زوماٹو تنازعہ: ’جتنی مرضی نفرت پھیلا لیں، انسانیت ہمیشہ جیتے گی‘

،تصویر کا ذریعہGetty Images
انڈیا میں گھر پر کھانا پہنچانے والی (فوڈ ڈلیوری) کمپنی نے ٹوئٹر پرایک صارف کو کھانے اور مذہب کو آپس میں جوڑنے سے منع کیا ہے جس کے بعد سے سوشل میڈیا پر اس حوالے سے خاصی لے دے ہو رہی ہے۔
انڈیا کے ایک ٹوئٹر صارف نے منگل کے روز ایک ٹوئیٹ میں لکھا تھا کہ انھوں نے ’زوماٹو انڈیا‘ سے کھانا منگوانے کا ارادہ اس لیے ترک کر دیا کیونکہ زوماٹو نے ان کا کھانا ڈلیور کرنے کے لیے جس شخص کوبھیجنا تھا وہ ہندو نہیں تھا۔ صارف نے مزید لکھا کہ زوماٹو نے ڈلیوری کرنے والے کو تبدیل کرنے اور پیسے واپس کرنے کی درخواست کو بھی مسترد کر دیا۔
اس تحریر میں ایسا مواد ہے جو X کی جانب سے دیا گیا ہے۔ کسی بھی چیز کے لوڈ ہونے سے قبل ہم آپ سے اجازت چاہتے ہیں کیونکہ یہ ممکن ہے کہ وہ کوئی مخصوص کوکیز یا ٹیکنالوجیز کا استعمال کر رہے ہوں۔ آپ اسے تسلیم کرنے سے پہلے X ککی پالیسی اور پرائیویسی پالیسی پڑھنا چاہیں گے۔ اس مواد کو دیکھنے کے لیے ’تسلیم کریں، جاری رکھیں‘ پر کلک کریں۔
X پوسٹ کا اختتام, 1
زوماٹو نے اس ٹوئیٹ کا فوری جواب دیتے ہوئے لکھا کہ ’کھانے کا کوئی مذہب نہیں ہوتا، کھانا بذاتِ خود ایک مذہب ہے۔‘
اس جواب کے ساتھ ہی کمپنی ایک بیان بھی جاری کیا جس میں اس کا کہنا تھا کہ ’ہم تمام مذاہب کا احترام کرتے ہیں اور اسی لیے ہم کھانے کے حوالے سے تمام معلومات بھی فراہم کرتے ہیں تاکہ صارفین کو اپنی مرضی کا کھانا میسر ہو سکے۔‘
اس تحریر میں ایسا مواد ہے جو X کی جانب سے دیا گیا ہے۔ کسی بھی چیز کے لوڈ ہونے سے قبل ہم آپ سے اجازت چاہتے ہیں کیونکہ یہ ممکن ہے کہ وہ کوئی مخصوص کوکیز یا ٹیکنالوجیز کا استعمال کر رہے ہوں۔ آپ اسے تسلیم کرنے سے پہلے X ککی پالیسی اور پرائیویسی پالیسی پڑھنا چاہیں گے۔ اس مواد کو دیکھنے کے لیے ’تسلیم کریں، جاری رکھیں‘ پر کلک کریں۔
X پوسٹ کا اختتام, 2
زوماٹو کے بانی دیپندر گویال کا کہنا تھا کہ ’ہم انڈیا کے بنیادی نظریے، اپنے معزز صارفین اور شراکت داروں کے تنوع پر فخر کرتے ہیں۔ ہمیں ایسے کاروبار میں نقصان پر کوئی دکھ نہیں ہے جو ہماری اقدار کے راستے میں حائل ہو۔‘
اس تحریر میں ایسا مواد ہے جو X کی جانب سے دیا گیا ہے۔ کسی بھی چیز کے لوڈ ہونے سے قبل ہم آپ سے اجازت چاہتے ہیں کیونکہ یہ ممکن ہے کہ وہ کوئی مخصوص کوکیز یا ٹیکنالوجیز کا استعمال کر رہے ہوں۔ آپ اسے تسلیم کرنے سے پہلے X ککی پالیسی اور پرائیویسی پالیسی پڑھنا چاہیں گے۔ اس مواد کو دیکھنے کے لیے ’تسلیم کریں، جاری رکھیں‘ پر کلک کریں۔
