انڈین دیہات کے انوکھے نام جن پر دیہاتی شرمندہ ہیں

انڈیا کی شمالی ریاستوں ہریانہ اور راجستھان میں متعدد دیہات برسوں سے اپنے وہ نام تبدیل کرنے کے لیے کوشاں ہیں جنھیں وہ اپنے لیے 'باعث شرمندگی' سمجھتے ہیں۔ بی بی سی پنجابی سروس کے اروند چھابرا نے کچھ ایسے افراد سے بات کی جو یہ مہم چلا رہے ہیں۔
'میرے گاوں کا نام گندا (غلیظ) ہے'۔ اس گاؤں سے تعلق رکھنے والی ہرپیت کور نے سنہ 2016 میں وزیراعظم نریندر مودی کو اپنے گاؤں کا نام تبدیل کرنے کی درخواست لکھی تھی۔
ان کا کہنا ہے کہ کسی بھی ملنے والے کے لیے گاؤں کا نام ہی تمسخر اڑانے والے طنزیہ جملوں کے لیے کافی تھا۔ انھوں نے بتایا کہ ’صورتحال اتنی بری تھی کہ ہمارے رشتہ دار بھی مسلسل ہمارا مذاق اڑاتے تھے‘۔
سنہ 2017 میں نریندر مودی نے حکام کو گاؤں کا نام تبدیل کرنے کے احکامات دیے جس کے بعد آج یہ گاوں اجیت نگر کے تبدیل شدہ نام کے ساتھ انڈیا کی شمالی ریاست ہریانہ میں موجود ہے۔

،تصویر کا ذریعہSahil Rukhaya
پنچایت کے سربراہ لکھوندر رام کا کہنا ہے کہ وہ برسوں سے گاؤں کا نام تبدیل کروانے کے لیے حکومتی توجہ حاصل کرنے کی کوشش کر رہے تھے۔ ان کا کہنا تھا کہ 'جب کوئی حربہ کام نہ آیا تب ہم نے سوچا کہ شاید اگر کوئی نوجوان مودی صاحب کو خود خط لکھے تو انھیں کوئی فرق پڑے۔ گاوں میں کوئی ایک بھی ایسا شخص نہیں تھا جو گاؤں کا نام تبدیل کروانا نہیں چاہتا تھا‘۔
یہ بھی پڑھیے
مقامی افراد کے مطابق گاوں کا نام گندا اس وقت پڑا جب دہائیوں پہلے سیلاب نے تباہی مچائی تھی۔ ان کے مطابق اس وقت جب ایک افسرنے سیلاب کی تباہ کاری کے بعد دورہ کیا اور گاوں کا ملبہ جو سیلاب میں بہہ چکا تھا کو دیکھتے ہوئے کہا یہ تو بہت گندا ہے تب سے اس کا نام گندا پڑ گیا۔
End of سب سے زیادہ پڑھی جانے والی
لکھوندر رام کے مطابق گاوں کے نام کی وجہ سے لوگ یہاں کی لڑکیوں سے شادی نہیں کرتے تھے تاہم ان کے مطابق اب وہ بہت پرسکون ہیں۔
لیکن گندا کا معاملہ منفرد ہے۔
ماضی قریب میں ہی 50 سے زائد دیہات کے نمائندوں نے انڈین حکومت سے اپنے اپنے گاؤں کا نام تبدیل کرنے کے حوالے سے مسلسل رابطہ کیا ہے۔ ان کی مختلف وجوہات ہیں جن میں چند کے نام نسل پرستانہ، کچھ کے عجیب جبکہ دیگر کے نام رہنے والوں کے لیے باعثِ شرمندگی تھے۔
وفاقی حکومت کے اعلیٰ عہدیدار کرشن کمار نے بتایا کہ 'تقریباً 40 دیہات کی درخواستیں منظور ہوئی اور ان پر عملدرآمد ہو چکا ہے'۔
ان میں سے ایک گاوں کا نام کنر تھا جس کا ہندی میں مطلب خواجہ سرا کے ہیں۔ سنہ 2016 سے یہ گیبی نگر بن چکا ہے۔ ریاست راجستھان کے ضلع آلور کے ایک گاؤں کا نام چور بسائی تھا جس کا نیا نام اب صرف بسائی ہے۔

لیکن گاؤں کا نام تبدیل کروانے کا عمل آسان نہیں ہے۔
اس کے لیے ضروری ہے کہ ریاستی حکومت نام بدلنے کے لیے پہلے مکمل قائل ہو تاکہ وہ معاملہ وفاقی حکومت کے ساتھ اٹھائے جس کے پاس مکمل اختیار ہے۔
حکومت کو نام تبدیل کرنے کی درخواست منظور کرنے سے پہلے سروے آف انڈیا،ریلوے اور محکمہ ڈاک کے ساتھ ساتھ دیگر انتظامی اداروں سے کلیئرنس کی ضرورت پڑتی ہے تاکہ یہ پتہ لگایا جا سکے کہ نیا مجوزہ نام ملک میں کہیں اور تو کسی جگہ کا نہیں ہے۔
ریاست ہریانہ کے گاوں لُولا آہِر (ہندی میں معذور افراد کے لیے استعمال ہونے والا ہتک آمیز لفظ) کے رہائشیوں کے لیے یہ عمل بیوروکریسی کی پیچیدگیوں سے بھرا پڑا ہے۔ انہوں نے ریاستی حکومت کو پہلی مرتبہ گاؤں کا نام تبدیل کرنے کی درخواست 2016 میں دی تھی۔

گاؤں کے سرپنچ وریندر سنگھ کا کہنا ہے 'ہم اپنے گاؤں کا نام بدل کر دیو نگر رکھنا چاہتے تھے'۔ مگر انھیں حکومت کی جانب سے جواب کے لیے چھ ماہ تک انتظار کرنا پڑا اور وہ جواب بھی نفی میں تھا کیونکہ دیو نگر نامی گاوں ملک میں پہلے ہی موجود تھا۔
ان کا کہنا ہے کہ پنچایت نے ایک مرتبہ دوبارہ کوشش کرتے ہوئے اس کا نام کرشن نگر رکھنے کی درخواست انتظامیہ کو دی تھی لیکن یہ ایک محکمے سے دوسرے محکمے میں گھومتی رہی۔
گذشتہ برس جولائی میں انھیں اس وقت محسوس ہوا کہ ان کی قسمت بدل گئی ہے جب ریاست کے وزیراعلیٰ نے اعلان کیا کہ ان کے گاوں کا نیا نام ہو گا لیکن بعد میں حکام نے بتایا کہ کہ وفاقی حکومت نے کبھی اس پر باضابطہ عملدرآمد نہیں کیا اور درخواست پر اب بھی کام ہو رہا ہے۔
وریندر سنگھ نے سر جھٹکے ہوئے کہا کہ 'ہم آج تک صرف انتظار ہی کر رہے ہیں'۔









