بنگلہ دیش: دو ہزار چار کا جان لیوا حملہ، 19 افراد کو پھانسی کی سزا

،تصویر کا ذریعہGetty Images
بنگلہ دیش کی ایک عدالت نے 19 افراد کو سنہ 2004 میں دارالحکومت ڈھاکہ میں منعقدہ ایک ریلی پر گرینیڈ سے حملے میں ملوث ہونے پر موت کی سزا سنائی ہے۔
جن افراد کو سزائے موت دی گئی ہے ان میں اس وقت کی برسرِ اقتدار سیاسی جماعت بی این پی کے رہنما اور سابق وزیر اور نائب وزیر شامل ہیں۔
جماعت کے موجود قائم مقام سربراہ طارق رحمان کو عمر قید کی سزا سنائی گئی ہے۔
خیال رہے کہ عوامی لیگ کی اس ریلی پر حملے کے نتیجے میں 24 افراد مارے گئے تھے۔ اس جماعت کی قائد شیخ حسینہ اس وقت وزیراعظم کے عہدے پر ہیں۔

،تصویر کا ذریعہGetty Images
اکیس اگست 2004 میں جب شیخ حسینہ ہزاروں شرکا کے سامنے اپنا خطاب مکمل کرنے والی تھیں کہ زور دھماکہ ہوا جس میں سینکڑوں افراد زخمی بھی ہوئے۔
End of سب سے زیادہ پڑھی جانے والی
سابق وزیرِ مملکت برائے داخلہ امور لطف الزمان بابر سب سے نمایاں شخصیت ہیں جنھیں پھانسی کی سزا سنائی گئی ہے۔

،تصویر کا ذریعہEPA
بی این پی کا کہنا ہے کہ اس کیس کو سیاسی بنیادوں پر قائم کیا گیا ہے اور اس کا مقصد جماعت کے رہنماؤں کا تشخص خراب کرنا ہے۔
طارق رحمان کی والدہ اور بی این پی کی قائد خالدہ ضیاء کئی دہائیوں سے شیخ حسینہ کی سخت حریف رہی ہیں۔ خالدہ ضیا کو بدعنوانی کے الزامات کے تحت فروری میں پانچ سال کی سزا سنائی گئی تھی۔









