کشمیر آور کے بعد عمران خان کی ٹویٹ: عوام پر فخر ہے کہ وہ کشمیریوں سے اظہارِ یکجہتی کے لیے نکلے

،تصویر کا ذریعہAAMIR QURESHI
- مصنف, ترہب اصغر
- عہدہ, بی بی سی اردو ڈاٹ کام، اسلام آباد
پاکستان کے تمام شہروں کے علاوہ جمعے کو وزیراعظم ہاؤس میں بھی کشیمر آور کے حوالے سے تقریب کا انعقاد کیا گیا۔ دن کے 11 بجے ہی صحافی، سرکاری ملازمین، مختلف سکولوں کے طلبہ وطالبات اور سیاسی رہنماؤں کو وزیراعظم ہاؤس میں داخلے کی اجازت ملی تو باری باری سب نے اندر داخل ہونا شروع کر دیا۔
وزیراعظم ہاؤس کے باہر میڈیا کے لیے جگہ مخصوص کی گئی تھی۔ اندر داخل ہوتے ہی وزیراعظم ہاؤس کی بلند و بلا عمارت پر نظر پڑی تو اس پر ایک جانب پاکستان کا جھنڈا جبکہ دوسری جانب کشمیر کا جھنڈا لگا ہوا تھا۔ سکیورٹی اہلکار وزیراعظم ہاؤس میں آنے والے لوگوں کو منظم کرنے میں مصروف تھے۔
چند لمحوں بعد کے ایک سٹاف ممبر کی طرف سے تمام اہلکاروں اور سٹاف میں پاکستان اور کشمیر کے جھنڈوں والے بیجز تقسیم کیے گئے۔ سکولوں کی طلبات اور طلبہ پاکستان اور کشمیر کے حق میں نعرے لگاتے ہوئے وزیراعظم ہاؤس میں داخل ہوئے تو انھیں بھی پاکستان اور کشمیر کے جھنڈے دیے گئے۔
مزید پڑھیے
طلبہ اور طلبات نے کشیمر کے حق میں لکھے ہوئے بینرز بھی اٹھا رکھے تھے۔ وزیر اعظم عمران خان 12 بجنے سے پہلے اپنے دفتر سے باہر آگئے۔ تقریب میں شرکت کے لیے سیاسی رہنماؤں سمیت پارلیمنٹیرینز بھی وزیر اعظم کے ہمراہ موجود تھے۔
12 بجے پاکستان رک گیا
11:57 پر کشمیر سے اظہار یکجہتی کے لیے سائرن بجایا گیا۔ جس کے فوری بعد پاکستان کا قومی ترانہ چلا دیا گیا۔ پاکستان کا قومی ترانہ ختم ہوتے ہی کشمیر کا ترانہ بجایا گیا۔ وزیراعظم ہاؤس میں موجود شہریوں نے انڈیا کے خلاف نعرے بازی کی اور پاکستان اور کشمیر کے حق میں نعرے لگائے۔
End of سب سے زیادہ پڑھی جانے والی
دوسری جانب شہر کے تمام ٹریفک سگنلز کو سرخ کر دیا گیا اور ٹریفک کا نظام بھی رک گیا۔ سرکاری ملازمین کشمیریوں سے اظہار یکجہتی کے لیے کام روک کر عمارتوں سے باہر آگئے۔
مواد دستیاب نہیں ہے
Facebook مزید دیکھنے کے لیےبی بی سی. بی بی سی بیرونی سائٹس پر شائع شدہ مواد کی ذمہ دار نہیں ہے.Facebook پوسٹ کا اختتام
وزیر اعظم عمران خان کا خطاب
کشمیر سے اظہار یکجحتی کی تقریب سے خطاب کرتے ہوئے وزیراعظم عمران خان نے کہا کہ ’آج سارا پاکستان اپنے کشمیریوں کے ساتھ کھڑے ہیں‘۔
وزیر اعظم عمران خان نے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ تقریباً 80 لاکھ کشمیری چار ہفتے سے کرفیو میں بند ہیں۔
