خالدہ ضیا کو جیل کی سزا کے بعد بنگلہ دیش میں ہنگامے

بنگلہ دیش میں حزبِ اختلاف کی رہنما خالدہ ضیا کو بدعنوانی کے الزامات کے تحت پانچ سال کی سزا سنائے جانے کے بعد مظاہرین اور پولیس میں جھڑپیں ہوئی ہیں۔

سابق وزیرِ اعظم خالدہ ضیا نے اپنے خلاف بچوں کی بہبود کے لیے بین الاقوامی فلاحی فنڈز میں خورد برد کے الزامات سے انکار کیا ہے۔

اس سزا کے باعث 72 سالہ بنگلہ دیشی رہنما رواں برس ہونے والے پارلیمانی انتخابات کا حصہ نہیں بن سکیں گی۔

یہ مقدمہ خالدہ ضیا کے خلاف قائم درجنوں مقدموں میں سے ایک تھا جو ان کے خلاف ان کی حریف موجودہ وزیرِ اعظم شیخ حسینہ واجد نے قائم کیے ہیں۔

خالدہ ضیا نے ان الزامات کی وجہ سیاسی مخالفت قرار دیا۔

خبر رساں ادارے ڈیلی سٹار کے مطابق عدالت میں جانے سے پہلے انھوں نے روتے ہوئے رشتہ داروں سے کہا ’میں واپس آؤں گی، پرشان نہ ہوں اور بہادر بنیں۔‘

ڈھاکہ کی عدالت نے جو یہ فیصلہ سنایا تو خالدہ ضیا کے ہزاروں حامی عدالت کے باہر موجود تھے جنہںی منتشر کرنے کے لیے پولیس نے آنسو گیس کا استعمال کیا۔

جھڑپوں میں متعدد پولیس اہلکاروں کے زخمی ہونے کی بھی اطلاعات ہیں۔

اطلاعات ہیں کہ عدالتی فیصلہ آنے کے فوراً بعد خالدہ ضیا کو جیل منتقل کر دیا گیا ہے۔

ان کے بیٹے طارق الرحمن کو بھی 10 سال قید کی سزا سنائی گئی جو اس وقت لندن میں ہیں۔ خالدہ ضیا نے چار دیگر ساتھیوں کو بھی اتنی کی سزا سنائی گئی۔

یہ مقدمہ خالدہ ضیا کے دورِ اقتدار میں ایک یتیم خانے کے لیے 250000 ڈالر کی امداد سے متعلق تھا۔ انہیں خرد برد کا مجرم ٹھہرایا گیا۔