آپ اس وقت اس ویب سائٹ کا ٹیکسٹ پر مبنی ورژن دیکھ رہے ہیں جو کم ڈیٹا استعمال کرتا ہے۔ مرکزی ویب سائٹ جہاں تمام تصاویر اور ویڈیوز موجود ہیں دیکھیے
انڈیا: جھار کھنڈ میں تبریز انصاری کی ہلاکت کی چارج شیٹ سے قتل کا الزام خارج
جھار کھنڈ پولیس نے ہجوم کے ہاتھوں تشدد سے ہلاک ہونے والے تبریز انصاری کے معاملے میں دائر کی جانے والی چارج شیٹ سے قتل کا الزام ہٹا دیا ہے۔
چارج شیٹ سے قتل کا الزام ہٹانے کی یہ دلیل دی گئی ہے کہ پوسٹ مارٹم رپورٹ کے مطابق تبریز کی موت حرکتِ قلب بند ہونے سے ہوئی تھی۔
بائیس سالہ تبریز انصادی کو 18 جون کو جھار کھنڈ میں ہجوم نے تشدد کا نشانہ بنایا تھا۔ کچھ لوگوں نے تبریز کو چوری کے الزام پکڑ کر کھمبے سے باندھ کر گھنٹوں انکے ساتھ تشدد کیا تھا۔
تششد میں شدید زخمی ہونے کے بعد انکی موت ہو گئی تھی۔
End of سب سے زیادہ پڑھی جانے والی
اس پٹائی کا ویڈیو بھی سوشل میڈیا پر پوسٹ کیا گیا تھا۔ ویڈیو میں تشدد کے دوران تبریز سے 'جے شری رام' اور جہ ہنو مان کے نعرے بھی لگواتے ہوئے بھی دکھایا گیا تھا۔
ویڈیو میں 24 سالہ تبریز انصاری اپنی جان کے لیے بھیک مانگ رہے ہیں جبکہ ان کے چہرے پر آنسو اور خون بہتا نظر آ رہا تھا۔
کئی گھنٹوں کے مار پیٹ کے بعد تبریز کو پولیس کے حوالے کر دیا گیا پولیس نے انھیں حوالات میں بند کر دیا اور ان کے اہلخانہ کو ان سے ملنے بھی نہیں دیا۔ چار دن بعد تبریز زخموں کی تاب نہ لاتے ہوئے ہلاک ہو گئے۔
تبریز کے خاندان کا الزام ہے کہ زخموں کے باوجود پولیس نے انھیں علاج کے لیے ہسپتال نہیں بھیجا جبکہ دوسری طرف ریاستی پولیس نے کسی قسم کی غفلت سے انکار کیا تھا۔