ان کا کہنا تھا ’آج کا دن منانے کا مقصد کشمیریوں کو یہ بتانا ہے کہ جب تک ان کو آذادی نہیں ملتی تب تک پاکستانی قوم کشمیریوں کے لیے جدوجہد کرتی رہے گی۔‘
وزیر اعظم پاکستان عمران خان نے کہا کہ ’انڈیا میں آج کی حکومتی جماعت ہٹلر کی نازی پارٹی سے متاثر ہو کر بنی تھی۔ ان کا مقصد بھی یہی تھا کہ یا تو مسلمانوں کو انڈیا سے نکال دیں یا پھر ان کو دوسرے درجے کے شہری کے حیثیت کے طور پر دیکھا جائے۔ جس کی مثال آج انڈیا کے زیر انتظام کشمیر میں ہونے والے ظلم سے صاف ظاہر ہے۔‘
وزیر اعظم عمران خان نے مزید کہا کہ ’مجھے افسوس ہے کہ جب مسلمانوں پر ظلم ہوتا ہے تو انٹرنیشنل کمیونٹی خاموش رہتی ہے۔ انھوں نے کہا کہ میں کشمیر کا سفیر بنوں گا اور جب تک کشمیر آزاد نہیں ہوتا میں ہر فورم پر کشمیر کی جنگ لڑوں گا۔‘
انھوں نے کہا ’میں آج یہ دنیا کو بتا رہا ہوں کہ انڈیا اور نریندر مودی پاکستان کے زیر انتظام کشمیر میں کچھ نا کچھ کریں گے اور اگر ایسا ہوا تو ہم اینٹ کا جواب پتھر سے دیں گے۔ ہماری فوج تیار ہے۔ میں دنیا کو بتانا چاہتا ہوں کہ جب دو ایٹمی طاقتیں ایک دوسرے کی آنکھوں میں آنکھیں ڈالتی ہیں تو اس سے پوری دنیا متاثر ہوتی ہے۔‘
عمران خان کی ٹویٹ
اس تحریر میں ایسا مواد ہے جو X کی جانب سے دیا گیا ہے۔ کسی بھی چیز کے لوڈ ہونے سے قبل ہم آپ سے اجازت چاہتے ہیں کیونکہ یہ ممکن ہے کہ وہ کوئی مخصوص کوکیز یا ٹیکنالوجیز کا استعمال کر رہے ہوں۔ آپ اسے تسلیم کرنے سے پہلے X ککی پالیسی اور پرائیویسی پالیسی پڑھنا چاہیں گے۔ اس مواد کو دیکھنے کے لیے ’تسلیم کریں، جاری رکھیں‘ پر کلک کریں۔
X پوسٹ کا اختتام
کشمیر آور کے بعد عمران خان نے اپنی ایک ٹویٹ میں کہا ہے کہ جس طرح لوگ کشمیر کے ساتھ یکجہتی میں باہر نکلے اس پر انھیں فخر ہے۔
ڈی چوک
اسلام آباد کا ڈی چوک جو دھرنوں کے لیے جانا جاتا ہے، جمعے کو وہاں شہریوں کی بڑی تعداد ’کشمیر آور‘ منانے پہنچی۔ ہر عمر اور شعبے سے تعلق رکھنے والے پاکستانیوں کا یہی کہنا تھا کہ وہ آج یہاں حکومت کی کال پر اپنے کشمیری بھائیوں کے ساتھ اظہار یکجہتی کے لیے پہنچے ہیں۔ ڈی چوک پر موجود کچھ لوگ ایسے بھی تھے جو منفرد انداز اور لباس پہنے کشمیر سے اظہار یکجہتی کرتے دکھائی دیے۔
کشمیر تنازع پر کیا لوگ حکومت کے اقدامات سے مطمئن ہیں؟
کشمیر آور منانے کے لیے گھروں، دفاتر سکول اور کالجوں سے باہر آنے والے شہریوں اور سیاسی رہنماؤں سے جب یہ سوال کیا گیا کہ آج کے اس اقدام سے دنیا کو کیا پیغام جائے گا؟ تو بیشتر لوگوں کا جواب تھا کہ ’بطور پاکستانی ہم دنیا کو بتانا چاہتے ہیں کہ ہم کشمیریوں کے ساتھ کھڑے ہیں اور انڈیا کہ زیر انتظام کشمیر میں جو مظالم ڈھائے جا رہے ہیں ہم اس کی شدید مزمت کرتے ہیں۔‘
