الہ آباد: ’نام کی تبدیلی نے شہر کی روح کو قتل کر دیا‘

الہ آباد کا ریلوے سٹیشن

،تصویر کا ذریعہAnkit Srinivas

،تصویر کا کیپشنالہ آباد کا ریلوے سٹیشن
    • مصنف, وکاس پانڈے
    • عہدہ, بی بی سی دلی

آپ کا کیا نام ہے؟ آپ کا تعلق کہاں سے ہے؟

انڈیا میں کسی کے ساتھ تعارف کا آغاز ان ہی سوالات کے ساتھ ہوتا ہے۔ دوسرے سوال کے جواب میں ابھی تک میں یہی کہتا آیا ہوں کہ میں الہ آباد سے ہوں، انڈیا کے پہلے وزیر اعظم جواہر لال نہرو اور بالی وڈ سٹار امیتابھ بچن کا شہر۔

لیکن اب ایسا کہنے سے پہلے مجھے سوچنا پڑے گا، کیوںکہ اب الہ آباد کا نام بدل کر پریاگراج رکھ دیا گیا ہے۔

یہ بھی پڑھیے

انڈیا کی شمالی ریاست اتر پردیش میں ہندو قوم پرست جماعت بی جے پی کی حکومت ہے۔ حکومت کا کہنا ہے کہ نام بدلنے کا مقصد شہر کی تاریخی پہچان کو بحال کرنا ہے۔

ان کی دلیل ہے کہ اس شہر کا نام 435 برس قبل مسلم حکمرانوں نے رکھا تھا۔

پریاگراج

،تصویر کا ذریعہAnkit Srinivas

،تصویر کا کیپشنکمبھ میلے کے دوران ہر سال یہاں ہزاروں سادھو آتے ہیں

الہ آباد کا نام مغل بادشاہ اکبر نے رکھا تھا، یہ سچ ہے۔ الہ آباد مغل سلطنت کی فوج، ثقافت اور انتظامیہ کا مرکز تھا۔ سولہویں اور سترہویں صدی میں یہیں سے انڈیا اور موجودہ پاکستان پر حکومتی فیصلے لیے جاتے تھے۔

برطانوی نوآبادیاتی نظام کے دوران اور سنہ 1947 میں ملک کے آزاد ہونے کے بعد بھی اس شہر کا رتبہ برقرار رہا۔ یہ شہر شمالی انڈیا کی سیاسی اور ثقافتی سرگرمیوں کے لیے جانا جاتا رہا ہے۔

الہ آباد شہر کا ہندو عقائد سے بہت قریبی تعلق رہا ہے۔ ہر بارہ سال میں ایک بار یہاں گنگا اور جمنا دریاؤں کے سنگم پر کمبھ میلے کا انعقاد ہوتا ہے۔ اس موقع پر یہاں لاکھوں کی تعداد میں عقیدت مند آتے ہیں۔ اس میلے کے دوران تمام مذاہب کے ماننے والے مفت کھانا اور دیگر اشیاء بانٹتے ہیں۔

الہ آباد کی تاریخ میں ہندو، مسلمان اور مسیحیوں سمیت تمام مذاہب شامل ہیں۔

شہر کے مختلف علاقے تاریخ کی مختلف داستانیں سمیٹے ہوئے ہیں۔ بادشاہ اکبر کا بنوایا ہوا قلعہ، جواہر لا نہرو کا گھر آنند بھون یا گنگا اور جمنا کا سنگم۔

مینیجمینٹ کی تعلیم دینے والے ازیم الرحمان کہتے ہیں کہ ’یہی وجہ ہے کہ الہ آباد کا کوئی اور نام تصور کرنا مشکل ہے۔‘

یہ سارے مقامات اور ان کی تاریخ مل کر اس شہر کو الہ آباد بناتے ہیں۔

الہ آباد

،تصویر کا ذریعہAnkit Srinivas

،تصویر کا کیپشندریاء گنگا اور جمونا الہ آباد شہر میں ملتے ہیں۔

تو آخر شہر کا نام کیوں بدلا گیا؟

الہ آباد یونیورسٹی میں تاریخ کے پروفیسر ہیرمبھ چترویدی کے بقول ’یہ سب سیاست ہے۔ اگلے سال 2019 میں عام انتخابات ہونے ہیں اور کوشش کی جا رہی ہے کہ شہر کے ہندو ووٹروں کو خوش کر دیا جائے۔‘

