کبیر سنگھ: بات شروع کاجل اور آئی لائینر سے ہوئی لیکن مقصد شاہد کپور کی فلم پر تنقید

،تصویر کا ذریعہProdip Guha
- مصنف, کومل فاروق
- عہدہ, بی بی سی اردو ڈاٹ کام
سوشل میڈیا پر ٹرولنگ کوئی نئی بات نہیں ہے اور وقت گزرنے کے ساتھ ٹرولنگ کے واقعات میں بتدریج اضافہ دیکھنے میں آیا ہے۔ لیکن آئے دن سوشل میڈیا صارفین بھی اپنی بات مخصوص لوگوں تک پہنچانے کے لیے نئے طریقے آزماتے رہتے ہیں۔
حال ہی میں انڈیا سے تعلق رکھنے والی ٹوئٹر صارف ستوتی نے متعلقہ خواتین کے ساتھ فلم کبیر سنگھ پر بات چیت کرنے اور ٹرولز سے بچنے کے لیے ایسے ہی ایک طریقے کا استعمال کیا۔
انھوں نے اپنی ٹویٹ کی ابتدائی دو سطروں میں کاجل کا ذکر کیا اور اس کے بعد اس مسئلے پر بات کی جس پر وہ اصل میں کرنا چاہ رہی تھیں تاکہ مرد اس گفتگو سے دور رہیں۔
اس تحریر میں ایسا مواد ہے جو X کی جانب سے دیا گیا ہے۔ کسی بھی چیز کے لوڈ ہونے سے قبل ہم آپ سے اجازت چاہتے ہیں کیونکہ یہ ممکن ہے کہ وہ کوئی مخصوص کوکیز یا ٹیکنالوجیز کا استعمال کر رہے ہوں۔ آپ اسے تسلیم کرنے سے پہلے X ککی پالیسی اور پرائیویسی پالیسی پڑھنا چاہیں گے۔ اس مواد کو دیکھنے کے لیے ’تسلیم کریں، جاری رکھیں‘ پر کلک کریں۔
X پوسٹ کا اختتام, 1
یہ بھی پڑھیے

،تصویر کا ذریعہGetty Images
بی بی سی سے بات کرتے ہوئے ان کا کہنا تھا 'ٹوئٹر پر ہم لڑکیاں اکثر میک اپ کے بارے میں بات کرتی ہیں اور عموماً لڑکے ایسی باتیں پڑھنے کے بجائے آگے سکرول کر جاتے ہیں اور جب ہم خواتین سے جڑے مسائل کے بارے میں بات چیت کرتے ہیں تو لڑکے بیچ میں کود پڑتے ہیں اور بات کا کچرا ہو جاتا ہے۔'
End of سب سے زیادہ پڑھی جانے والی
وہ کہتی ہیں 'پہلے دو جملوں میں صرف کاجل کی بات کی۔۔۔ اب بھلا کون مرد پڑھے گا یہ؟'
اس سوال کے جواب میں کہ ان کو اس طرح کی ٹویٹ کرنے کا خیال کیسے آیا، وہ کہتی ہیں ’میں نے غصے میں ٹویٹ کی اور سو گئی۔ میں بس چاہتی تھی کہ صرف ہم لڑکیاں اس مسئلے کے بارے میں بات کریں اور اپنی بھڑاس نکالیں۔'
یہ بھی پڑھیے
ستوتی کا مزید کہنا تھا 'جب آپ عورتوں سے جڑے کسی بھی مسئلے کے بارے میں بات کرنا شروع کرتے ہیں، چاہے بچے پیدا کرنے کی بات ہو یا کام کی جگہ پر ہراس کیے جانے کی بات ہو یا کوئی بھی گھریلو مسئلہ۔۔۔ ہمیشہ ٹوئٹر پر کوئی نہ کوئی مرد بات چیت میں کود پڑتا ہے چاہے ٹرول کرنے کے لیے یا صلاح دینے کے لیے۔ مطلب آپ سے کس نے پوچھا؟'
