چین میں 'آئس' نامی منشیات کے گاڈ فادر کو پھانسی

چین ملٹری پولیس

،تصویر کا ذریعہReuters

،تصویر کا کیپشنکائے ڈانگجیا کو 2013 میں ایک بڑے ملٹری پولیس کے آپریشن میں گرفتار کیا گیا تھا

چین کے سرکاری ذرائع ابلاغ کے مطابق کیمونسٹ پارٹی سے تعلق رکھنے والے ایک بڑے منشیات فروش کو پھانسی دے دی گئی ہے۔

چین کے جنوبی صوبے گوانگ ڈانگ کے گاؤں بوشے کے کیمونسٹ پارٹی کے سربراہ کائے ڈانگجیا کو کرسٹل میتھ المعروف آئس کا گاڈر فادر تصور کیا تھا۔

کائے ڈانگجیا جس گاؤں کے سربراہ تھے اس گاؤں کے بیس فیصد گھروں میں کرسٹل میتھ تیار کی جاتی تھی۔

سرکاری ذرائع ابلاغ کےمطابق کائے ڈانگجیا کے تحفظ میں کاشے گاؤں میں پورے ملک میں تیار ہونے والی کرسٹل میتھ کی پیداوار کا ایک تہائی حصہ تیار ہوتا تھا۔

کائے ڈانگجیا پر الزام تھا کہ وہ نہ صرف خود منشیات کی تیاری اور سمگلنگ میں ملوث تھے بلکہ پورے گاؤں میں مجرموں کا تحفظ کرتے تھے۔ وہ اپنے گاؤں میں سب سے بڑے سرکاری اہلکار تھے۔

منشیات

،تصویر کا ذریعہDrug Enforcement Administration

کائے ڈانگجیا کو 2013 میں ایک بڑے ملٹری پولیس کے آپریشن میں گرفتار کیا گیا تھا۔

اس چھاپے میں تین ہزار پولیس اہلکاروں نےالصبح بوشے گاؤں پر چھاپہ مار کر تین ٹن کرسٹل میتھ اور 180 مشتبہ افراد کو گرفتار کر لیا تھا۔

پولیس نے اسی آپریشن کے دوران آدھا ٹن کیٹامائن منشیات بھی برآمد کی تھی۔

کائے ڈانگجیا کو 2016 میں منشیات کی تیاری ، سمگلنگ اور مجرموں کو تحفظ دینے کے الزام پر موت کی سزا سنائی گئی تھی۔