گجرات: مودی کے دور حکومت میں ’فرضی انکاؤنٹر‘

،تصویر کا ذریعہGetty Images
- مصنف, سوچتر مہنتی
- عہدہ, بی بی سی ہندی
بھارت کی ریاست گجرات میں سنہ 2002 سے 2006 کے درمیان ہونے والے سترہ پولیس مقابلے یا انکاؤنٹرز کی تحقیقات کرنے والے جسٹس ریٹائرڈ ہرجیت سنگھ بیدی کمیٹی کو ان معاملات میں کسی بڑے افسر یا سیاسی رہنما کے خلاف کوئی ثبوت نہیں ملا۔اس دوران وزیر اعظم ریاست کے وزیر اعلی تھے۔
حالانکہ کمیٹی کا کہنا ہے کہ ان میں سے تین معاملات میں گڑ بڑ ہے اور کچھ پولیس افسران کے خلاف تحقیقات کی جانی چاہیے اور ان میں ہلاک ہونے والے لوگوں کے افرادِ خانہ کو معاوضہ دیا جانا چاہیے۔

،تصویر کا ذریعہGetty Images
رپورٹ کی ایک کاپی بی بی سی کے پاس بھی ہے۔ رپورٹ میں لکھا گیا ہے کہ 'ثبوتوں اور گواہوں کے بیانات کے مطابق سمیر خان، حاجی اسماعیل اور قاصم جعفر حسین کو جعلی مقابلوں میں مارا گیا ہے'۔
سپریم کورٹ میں دائر کی جانے والی دو درخواستوں میں دعوی کیا گیا ہے کہ پولیس کے فرضی مقابلوں میں بہت سے لوگوں نے جانیں گنوائی ہیں اور کچھ لوگ تو پہلے سے ہی پولیس حراست میں تھے۔
یہ عرضیاں مرحوم صحافی بی جی ورگیز، مشہور نغمہ نگار جاوید اختر اور انسانی حقوق کارکن شبنم ہاشمی نے 2007 میں دائر کی تھیں۔ جس کے بعد یہ تحقیقاتی کمیٹی تشکیل دی گئی۔ تاہم عرضی گذاروں نے اپیل کی تھی کہ یا تو ایک خصوصی تحقیقاتی ٹیم تشکیل دی جائے یا پھر یہ معاملہ سی بی آیی کے حوالے کیا جائے۔
End of سب سے زیادہ پڑھی جانے والی

،تصویر کا ذریعہPTI
بیدی کمیٹی نے فروری 2018 میں اپنی رپورٹ سپریم کورٹ میں جمع کروائی دی تھی۔
رپورٹ میں کہا گیا کہ سترہ میں سے تین انکاؤنٹر جعلی تھے اور کہا گیا کہ ان سے متعلق پولیس افسران کے خلاف کارروائی کا جائے۔
اس رپورٹ نے گجرات کے سابق ڈی جی پی آر بی شری کمار کی اس تشویش کو بھی مسترد کر دیا کہ مسلم شدت پسندوں کو بہانہ بنا کر کی جانے والی ہلاکتوں میں ریاست کی انتظامیہ کی بھی ملی بھگت تھی۔
رپورٹ میں کہا گیا کہ اس میں کسی خاص مذہب یا فرقے کے لوگوں کو نشانہ نہیں بنایا گیا۔ اس میں مختلف فرقوں کے لوگ شامل تھے اور ان میں سے زیادہ تر کا جرائم پیشہ ہونے کا ریکارڈ تھا۔







