مسعود اظہر کے معاملے پر امریکہ دانشمندی سے کام لے: چین

پاکستان

،تصویر کا ذریعہAFP

چین کا کہنا ہے کہ اس نے پاکستان اور اقوامِ متحدہ کی جانب سے کالعدم قرار دی گئی جماعت جیشِ محمد کے سربراہ مسعود اظہر کو عالمی دہشت گرد قرار دینے کے معاملے کو کبھی ’ویٹو‘ نہیں کیا ہے۔

تاہم چین نے امریکہ اور اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل سے یہ بھی کہا ہے کہ وہ مسعود اظہر کے معاملے میں دانشمندی سے کام لیں اور ایسے اقدامات نہ اٹھائیں جو معاملے کو مزید پیچیدہ بنا دیں۔

واضح رہے کہ سلامتی کونسل کا مستقل رکن چین کالعدم تنظیم جیشِ محمد کے سربراہ مسعود اظہر کو عالمی دہشت گرد قرار دینے کی تجویز کو کئی مرتبہ روک چکا ہے اور چند روز قبل بھی چین نے 'ٹیکنیکل ہولڈ' کی بنیاد پر ایک بار پھر ایسی ایک قرارداد کو روک دیا تھا۔

اسی حوالے سے مزید پڑھیے

یہ تجویز انڈیا کے زیرِ انتظام کشمیر میں 14 فروری کو ضلع پلوامہ میں ہونے والے ایک خودکش حملے کے بعد اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل کی 1267 سینکشنز کمیٹی کے تحت دی گئی تھی اور اس کی حمایت سلامتی کونسل کے پانچ میں سے تین مستقل اراکین امریکہ، برطانیہ اور فرانس کر رہے تھے۔

چین

،تصویر کا ذریعہChinese Foreign Ministry

،تصویر کا کیپشنچینی وزارت خارجہ کے ترجمان گینگ شوانگ

اس بارے میں تفصیلی جواب دیتے ہوئے ترجمان گینگ شوانگ نے کہا کہ مسعود اظہر کو دہشت قرار دینے کی درخواست اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل کی 1267 سینکشنز کمیٹی کی جانب سے دی گئی تھی اور چین نے تمام قوانین کی پاسداری کرتے ہوئے صرف 'ٹیکنیکل ہولڈ' کیا ہے۔

'مسعود اظہر کے معاملے میں کافی پیچیدگیاں ہیں۔ فریقین نے مذاکرات کرنے کی خواہش ظاہر کی ہے اور چین بھی اس بات کی حمایت کرتا ہے۔ ان حالات میں سکیورٹی کونسل کو چاہیے کہ وہ دانشمندی کا مظاہرہ کریں اور فریقین کو وقت اور جگہ دیں تاکہ وہ بات چیت کر سکیں۔'

چینی ترجمان نے امریکہ پر تنقید کرتے ہوئے کہا کہ وہ سلامتی کونسل کی 1267 سینکشنز کمیٹی کو چھوڑ کر براہ راست سکیورٹی کونسل جا رہے ہیں جو کہ معاملے کو مشکل بنا دے گا۔

'چین امریکہ پر زور دے گا کہ وہ فریقین کی کوششیں اور سکیورٹی کونسل کی روایت کو برقرار رکھیں جس سے 1267 سینکشنز کمیٹی کی حاکمیت متاثر نہ ہو۔ ہم امید کرتے ہیں کہ امریکہ ہر لحاظ سے دانشمندی کا مظاہرہ کرے گا اور کسی قسم کے سخت قدم لینے سے گریز کرے گا۔'