کشمیر پر انڈیا کی سپریم کورٹ میں سماعت: ’اگر کشمیر میں موبائل فون بحال کیے تو سرحد پار سے جعلی پیغامات آنا شروع ہو جائیں گے‘

موبائل فون

،تصویر کا ذریعہGetty Images

،تصویر کا کیپشنحکومت کا کہنا ہے کہ لینڈ لائن تو کھول دی گئی ہیں لیکن سکیورٹی خدشات کے پیشِ نظر موبائل فون ابھی بھی بند ہیں

انڈیا میں عدالت عظمی کے ایک آئینی بنچ نے کشمیر کے متعلق مختلف درخواستوں پر سماعت کرتے ہوئے کہا ہے کہ انفرادی آزادی کے خدشات اور قومی سلامتی کے درمیان توازن قائم کرنے کی ضرورت ہے۔

حکومت کے اقدامات کا دفاع کرتے ہوئے سولیسیٹر جنرل تشار مہتا نے کہا کہ کشمیر میں سو فیصد لینڈ لائن فون کام کر رہے ہیں اور انٹرنیٹ کے بارے میں ہم پہلے ہی وضاحت کر چکے ہیں کہ فی الحال وہ کیوں کام نہیں کر رہا ہے۔'

کشمیر ٹائمز کی مدیر انورادھا بھسین کی درخواست پر سماعت کے دوران مرکزی حکومت کی جانب سے ایک جوابی حلف نامہ دائر کیا گیا۔

تاہم سینيئر وکیل سنجے ہیگڑے نے کہا کہ کشمیر میں حالات معمول پر نہیں ہیں اور 57 دنوں سے وہاں مواصلاتی بلیک آؤٹ ہے۔

یہ بھی پڑھیئے

انھوں نے کہا: 'آزادی کا مطلب محض جانوروں کی طرح جینا نہیں ہے۔ اپنے پیاروں سے رابطے کا حق بھی آزادی کے حقوق میں شامل ہے۔'

اس کے جواب میں جسٹس بی آر گوائی نے کہا: 'انفرادی آزادی کو قومی سلامتی کی ضروریات کے پیش نظر متوازن رکھنا ہوگا۔'

کشمیر

،تصویر کا ذریعہGetty Images

،تصویر کا کیپشنکشمیر میں دو ماہ سے حالات کشیدہ ہیں

اس سے قبل جسٹس این وی رمنا نے پوچھا کہ آیا جموں کشمیر میں موبائل فون کام کر رہا ہے یا نہیں جس کا سولیسیٹر جنرل نے نفی میں جواب دیا۔

مہتا نے کہا: 'ملک میں موبائل فون کی ابتدا 1995 میں ہوئی جبکہ جموں کشمیر میں یہ 2003 میں متعارف کرایا گیا۔ (اگر موبائل فون بحال کیا جاتا ہے تو) کشمیر سرحد پار سے آنے والے جعلی پیغامات سے بھر جائے گا۔'

دوسری طرف جسٹس این وی رمنا کی سربراہی میں پانچ رکنی آئینی بنچ نے آرٹیکل 370 کے متعلق درخواستوں کی سماعت کرتے ہوئے حکومت کو اپنا موقف بتانے کے لیے چار ہفتوں (28 دنوں) کا وقت دیا ہے اور درخواست گزاروں سے بھی کہا ہے کہ وہ مرکز کے جواب کے بعد ایک ہفتہ کے اندر عدالت میں اپنا موقف جمع کرا سکتے ہیں۔

،ویڈیو کیپشنچار مظاہرین کی ہلاکت کے بعد کشمیر میں مزید کشیدگی

سپریم کورٹ نے مقدمے کی اگلی سماعت کے لیے 14 نومبر کی تاریخ طے کی ہے۔

خیال رہے کہ کشمیر سے متعلق مختلف درخواستوں کو سپریم کورٹ نے دو مختلف خانوں میں رکھا ہے۔ ایک میں آرٹیکل 370 کے متعلق تمام اپیلوں کی سماعت ہوگی تو دوسری میں کشمیر میں مواصلات، اخبارات کی اشاعت اور انسانی ہمدردی کے دوسرے مسائل کے خلاف اپیل کی سماعت ہو گی۔

درخواست گزاروں نے حکومت کو چار ہفتے کا وقت دیے جانے کی مخالفت کی اور کہا کہ اس سے درخواست دائر کرنے کا مقصد ہی فوت ہو جائے گا۔

سپریم کورٹ میں جموں و کشمیر کو خصوصی حیثیت دینے والے آرٹیکل 370 کے خاتمے، آزادی صحافت، مواصلات کی سہولیات پر پابندی، لاک ڈاؤن کی قانونی حیثیت اور نقل و حرکت کی پابندیوں اور انسانی حقوق کی خلاف ورزیوں پر مبینہ پابندیوں کو چیلنج کرتے ہوئے متعدد درخواستیں دائر کی گئی ہیں۔

پہلی سماعت میں سپریم کورٹ نے اس کے بارے میں کوئی حکم نہیں دیا اور فوری طور پر اس کے بارے میں دلائل سننے سے بھی انکار کردیا تھا۔ عدالت نے کہا: 'اگر فیصلہ آپ کے حق میں آتا ہے تو پھر سب کچھ بحال کیا جاسکتا ہے۔'

عدالت عظمی نے یہ بھی کہا کہ وہ اس ضمن میں مزید کسی درخواست کو قبول نہیں کرے گی۔

،ویڈیو کیپشنکشمیر کی مزاحمتی موسیقی