یہ اس طرح کا پہلا فیصلہ نہیں ہے۔

گزشتہ دنوں حکومت نے برطانوی دور سے مشہور ریلوے سٹیشن مغل سرائے کا نام بدل کر دین دیال اپادھیائے رکھ دیا۔

یہ بھی پڑھیے

اور اسی ہفتے اتر پردیش کے وزیر اعلی نے فیض آباد شہر کا نام ایودھیا میں تبدیل کر دیا اور اس کے بعد ریاست گجرات میں بی جے پی حکومت کی جانب سے کہا گیا کہ وہ احمدآباد کا نام بدل کر کرناوتی رکھنا چاہتے ہیں۔

کئی لوگوں کا خیال ہے کہ الہ آباد کا نام بدلنے کے پیچھے بی جے پی کی وہی سیاست ہے جس کے تحت وہ ان تمام شہروں کے نام بدل رہے ہیں جن کے مسلم نام ہیں۔

جواہر لال نیہرو

،تصویر کا ذریعہAnkit Srinivas/Anand Bhawan

،تصویر کا کیپشنانڈیا کے پہلے وزیر اعظم جواہر لال نیہرو کا تعلق بھی الہ آباد سے تھا۔

لیکن انڈیا کی حکمران جماعت بی جے پی کا موقف ہے کہ الہ آباد کا نام بدلنے کی کوئی سیاسی وجہ نہیں ہے کیوں پریاگراج ہی شہر کا پرانا اور اصل نام ہے۔

پارٹی کا دعویٰ ہے کہ وہ صرف تاریخ میں درج غلطیوں کو درست کر رہے ہیں کیوں کہ شہر کا نام مغل بادشاہ اکبر نے پریاگراج سے بدل کر الہ آباد کیا تھا۔ لیکن تاریخ دان اس بات کو مکمل طور پر درست نہیں مانتے ہیں۔

الہ آباد یونیورسٹی کے سابق وائس چانسلر پروفیسر این آر فاروقی نے بتایا کہ تاریخی دستاویزات اور کتابوں کے مطابق پریاگراج نام کا کبھی کوئی شہر بسا ہی نہیں۔ یہاں صرف پریاگ نام سے منسوب ہندوؤں کا ایک زیارتی مقام ضرور ہوا کرتا تھا جس کے بارے میں کئی کتابوں میں بھی لکھا گیا ہے۔

پروفیسر فاروقی نے بتایا کہ بادشاہ اکبر نے سنہ 1574 میں اس شہر کی بنیاد رکھی اور اس کا نام الہ آباد رکھا۔ یہاں انہوں نے ایک عالی شان قلعہ بنوایا جس کا استعمال شمالی انڈیا میں ان کی فوجی اور حکومتی کارگردگی کے لیے کیا جاتا تھا۔

الہ آباد

،تصویر کا ذریعہAnkit Srinivas

،تصویر کا کیپشنالہ آباد کے خسرو باغ میں مغل سلطنت کے متعدد اہم افراد دفن ہیں۔

سنہ 1574 سے 2018 تک یہ شہر بڑے تاریخی لمحات کا گواہ رہا ہے۔

اس شہر کا آزادی کی لڑائی میں بھی اہم کردار رہا ہے۔ الہ آباد شہر میں جواہر لال نہرو کا خاندانی گھر آنند بھون، کانگریس پارٹی کا مرکزی دفتر بنا۔

انڈیا کی آزادی کے بعد شروع کی چند دہائیوں میں الہ آباد شہر ایک بڑے ثقافتی اور سیاسی مرکز کے طور پر ابھر کر سامنے آیا۔

شہر کے ہندی زبان کے کئی مصنفین، سیاستدان، اداکار، سائنسدان اور نوکر شاہی سے تعلق رکھنے والے لوگ اپنے اپنے شعبوں میں بڑے نام بن گئے۔

