امریکہ انڈیا کو پانچ ارب کے روسی میزائل خریدنے دے گا؟

،تصویر کا ذریعہGetty Images
- مصنف, شکیل اختر
- عہدہ, بی بی سی اردو ڈاٹ کام، نئی دہلی
روس کے صدر ولادیمیر پوتن جمعرات کو انڈیا کے دو روزہ دورے پر دلی پہنچ رہے ہیں۔ یہ دورہ دونوں ملکوں کے درمیان سالانہ سربراہی ملاقات کہ حصہ ہے۔
لیکن اس بار یہ اس وجہ سے اہمیت اختیار کر گیا ہے کہ اس دورے میں پانچ ارب ڈالر کی مالیت کے انتہائی جدید میزائل دفاعی نظام انڈیا کو فروخت کرنے کے ایک معاہدے پر دستخط کیے جانے کی توقع ہے۔ امریکی اہلکاروں نے اس معاہدے کے خلاف انڈیا کو خبردار کیا ہے اور پابندیوں کی دھمکی دی ہے۔
انڈیا اور روس نے اکتوبر 2016 میں پانچ ایس-400 میزائل دفاعی نظام خرینے کے ایک سودے پر پر بات چیت مکمل کر لی تھی۔ دونوں ملکوں نے ایک ارب ڈالر مالیت کے 200 کاموف-226 ٹی ہیلی کاپٹر کے ایک سودے کو بھی حتمی شکل دے دی ہے لیکن امریکہ کی مداخلت کے بعد ان اہم دفاعی سودوں پر دستحظ ہو سکیں گے یا نہیں یہ ابھی واضح نہیں ہے۔
یہ بھی پڑھیں!
اگست 2017 میں امریکہ کے صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے امریکی انتخابات میں مداخلت کے الزامات کے بعد روس کے خلاف کئی طرح کی پابندیوں کا اعلان کیا تھا۔ اس کے تحت روس کی 39 کمپنیوں سے تجارت پر پابندی لگائی گئی ہے۔
End of سب سے زیادہ پڑھی جانے والی
ان میں وہ دفاعی کمپنی بھی شامل ہے جو ایس-400 دفاعی میزائل شیلڈ بناتی ہے۔ امریکی پابندی کے ضابطوں کے تحت ان روسی کمپنیوں سے سودا کرنے والی کمپنی اور ملک بھی پابندی کے دائرے میں آئیں گے۔

،تصویر کا ذریعہGetty Images
روسی صدر کی نئی دہلی روانگی سے قبل ماسکو میں جمعرات کی صبح کریملن پریس سروس کی طرف سے ایک بیان جاری کیا گیا ہے جس میں کہا گیا ہے کہ ’دونوں رہنماؤں کی ملاقات میں پانچ ارب ڈالر مالیت کے ایس- 400 میزائل شیلڈ انڈیا کو فروخت کرنے کے معاہدے پر دستخط کیے جانے کی توقع ہے۔‘
منگل کو کو صدر پوتین کے خارجی امور کے مشیر یوری اوشاکوف نے تصدیق کی تھی کہ صدر پوتین کی موجودگی میں ایس-400 میزائل سودے کے معاہدے پر دستخظ کیے جائیں گے۔
انڈیا کی جانب سے اس سودے کے بارے میں کوئی بیان نہیں آیا ہے۔
دونوں جانب سے جو اشارے ملے ہیں ان سے پتہ چلتا ہے کہ دفاعی سودوں کے علاوہ توانائی اور خلائی اشتراک کے سمجھوتوں سمیت تقریباً 20 معاہدوں پر دستخط کیے جائیں گے۔ بعض اطلاعات کے مطابق روس چاند پر انسان بھیجنے کے انڈیا کے مشن سے پہلے تجربے کے لیے انڈیا کے ایک خلانورد کو خلا میں اپنے بین الاقوامی خلائی سٹیشن بھیجنے کی پیشکش بھی کرے گا۔