X پوسٹ کا اختتام, 3
اس حوالے سے ٹوئیٹر پر #Zomato #IStandWithAmit #BoycottZomato اور #ZomatoIndia کے ہیش ٹیگ ٹرینڈ کر رہے ہیں جن میں صارفین ایک طرف تو زوماٹو کے اس اقدام کا خیر مقدم کر رہے ہیں لیکن دوسری جانب یہ تنقید بھی کی جا رہی ہے کہ اگر زوماٹو مذہبی بنیادوں پر تفریق نہیں کرتا تو وہ اپنی ایپ کے ذریعے حلال کھانا کیوں ڈلیور کرتا ہے۔
ایک صارف نے تو جذبات میں آ کر یہ لکھ دیا کہ میں اپنے فون سے اس ایپ کو ڈیلیٹ کر رہا ہوں۔
اس تحریر میں ایسا مواد ہے جو X کی جانب سے دیا گیا ہے۔ کسی بھی چیز کے لوڈ ہونے سے قبل ہم آپ سے اجازت چاہتے ہیں کیونکہ یہ ممکن ہے کہ وہ کوئی مخصوص کوکیز یا ٹیکنالوجیز کا استعمال کر رہے ہوں۔ آپ اسے تسلیم کرنے سے پہلے X ککی پالیسی اور پرائیویسی پالیسی پڑھنا چاہیں گے۔ اس مواد کو دیکھنے کے لیے ’تسلیم کریں، جاری رکھیں‘ پر کلک کریں۔
X پوسٹ کا اختتام, 4
ایک اور صارف نے زوماٹو کے اس اقدام کا خیر مقدم کرتے ہوئے لکھا کہ آج کے بعد وہ صرف زوماٹو ہی سے کھانا منگوائیں گے۔
End of سب سے زیادہ پڑھی جانے والی
اس تحریر میں ایسا مواد ہے جو X کی جانب سے دیا گیا ہے۔ کسی بھی چیز کے لوڈ ہونے سے قبل ہم آپ سے اجازت چاہتے ہیں کیونکہ یہ ممکن ہے کہ وہ کوئی مخصوص کوکیز یا ٹیکنالوجیز کا استعمال کر رہے ہوں۔ آپ اسے تسلیم کرنے سے پہلے X ککی پالیسی اور پرائیویسی پالیسی پڑھنا چاہیں گے۔ اس مواد کو دیکھنے کے لیے ’تسلیم کریں، جاری رکھیں‘ پر کلک کریں۔
X پوسٹ کا اختتام, 5
ایک صارف ساکشی جوشی کا اس حوالے سے کہنا تھا کہ ’لوگ اپنے ہم وطنوں کے بارے میں جتنی مرضی نفرت پھیلا لیں، انسانیت ہمیشہ زندہ رہے گی۔‘
اس تحریر میں ایسا مواد ہے جو X کی جانب سے دیا گیا ہے۔ کسی بھی چیز کے لوڈ ہونے سے قبل ہم آپ سے اجازت چاہتے ہیں کیونکہ یہ ممکن ہے کہ وہ کوئی مخصوص کوکیز یا ٹیکنالوجیز کا استعمال کر رہے ہوں۔ آپ اسے تسلیم کرنے سے پہلے X ککی پالیسی اور پرائیویسی پالیسی پڑھنا چاہیں گے۔ اس مواد کو دیکھنے کے لیے ’تسلیم کریں، جاری رکھیں‘ پر کلک کریں۔
X پوسٹ کا اختتام, 6
زوماٹو نے اپنے بیان میں مزید وضاحت کی ہے کہ ’ہم نے اپنی ایپ میں حلال کھانا آرڈر کرنے کی سہولت اس لیے رکھی ہے تا کہ صارفین آرڈر کرنے سے پہلے اچھی طرح سوچ لیں کے انھوں کیا کھانا ہے۔‘
ان کا مزید کہنا تھا کہ ’دوسری فاسٹ فوڈ کمپنیاں بھی حلال کھانے کی سہولت دیتی ہیں اور اس میں کوئی عیب نہیں ہے۔‘