جبکہ شہریوں سمیت سیاسیی رہنماؤں نے جن میں ڈاکٹر فہمیدہ مرزا، مشیر اطلاعات ڈاکٹر فردوس عاشق اعوان، اندلیب عباس، عظمیٰ کاردار سامل تھیں، بی بی سی سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ کشمیر کے لیے آدھے گھنٹے کی قربانی دینے کے لیے ’ہم ہر ہفتے تیار ہیں اور ہم کشمیر کے معاملے پر وزیر اعظم عمران خان کے اقدامات سے مطمئن ہیں۔‘

،تصویر کا ذریعہGetty Images
’انڈیا کشمیر سے نکل جاؤ‘
ادھر بی بی سی اردو کے پروگرام نیم روز میں صحافی سلیم رضوی سے بات کرتے ہوئے اقوام متحدہ میں پاکستان کی مستقل مندوب ملیحہ لودھی نے کہا کہ ’میں سمجھتی ہوں انڈیا کو زمینی حقائق کو مان لینا چاہیے اور وہ یہ ہے کہ کشمیری چاہتے ہیں کہ انھیں آزادی ملے اور انھیں آزادی ہو کہ وہ فیصلہ کریں کہ وہ کس طرح سے رہنا چاہتے ہیں۔‘
انھوں نے کہا کہ جب کرفیو اٹھے گا تو انڈیا ایک ہی آواز سنے گا۔ ’ایک دن تو آئے گا جب انڈیا کو کرفیو اور پابندیاں اٹھانی پڑیں گی پھر ایک ہی آواز انڈیا سنے گا وہاں سے اور وہ ہو گی، انڈیا کشمیر سے نکل جاؤ۔'
اس سوال پر کہ پاکستان کو کشمیر کے مسئلے پر بین الاقوامی برادری کی جانب سے کوئی واضح ردعمل اور حمایت کیوں نہیں ملی، ملیحہ لودھی نے کہا کہ پاکستان تو ایک اصول پر کھڑا ہے۔
انھوں نے کہا کہ ’کشمیری عوام اکیلے نہیں ہماری اخلاقی سیاسی اور سفارتی مدد تب تک ان کے ساتھ رہے گی جب تک انھیں انصاف نہیں ملے گا۔‘

انڈیا کے زیر انتظام کشمیر میں حالات
سری نگر سے نامہ نگار ریاض مسرور کا کہنا ہے کہ جمعے کو کشمیر میں سکیورٹی لاک ڈاؤن کو 26 دن مکمل ہو گئے ہیں اور سکیورٹی اقدامات میں نرمی کے باوجود نظامِ زندگی اب تک مکمل طور پر بحال نہیں ہو سکا ہے۔
انھوں نے بتایا کہ مساجد میں جمعے کے اجتماعات آج تیسرے جمعے کو بھی ممکن نظر نہیں آرہے۔ لوگوں میں اضطراب اب بھی برقرار ہے تاہم مجموعی صورتحال پرامن ہے اور سڑکوں پر ٹریفک بڑھ رہی ہے۔
نامہ نگار کا کہنا ہے کہ حکومت نے تین مسلم اکثریتی علاقوں میں موبائل فون سگنل بحال کرنے کا اعلان بھی کیا ہے۔ ان میں جموں کے کچھ اضلاع ڈوڈا رام، کشتوار اور راجوری کے علاوہ پونچھ شامل ہیں۔
خیال رہے کہ یہ وہ علاقے ہیں جو کشمیر کو تقسیم کرنے والی لائن آف کنٹرول سے متصل ہیں اور حساس سمجھے جاتے ہیں۔
انڈین آرمی چیف جنرل کشن راوت بھی جمعے کو سرینگر کا دورہ کر رہے ہیں۔ نامہ نگار کے مطابق انڈین آرمی چیف فوجی ہیڈکوارٹر میں سکیورٹی صورتحال پر اجلاس میں شریک ہوں گے اور اہم حکام سے ملیں گے۔
آرمی چیف کا یہ دورہ وزیرِ دفاع راج ناتھ سنگھ کے دورۂ لداخ کے ایک دن بعد ہو رہا ہے۔














