جزیرہ نما عرب کی سرزمین پر کسی بھی پوپ کا پہلا دورہ

،تصویر کا ذریعہGetty Images
مسیحی فرقے رومن کیتھولک کے روحانی پیشوا پوپ فرانسِس متحدہ عرب امارت کا تین روزہ دورہ مکمل کرنے کے بعد واپس ویٹیکن روانہ ہوگئے۔ جزیرہ نما عرب میں رومن کیتھولک فرقے کے کسی بھی روحانی پیشوا کا یہ پہلا دورہ تھا۔
انھیں اس دورے کی دعوت ابو ظہبی کے ولی عہد شہزادہ محمد بن زید النیہان نے دی تھی۔ اس موقع پر انھوں نے ایک بین المذاہب کانفرنس میں شرکت۔ اس کے علاوہ ایک دعائیہ تقریب کی امامت بھی کی جس میں سنی مسلمانوں کے عالم اور جامعہ الازہر کے سربراہ، شیخ احمد الطیب نے بھی شرکت کی تھی۔

،تصویر کا ذریعہGetty Images
پوپ فرانسِس نے اس موقع پر مشرقِ وسطیٰ میں یمن میں جاری جنگ سمیت باقی تشدد آمیز تصادم کو ختم کرنے کی دعا کی ہے۔ انھوں نے مشرق وسطیٰ کے مسلمانوں سے یہ بھی کہا کہ وہ مقامی مسیحوں کو اپنے برابر کے شہری کے طور پر قبول کریں۔
ابو ظہبی میں بین المذاہب کے مکالمے میں شرکت کے دوران پوپ فرانسس نے سنی مسلمانوں کے بڑے عالم اور جامعہ الازہرکے سربراہ شیخ احمد الطیب سے ملاقات کی۔ اس موقع پر شیخ احمد الطیب نے کہا کہ مسیحی ہمارے ساتھی ہیں۔
پوپ فرانسِس کی روانگی سے قبل آج ہزاروں مسیحوں اور مسلمانوں نے ابو ظہبی میں ایک مشترکہ دعائیہ تقریب میں حصہ لیا تھا۔ جزیرہ نما عرب کی تاریخ میں یہ پہلی مرتبہ ہوا ہے کہ مسیحوں کے روحانی پیشوا نے اس سرزمین پر مسیحوں کی اتنی بڑی تقریب میں شرکت کی۔
دعائیہ تقریب میں شریک ایک مسیحی خاتون، پاموا جراوان اپنی خوشی کے اظہار میں کہا کہ 'یہ رواداری کے سال کی بہترین علامت ہے۔ یہ ثابت کر رہا ہے کہ اب یہ لوگ کتنے کھلے پن کا مظاہرےہ کر رہے ہیں۔ میں تو بہت خوش ہوں۔'

،تصویر کا ذریعہGetty Images
ابو ظہبی کے زید سپورٹس سٹی سٹیڈیم میں پوپ فرانسِس کو دیکھنے کے لیے سوا لاکھ سے زائد مسیحوں نے شرکت کی۔ ابوظہبی کے سٹیڈیم سے لے کر دور واقع شیخ زید مسجد تک لوگوں قطار بنائے پوپ کی ایک جھلک دیکھنے کی کوشش کر رہے تھے۔
امریکی اعداد و شمار کے مطابق، متحدہ عرب امارت کی کل آبادی کا تیرہ فیصد حصہ مسیحوں پر مشتمل ہے۔ ابو ظہبی میں ہونے والے اس بین المذہبی مکالمے میں مسلم ممالک سے چار ہزار وفود سمیت تقریباً سو مسیحی وفود بھی نے بھی شرکت کی۔
End of سب سے زیادہ پڑھی جانے والی

،تصویر کا ذریعہGetty Images
پوپ فرانسِس ابو ظہبی کے ولی عہد شہزادہ شیخ محمد بن زید النیہان کی دعوت پر امارات کا تین روزہ دورہ کیا جس کا مقصد مسیحوں اور مسلمانوں کے درمیان تعاون کو بہتر سے بہتر کرنا ہے۔







