الیکشن جیتنے کے لیےبی جے پی کو بابری مسجد کی ضرورت

،تصویر کا ذریعہGetty Images
- مصنف, شکیل اختر
- عہدہ, بی بی سی نامہ نگار، دلی
انڈیا کا سپریم کورٹ ایودھیا کی منہدم بابری مسجد کے تنازعے کی جلد ہی حتمی سماعت شروع کرنے والا ہے ۔ مندر۔ مسجد تنازعے کے ہندو فریق اور ملک میں برسر اقتدار ہندو قوم پرست جماعت بی جے پی اس مقدمے کا جلد از جلد فیصلہ چاہتی ہے ۔ اس کے بر عکس حزب اختلاف کی جماعت کانگریس اور مسلم فریق اس مقدمے کی سماعت میں مزید تاخیر کے متمنی ہیں۔
آئندہ سات آٹھ مہینے میں ملک میں پارلیمانی انتخابات ہونے والے ہیں ۔حکومت خود اپنی کارکردگی کے بارے میں شکوک و شبہات میں مبتلا ہے۔ سیاسی مبصرین کا خیال ہے کہ ملک میں جس طرح کی انتخابی فضا بن رہی ہے اس میں ایک بار پھر عوام کو مذہبی خطوط پر تقسیم کیے جانے کا قوی امکان ہے۔
بابری مسجد ۔ رام جنم بھومی تنازع گذشتہ 35 برس سے جذباتی مذہبی سیاست کا محور رہا ہے۔ ایودھیا کی پانچ سو برس پرانی مسجد کو بی جے پی کی زیر قیادت ایک طویل تحریک کے بعد ہندو انتہا پسندوں کے ایک ہجوم نے چھ دسمبر 1992 کو منہدم کر دیا تھا۔ بعض ہندو تنظیموں اور افراد کا یہ دعوی ہے کہ یہ مسجد ایک مندر توڑ کر بنائی گئی تھی اور یہ کہ وہ مندر اس مقام پر بنا تھا جس جگہ ہندوؤں کے بھگوان شری رام چندر کی پیدائش ہوئی تھی۔

،تصویر کا ذریعہGetty Images
بابری مسجد ایودھیا کی سب سے بڑی اور اہم مسجد تھی۔ 1949 تک اس میں باقاعدگی کے ساتھ نماز پڑھی جاتی تھی ۔ لیکن دسمبرمیں اس میں مورتی رکھے جانے کے واقعے کے بعد مقامی انتظامیہ نے وہاں سے مورتی ہٹانے کے بجائے مسجد پر تالا لگا دیا۔ 1986 میں ایک مقامی عدالت نے اس کا تالا کھولنے اور اور مندر کی بنیاد رکھنے کی اجازت دے دی۔ 1949 سے یہ مقدمہ مختلف مراحل سے گرتا ہوا اب سپریم کورٹ پہنچا ہے۔
مندر مسجد کے اس تنازعے میں عدالت عظمی کو صرف یہ طے کرنا ہے کہ آیا بابری مسجد جس زمین پر بنی تھی وہ زمین جائز طور پر مسجد کی تھی یا نہیں یا یہ مسجد کسی مندر کی زمین غصب کر کے بنائی گئی تھی؟ اس مقدمے کا فیصلہ انتہائی دلچسپ ہونے کی توقع کی جا سکتی ہے۔ یہ ملک کا غالبآ سب سے پرانا مقدمہ ہے اور اس کے اصل مدعی انتقال کر چکے ہیں ۔ اس مقدمے میں خود بھگوان رام کو بھی ایک فریق یا زندہ وجود تسلیم کیا گیا ہے۔
اس مقدمے کے فیصلے میں عدالت اس پہلو کو بھی مدنظر رکھے گی کہ کہ آیا ایک مسجد اسلام میں عبادت کا ایک اٹوٹ حصہ ہے یا نہیں ۔ سپریم کورٹ میں یہ مقدمہ آئندہ چند ہفتوں میں روز مرہ کی بنیاد پرشروع ہو گا اوربہت سے ماہرین گا خیال ہے کہ شاید انتخابات سے پہلے اس کا کوئی فیصلہ آ جائے ۔

،تصویر کا ذریعہGetty Images
بابری مسجد کی جگہ رام مندر کی تعمیربی جے پی کا ایک کلیدی ایجنڈہ رہا ہے ۔ مندر میں مورتی رکھنے سے لے کر مسجد کو تباہ کیے جانے اور مندر کی تعمبر کے لیے پتھرکے ستونون، مورتیوں اور چھتوں تک کی تیاری مکمل ہو چکی ہے۔ اب صرف فیصلے کا انتظار ہے ۔ چند ہفتے پہلے ملک کے ایک سرکردہ ہندو سادھو نے متنبہ کرتے ہوئے کہا تھا کہ اگر عدالت عظمی نے مسجد کے حق میں فیصلہ کیا تو ملک میں آگ لگ جائے گی اور یہ فیصلہ ہندو تنظمیوں کے لیے قابل قبول نہیں ہو گا ۔انہوں نے مسلمانوں کو یہ مشورہ دیا تھا کہ وہ ملک میں امن و آشتی اور مزہبی بھائی چارے کے لیے عدالت سے باہر سمجھوتہ کرتے ہوئے مسجد کے حق سے دستبردار ہو جائیں ۔
سیاسی تجزیہ کاروں کا خیال ہے کہ جہاں تک مسجد کے حق سے دستبردار ہونے کا سوال ہے تو شاید یہ فیصلہ مسلمانوں کو بہت پہلے کر لینا چاہيئے تھا ۔ لیکن اس مرحلے پر جب ملک کی عدالت عظمی انصاف کا عمل مکمل کرنے والی ہے کسی یکطرفہ سمجھوتے کا عمل انصاف کے تقاضے کے منافی ہو گا ۔
End of سب سے زیادہ پڑھی جانے والی
مندر مسجد کے تنازعے نے بی جے پی کو بہت کچھ دیا ہے ۔ بی جے پی مندر کی سیاست سے ہی آگے بڑھ سکی اور بالآخراقتدار تک پہنچی ۔ سیاست کی دھندلی فضا میں بی جے کو ایک بار پھر بابری مسجد کے سہارے کی ضرورت ہے ۔ نماز پڑھنے کے لیے مسلمانوں کو مسجد کی ضرورت ہے یا نہیں یہ توعدالت عظمی بتائے گی لیکن انتخاب جیتنے کے لیے مسلمانوں سے زیادہ بی جے پی کو بابری مسجد کی ضرورت ہے ۔