،تصویر کا ذریعہGetty Images
لیکن اس دورے میں ساری توجہ ایس-400 ٹرائمف میزائل کے معاہدے پر مرکوز ہوگی۔ حال میں انڈیا اور امریکہ کے وزرائے خارجہ اور وزرائے دفاع کی میٹنگ ہوئی تھی۔ اس ملاقات میں روس سے دفاعی سودے کا معاملہ خاص طور سے زیر بحث رہا۔
انڈیا کی دلیل تھی کہ چونکہ اس سودے کی تفصیلات امریکی پابندی سے ایک برس پہلے ہی طے پا چکی تھیں اس لیے اسے پابندی سے مستثنیٰ رکھا جائے۔ اطلاعات ہیں کہ امریکہ نے جولائی میں انڈیا کو پابندی سے استثنیٰ دینے کے فیصلے سے مطلع کیا تھا۔
امریکی وزیر خارجہ مائک پومپیونے انڈیا اور روس کے درمیان معاہدے کے بارے میں ایک سوال کے جواب میں کہا تھا کہ ’ابھی اس کے بارے میں کوئی فیصلہ نہیں کیا گیا ہے۔‘
دلچسپ پہلو یہ ہے کہ انڈیا نے امریکہ کے ذریعے ایران سے یکطرفہ طور پر جوہری معاہدہ منسوخ کیے جانے اور اس کے خلاف نئی پابندیوں کیے اعلان کے بعد کہا تھا کہ وہ کسی انفرادی ملک کی پابندیوں کو تسلیم نہیں کرتا اور وہ صرف اقوام متحدہ کے فیصلے پر عمل کرے گا۔ لیکن امریکی اہلکاروں سے بات چیت کے بعد انڈیا نے ایران سے آئندہ مہینے سے تیل کی برآمد رفتہ رفتہ بند کرنے سے اتفاق کر لیا ہے۔
بعض تجزیہ کاروں کا خیال ہے کہ انڈیا نے روس سے دفاعی سودے کے لیے ایران کے معاملے میں پیچھے ہٹنے کا فیصلہ کیا۔

،تصویر کا ذریعہGetty Images
ایس-400 مزائل نظام دوسرے ملک کے کروز میزائل طیاروں یا ڈرون کے حملوں سے دفاع کا ایک خود کار نظام ہے۔ اس کا طاقتور ریڈار بیک وقت فضا میں 100 حملہ آور اوبجیکٹس کی نشاندہی کر سکتا ہے۔ یہ 400 کلومیٹر کے دائرے میں 30 کلومیٹر کی اونچائی تک حملہ آور میزائلوں، بموں اورڈرون وغیرہ کو تباہ کرنے کی صلاحیت رکھتا ہے۔ روس نے اسے پہلی بار سنہ 2007 میں ماسکو کے فضائی دفاع کے لیے نصب کیا۔
سنہ 2015 میں شام میں روس اور شام کے فضائی اور بحری اڈوں کے دفاع میں اسے استعمال کیا گیا۔ دفاعی ماہرین کا کہنا ہے کہ اس کے بعد اس دفاعی نظام میں کئی ملکوں کی دلچسپی بہت بڑھ گئی۔ چین اسے پہلے ہی خرید چکا ہے اور آئندہ جنوری میں اسے یہ دفاعی میزائل ملنا شروع ہو جائيں گے۔ انڈیا اسے پاکستان اور چین کے محاذ کے نقطۂ نظر سے حاصل کرنے کی کوشش کر رہا ہے۔
اب تک جو اشارے مل رہے ہیں ان سے لگتا ہے کہ دونوں ممالک صدر پوتن اور وزیراعظم نریندر مودی کی ملاقات کے دوران جمعے کو اس معاہدے پر دستخط کر سکتے ہیں۔ یہ معاہدہ انڈیا اور روس کے لیے بہت اہم ہے اور یہ تبھی ممکن ہے جب امریکہ روس پر لگائی گئی پابندیوں سے انڈیا کو استثنیٰ دینے کے لیے راضی ہو۔
اس سے یہ بھی پتہ چل سکے گا کہ انڈیا روس اور امریکہ کے باہمی تنازع کے پس منظر میں امریکہ سے اپنی قربت برقرار رکھنے میں کس حد تک کامیاب رہا۔









