خالدہ ضیا کو جیل کی سزا کے بعد بنگلہ دیش میں ہنگامے

Bangladesh Nationalist Party (BNP) supporters shout slogans as they set fire during a protest in a street in Dhaka, Bangladesh February 8, 2018

،تصویر کا ذریعہReuters

،تصویر کا کیپشنخالدہ ضیا کے ہزاروں حامی احتجاج کر رہے ہیں

بنگلہ دیش میں حزبِ اختلاف کی رہنما خالدہ ضیا کو بدعنوانی کے الزامات کے تحت پانچ سال کی سزا سنائے جانے کے بعد مظاہرین اور پولیس میں جھڑپیں ہوئی ہیں۔

سابق وزیرِ اعظم خالدہ ضیا نے اپنے خلاف بچوں کی بہبود کے لیے بین الاقوامی فلاحی فنڈز میں خورد برد کے الزامات سے انکار کیا ہے۔

اس سزا کے باعث 72 سالہ بنگلہ دیشی رہنما رواں برس ہونے والے پارلیمانی انتخابات کا حصہ نہیں بن سکیں گی۔

یہ مقدمہ خالدہ ضیا کے خلاف قائم درجنوں مقدموں میں سے ایک تھا جو ان کے خلاف ان کی حریف موجودہ وزیرِ اعظم شیخ حسینہ واجد نے قائم کیے ہیں۔

خالدہ ضیا نے ان الزامات کی وجہ سیاسی مخالفت قرار دیا۔

خبر رساں ادارے ڈیلی سٹار کے مطابق عدالت میں جانے سے پہلے انھوں نے روتے ہوئے رشتہ داروں سے کہا ’میں واپس آؤں گی، پرشان نہ ہوں اور بہادر بنیں۔‘

ڈھاکہ کی عدالت نے جو یہ فیصلہ سنایا تو خالدہ ضیا کے ہزاروں حامی عدالت کے باہر موجود تھے جنہںی منتشر کرنے کے لیے پولیس نے آنسو گیس کا استعمال کیا۔

جھڑپوں میں متعدد پولیس اہلکاروں کے زخمی ہونے کی بھی اطلاعات ہیں۔

Bangladesh opposition leader Khaleda Zia speaks during a press conference in Dhaka on February 7, 2018.

،تصویر کا ذریعہAFP

،تصویر کا کیپشنخالدہ ضیا نے اپنے ساتھیوں کو حوصلہ قائم رکھتے ہوئے کہا کہ وہ جلد لوٹ کے آئیں گی

اطلاعات ہیں کہ عدالتی فیصلہ آنے کے فوراً بعد خالدہ ضیا کو جیل منتقل کر دیا گیا ہے۔

ان کے بیٹے طارق الرحمن کو بھی 10 سال قید کی سزا سنائی گئی جو اس وقت لندن میں ہیں۔ خالدہ ضیا نے چار دیگر ساتھیوں کو بھی اتنی کی سزا سنائی گئی۔

یہ مقدمہ خالدہ ضیا کے دورِ اقتدار میں ایک یتیم خانے کے لیے 250000 ڈالر کی امداد سے متعلق تھا۔ انہیں خرد برد کا مجرم ٹھہرایا گیا۔

Lawyers supporting Bangladesh Nationalist Party (BNP) shout slogans as they sit on a street during a protest in Dhaka, Bangladesh February 8, 2018

،تصویر کا ذریعہReuters

،تصویر کا کیپشنخالدہ ضیا کی جماعت کے حامی وکلا دھرنا دیے ہوئے ہیں