وہ کہتی ہیں کہ ’عورتیں آپس میں بات کر رہی ہوتی ہیں کیونکہ ان کے اپنے مسائل ہیں۔ مگر مرد اپنی رائے دینا ضروری سمجھتے ہیں جو کہ ان کے خیال میں برتر ہوتی ہے۔ مطلب آپ کی رائے کی ضرورت نہیں ہے۔‘
اس سوال کے جواب میں کہ کیا انھیں اس ٹویٹ پر نفرت انگیز جملوں کا سامنا کرنا پڑا، ستوتی کہتی ہیں 'اس بات چیت میں ٹرولز کہیں بھی نہیں ہیں۔ شاید ہی کسی بندے نے میری ٹویٹ میں کسی اور بندے کے کمنٹ پر جواب دیا ہو۔'
وہ مزید کہتی ہیں 'جو مرد کمنٹ کر رہے ہیں وہ بھی عورتوں کی حمایت میں بات کر رہے ہیں جو میرے خیال میں بہت اچھی بات ہے۔ یعنی اس موضوع پر واقعی بات شروع ہو رہی ہے۔'

،تصویر کا ذریعہGetty Images
ٹوئٹر پر صارفین کا ردِ عمل
ٹوئٹر صارف ودھی کہتی ہیں 'میبیلین کا کاجل استعمال کر کے بہترین ونگڈ کاجل لگایا جا سکتا ہے اور میرا خیال ہے کہ ہمیں اس ہدایتکار اور اس اداکار کی تمام فلموں کا بائیکاٹ کرنا چاہیے۔ باقی صفِ اول کے اداکار اس قسم کی فلموں میں کام کرنے سے پہلے دو بار سوچیں گے۔'
اس تحریر میں ایسا مواد ہے جو X کی جانب سے دیا گیا ہے۔ کسی بھی چیز کے لوڈ ہونے سے قبل ہم آپ سے اجازت چاہتے ہیں کیونکہ یہ ممکن ہے کہ وہ کوئی مخصوص کوکیز یا ٹیکنالوجیز کا استعمال کر رہے ہوں۔ آپ اسے تسلیم کرنے سے پہلے X ککی پالیسی اور پرائیویسی پالیسی پڑھنا چاہیں گے۔ اس مواد کو دیکھنے کے لیے ’تسلیم کریں، جاری رکھیں‘ پر کلک کریں۔
X پوسٹ کا اختتام, 2
ہرپریت سنگھ نے ٹویٹ کی 'زبردست گفتگو، لیکن حقیقت یہ ہے کہ ان باتوں کو چھپانا پڑا جو ہمارے معاشرے کی عکاسی کرتا ہے۔'
اس تحریر میں ایسا مواد ہے جو X کی جانب سے دیا گیا ہے۔ کسی بھی چیز کے لوڈ ہونے سے قبل ہم آپ سے اجازت چاہتے ہیں کیونکہ یہ ممکن ہے کہ وہ کوئی مخصوص کوکیز یا ٹیکنالوجیز کا استعمال کر رہے ہوں۔ آپ اسے تسلیم کرنے سے پہلے X ککی پالیسی اور پرائیویسی پالیسی پڑھنا چاہیں گے۔ اس مواد کو دیکھنے کے لیے ’تسلیم کریں، جاری رکھیں‘ پر کلک کریں۔
X پوسٹ کا اختتام, 3
تھمارائے کہتے ہیں 'میں جانتا ہوں کہ میری بیوی لیکمے کا کاجل استعمال کرتی ہے لیکن متحدہ عرب امارات سے خریدا گیا کاجل کوالٹی اور قیمت میں انڈیا والے سے مختلف ہے۔ وقت آن پہنچا ہے کہ معاشرہ زہریلی مردانگی کو زہریلا کہے۔ میں اس ٹویٹ کو ان لوگوں کے ساتھ گفتگو کرنے کا موقع سمجھتا ہوں جو فلم کے ہیرو کو پسند کرتے ہیں۔ ان سے پوچھنا چاہوں گا کہ اگر کردار الٹ دیے جائیں تو انھیں کیسا لگے گا؟'