الہ آباد

،تصویر کا ذریعہAnkit Srinivas

،تصویر کا کیپشنالہ آباد

اور ان کی کہانیوں میں جو چیز مشترک تھی، وہ الہ باد ہی تھی۔ لیکن اب یہ ٹوٹ چکا ہے۔

پروفیسر چتورویدی کے بقول 'یہ بات حیرت انگیز ہے کہ اتنے چھوٹے سے ایک شہر نے اس ملک کو اتنی بڑے بڑے کردار اور کہانیاں دیں۔ اس سے کوئی فرق نہیں پڑتا کہ اس شہر کا کامیاب نام کوئی ہندو تھا یا مسلمان، اس شہر نے ہر کسی پہ فخر کیا ہے۔'

پروفیسر چتورویدی پریاگراج کے نام کو تسلیم کرتے ہیں لیکن ان کا کہنا ہے لوگ اس شہر کو الہ آباد کے نام سے ہی جانتے ہیں۔

'اس میں کوئی شک نہیں کہ چاہے آپ اسے پریاگراج کہیں یا نہ کہیں، یہ شہر ہندؤوں کے لیے ہمیشہ ایک مقدس مقام رہے گا۔ لیکن اگر آپ الہ آباد کا نام مٹائیں گے تو یہ اس شہر کی اصل روح کو مارنے کے برابر ہو گا۔'

آنند بھون

،تصویر کا ذریعہAnkit Srinivas

،تصویر کا کیپشننیہرو کے خاندانی گھر آنند بھون کو دیکھنے ہر سال ہزاروں کی تعداد میں سیاح آتے ہیں۔

پروفیسر فاروقی اس بات سے اتفاق کرتے ہیں۔

پروفیسر فاروقی نے کہا کہ ’آپ پانچ سو برسوں کی تاریخ کو مٹا نہیں سکتے۔ الہ آباد صرف ایک نام نہیں، بلکہ یہ ایک احساس ہے جو ہر اس شخص کے اندر ہے جو اس شہر میں پلا بڑھا ہے۔'

یہ ایک ایسی بات ہے جس سے بہت سے لوگ اتفاق کرتے ہیں۔

الہ آباد یونیورسٹی کے سابق طلبہ رہنما سریش یادو کا خیال ہے کہ یہ ایک ایسا شہر ہے جس کی صرف ایک شناخت نہیں بلکہ کئی ہیں۔ ان کا کہنا ہے کہ 'یہ شہر تمام عقیدوں کا شہر ہے، اور اس کے باوجود یہ ہندو مذہب کا ایک بڑا تہذیبی مرکز ہے۔ کوئی چیز اس شہر کی اِس شناخت کو بدل نہیں سکتی۔ الہ آباد ہمیشہ اپنی شناخت قائم رکھے گا۔'

لیکن پروفیسر راجیش کمار سنگھ جیسے کچھ لوگ بی جے پی کے شہر کا نام تبدیل کرنے کے فیصلے سے اتفاق کرتے ہیں۔.

ہندو مذہب میں دریا گنگا میں ڈبکی لگانا خاص مانا جاتا ہے۔

،تصویر کا ذریعہAnkit Srinivas

،تصویر کا کیپشنہندو مذہب میں دریا گنگا میں ڈبکی لگانا خاص مانا جاتا ہے۔

پروفیسر سنگھ کا خیال ہے کہ شہر کی ثقافتی شناخت کو بحال کرنا ایک بہترین فیصلہ ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ ’پریاگراج نام سن کر لگتا ہے کہ یہ ایک اہم ہندو مرکز تھا اور بیشتر لوگوں کو لگتا ہے کہ حکومت کا فیصلہ بالکل صحیح ہے۔‘

حالانکہ اس شہر کے متعدد رہائشیوں کے لیے اس فیصلے کو قبول کرنا آسان نہیں ہے۔ انہوں نے خود کو الہ آبادی کہنے میں ہمیشہ فخر محسوس کیا ہے۔ ایسے ہی ایک مشہور اردو شاعر اکبر الہ آبادی ہوئے ہیں۔

یہ تصور کرنا ہی نا ممکن لگتا ہے کہ کیا اب ہم ان کو ’اکبر پریاگراجی‘ کہیں گے؟!