سری لنکا: پوسٹر کو ’رشوت‘ دینے پر دو نوجوان گرفتار

سری لنکا

،تصویر کا ذریعہVAVUNIYA POLICE

،تصویر کا کیپشنیہ واقعہ ملک کے شمالی قصبے واونیہ میں پیش آیا۔ اس موٹر سائیکل سوار اور ویڈیو بنانے والے ان کے دوست کو گرقتار کر لیا گیا تھا تاہم ان انھیں ضمانت پر رہا کر دیا گیا ہے۔

سری لنکا میں پولیس نے دو شہریوں کو اس وقت گرفتار کر لیا جب انھوں نے ایک ویڈیو انٹرنیٹ پر شیئر کی جس میں وہ ٹریفک پولیس افسر کے ایک کٹ آؤٹ کو ’رشوت‘ دے رہے ہیں۔

ویڈیو میں دیکھا جا سکتا ہے کہ ایک موٹر سائیکل سوار نے رک کر ٹریفک پولیس افسر کے ایک حقیقی سائز کے پوسٹر کو مذاق کے طور پر پیسے دینے کی کوشش کی۔

یہ واقعہ ملک کے شمالی قصبے واونیہ میں پیش آیا۔ اس موٹر سائیکل سوار اور ویڈیو بنانے والے ان کے دوست کو گرقتار کر لیا گیا تھا تاہم ان انھیں ضمانت پر رہا کر دیا گیا ہے۔

یہ بھی پڑھیے

ان پر عوامی املاک کو نقصان پہنچانے اور پولیس کی ساخ کو نقصان پہنچانے کا الزام لگایا گیا ہے۔

حکام کا کہنا ہے گتے کے بنے سے اس کٹ آؤٹ (پوسٹر) کے کچھ حصے کو نقصان پہنچایا گیا تھا۔ ایسے بہت سے کٹ آؤٹ مرکزی شاہراہوں پر نصب کیے گئے ہیں اور ان کا مقصد حدِ رفتار سے تجاوز کرنے والوں کو روکنا ہے۔

کچھ ماہ پہلے بھی مقامی پولیس نے دو نوجوانوں کو ایسا ہی کٹ آؤٹ گھر لے جانے پر گرفتار کر لیا تھا۔

’جرم نہیں، طنز‘

سری لنکا میں ٹریفک پولیس کی جانب سے جرمانوں اور طویل عدالتی کارروائی سے بچنے کے لیے رشوت دینا کوئی نایاب بات نہیں۔

سوشل میڈیا پر لوگوں نے پولیس کی جانب سے ان کارروائیوں کو تنقید کا نشانہ بنایا ہے۔

ایک صارف کا کہنا تھا کہ ’ان لڑکوں نے رشوت خوری کے بارے میں ایک اہم پیغام دیا ہے۔ یہ جرم نہیں طنز ہے۔‘

تاہم ایک صارف ہے کہنا تھا ’یہ مذاق نہیں ہے۔ ہر سال بہت سے لوگ تیز رفتاری کی وجہ سے ہلاک ہو جاتے ہیں اور پولیس اس بارے میں بہت سی کوششیں کر سکتی ہے۔‘

یہ متنازع کیوں ہے؟

انسدادِ بدعنوانی کے لیے کام کرنے والی غیر سرکاری تنظیم ٹرانسپرینسی انٹرنیشل نے بی بی سی کو بتایا کہ سری لنکا میں پولیس کرپٹ ترین اداروں میں سے ایک ہے۔

تنظیم کے سری لنکا میں سربراہ آسوکا اوبیسکریا کا کہنا ہے کہ ’یہ معاملہ ٹریفک پولیس میں رشوت خوری کا مقابلہ کرنے کا عزم نہ ہونے کی شہادت ہے۔‘

گذشتہ ہفتے مقامی پولیس نے دو افسران کو معطل کر دیا تھا جب ان کی ایک ویڈئو وائرل ہوئی جس میں انھیں رشوت لیتے دیکھا جا سکتا ہے۔

پچھلے سال ملک میں ٹریفک پولیس کے سربراہ اجیت روحانہ نے بی بی سی سے بات کرتے ہوئے کہا تھا کہ ان کا ادارہ اس مسئلے کا حل کرنے کے لیے کوششیں کر رہا ہے اور اس کی عوام سے درخواست ہے کہ وہ ایسے افسران کے خلاف شکایات کریں۔