماں کو یہ پارٹی پُشتَینی جائیداد کے طور پر نہیں ملی انھوں نے خون پسینہ ایک کر کے یہ پارٹی بنائی ہے اور یہ اس لیے بنائی کہ لوگوں کے وقار کی خاطر لڑ سکیں۔‘
ان کا مزید کہنا تھا کہ ’مفتی صاحب کا پہلا دور (2002 سے 2005 تک) جموں اور کشمیر میں بہترین وقت مانا جاتا ہے۔ کیونکہ اس وقت امن و استحکام تھا اور لوگوں کو لگ رہا تھا کہ انھیں ان کا وقار لوٹایا گیا تھا۔ تو یہ جو بیانیہ پیش کر رہے ہیں وہ بالکل غلط ہے۔‘
اس کے علاوہ حکومت کا یہ بھی کہنا ہے کہ وہ اس لیے لاک ڈاؤن رکھے ہوئے ہے کہ حالات نہ خراب ہوں۔

،تصویر کا ذریعہABID BHAT
ان کا کہنا تھا کہ ’کشمیر کا سانحہ کیا ہے؟ لمحوں نے خطا کی صدیوں نے سزا پائی! وفاق کے فیصلوں کی وجہ سے کشمیری پس رہے ہیں۔ اگر یہ ابھی کہہ رہے ہیں کہ حالات خراب ہوں گے تو حالات کیوں خراب ہوں گے؟ کیونکہ انھوں نے اتنا بڑا فیصلہ کیا ہے۔‘
انھوں نے سوال کیا کہ اگر یہ ترقی کی بات کرتے ہیں تو انھوں نے ریاست کے حصے کیوں کیے؟ ’یہ کشمیریوں سے اختیارات لینا چاہتے ہیں۔ اور یہ بتانا چاہتے ہیں کہ یہ آپ کو مزہ چکھا کر رہیں گے اور مکمل طور پر کشمیریوں سے اختیارات لے لیں گے۔‘
التجا مفتی نے کہا کہ ’انٹرنیٹ بند کرنے کا یہ جواز درست نہیں ہے۔ ہمارا ملک اس وقت لنچستان بن گیا ہے۔ ان کے وزرا لِنچ کرنے والوں کو مالائیں پہناتے ہیں۔ تو آپ پھر ملک بھر کو بند کر دیں۔ یہ چاہتے نہیں کہ کشمیر کوئی آواز اٹھے۔ ایک دفعہ انٹرنیٹ آ جائے گا تو لوگ بتا سکیں گے کہ ان دو ماہ انھیں کیسے قید میں رکھا گیا۔ کتنے بچوں کو قید کیا گیا تشدد کا نشانہ بنایا گیا، یہ نہیں چاہتے کہ یہ ساری چیزیں سامنے آئیں۔‘