اس تحریر میں ایسا مواد ہے جو X کی جانب سے دیا گیا ہے۔ کسی بھی چیز کے لوڈ ہونے سے قبل ہم آپ سے اجازت چاہتے ہیں کیونکہ یہ ممکن ہے کہ وہ کوئی مخصوص کوکیز یا ٹیکنالوجیز کا استعمال کر رہے ہوں۔ آپ اسے تسلیم کرنے سے پہلے X ککی پالیسی اور پرائیویسی پالیسی پڑھنا چاہیں گے۔ اس مواد کو دیکھنے کے لیے ’تسلیم کریں، جاری رکھیں‘ پر کلک کریں۔
X پوسٹ کا اختتام, 4
رچی تریویدی لکھتی ہیں 'لیکمے کا رنگین کاجل استعمال کریں۔ مزاق کر رہی ہوں۔ یہ طریقہ کامیاب ہوا۔ 16 گھنٹے ہو گئے ہیں اور ابھی تک کسی نے ٹرول نہیں کیا'
اس تحریر میں ایسا مواد ہے جو X کی جانب سے دیا گیا ہے۔ کسی بھی چیز کے لوڈ ہونے سے قبل ہم آپ سے اجازت چاہتے ہیں کیونکہ یہ ممکن ہے کہ وہ کوئی مخصوص کوکیز یا ٹیکنالوجیز کا استعمال کر رہے ہوں۔ آپ اسے تسلیم کرنے سے پہلے X ککی پالیسی اور پرائیویسی پالیسی پڑھنا چاہیں گے۔ اس مواد کو دیکھنے کے لیے ’تسلیم کریں، جاری رکھیں‘ پر کلک کریں۔
X پوسٹ کا اختتام, 5
فلم پر تنقید کیوں ہو رہی ہے؟
تیلگو فلم 'ارجن ریڈی' پر مبنی فلم ’کبیر سنگھ‘ ایسے عاشق کی کہانی ہے جس کی معشوقہ کے گھر والے اس کے رشتے کے خلاف ہیں اور اس کی شادی زبردستی کسی دوسرے لڑکے سے کر دیتے ہیں۔

،تصویر کا ذریعہFACEBOOK/KABIRSINGHMOVIE
محبوبہ سے جدا ہونے کے بعد عاشق کبیر سنگھ کا ماتم حیوانیت اختیار کر لیتا ہے کیونکہ وہ کردار ابتدا سے ہی خواتین کو اپنی جاگیر سمجھنے والی ذہنیت رکھتا ہے کہ اگر وہ 'میری نہیں تو کسی اور کی بھی نہیں۔'
فلم کا ہیرو اپنی محبوبہ کے والد سے بدتمیزی کرتا ہے، اپنے دوستوں اور ان کے کام کی توہین کرتا ہے، اپنے کالج کے ڈین کو ذلیل کرتا ہے، اپنی دادی پر چیختا ہے، اور گھر کی ملازمہ سے ایک شیشے کا گلاس ٹوٹ جانے پر اسے چار منزل کے زینوں پر دوڑاتا ہے۔
اس فلم میں کوئی بھی ترقی پسندانہ رویہ یا نئی فکر نہیں ہے۔ فلم کا ہیرو اپنی معشوقہ کو کسی بھی طرح اپنے بس میں کرنا چاہتا ہے اور اس کی مرضی کے خلاف بات ہونے پر وہ حیوانیت پر اتر آتا ہے۔
در اصل کبیر سنگھ مہذب معاشرے کا دبنگ ہے۔ کل ملا کر وہ ایک غنڈہ ہے۔












