انڈیا: صبری مالا مندر میں خواتین کو جانے کی اجازت مل گئی

صبری مالا مندر

،تصویر کا ذریعہGetty Images

انڈیا کی سپریم کورٹ نے ہندوؤں کے لیے مقدس سمجھے جانے والے مندروں میں سے ایک صبری مالا مندر میں خواتین کو داخل ہونے کی اجازت دے دی ہے۔

انڈین سپریم کورٹ کے پانچ رکنی بینچ نے 1-4 کے فرق سے جمعے کو فیصلہ سنایا۔

انڈیا کی ریاست کیرلا میں واقع صبری مالا مندر انڈیا کے ان گنے چنے مندروں میں شامل ہے جہاں صدیوں سے صرف مردوں ہی کو داخلے کی اجازت ہے۔

اس سے پہلے اس مندر میں 10 سے 50 سال کے درمیان کی بالغ خواتین کے داخلے پر پابندی تھی۔

اس مندر کی انتظامیہ کا موقف تھا کہ چونکہ 10 سے 50 سال کی عمر کے درمیان خواتین کو حیض آتا ہے اس لیے وہ ’ناپاکی‘ کی حالت میں اس مندر میں نہں جا سکتیں۔

انڈیا میں خواتین کو ناپاکی کی حالت میں مذہبی رسومات میں حصہ لینے یا مندروں میں داخل ہونے کی اجازت نہیں ہوتی کیونکہ ہندوؤں کے عقیدے کے مطابق انھیں اس حالت میں ’ناپاک‘ سمجھا جاتا ہے۔

اس بارے میں مزید پڑھیے

انڈیا کی سپریم کورٹ میں درخواست دہندگان نے اس مقدمے کے حق میں دلیل دی کہ یہ روایت انڈیا کے آئین میں دی گئی صنفی مساوات کی خلاف ورزی ہے۔

انڈیا کے متعدد مندروں میں خواتین کو صرف اس صورت میں داخل ہونے کی اجازت ہوتی ہے جب وہ حیض کی حالت میں نہ ہوں۔ صبری مالا مندر بھی انڈیا کے ان گنے چنے مندروں میں شامل ہے۔

انڈیا کے صبری مالا مندر میں ہر سال لاکھوں زائرین آتے ہیں۔

صبری مالا مندر

،تصویر کا ذریعہGetty Images

انڈیا کی سپریم کورٹ کے چیف جسٹس دیپک مشرا نے اپنے فیصلے میں کہا ’مذہب ایک وقار اور شناخت کے لیے ہے‘۔ انھوں نے مزید کہا ’مذہب پر عمل کرنے کا حق مرد اور عورت دونوں کا ہے۔‘

واضح رہے کہ انڈیا کے چیف جسٹس دیپک مشرا نے حالیہ دنوں کے دوران ملک میں 'ایڈلٹری' اور ’ہم جنس پرستی‘ کو جرم کے دائرے سے خارج کر دیا ہے۔

جسٹس مشرا کی سربراہی میں پانچ رکنی بینچ نے جمعے کو 1-4 سے فرق سے یہ فیصلہ سنایا۔ واضح رہے کہ انڈیا کے چیف جسٹس مشرا منگل کو ریٹائر ہو جائیں گے۔

بی بی سی کے سوتک بسواس کا کہنا ہے کہ اعلیٰ عدالت میں ریٹائرمنٹ سے پہلے یکے بعد دیگرے ایسے فیصلے سامنے آنا غیر ممعولی نہیں ہیں۔

ہمارے نامہ نگار کے مطابق ایک تحقیق میں یہ بات سامنے آئی ہے کہ سپریم کورٹ کا ایک جج چار سے چھ سالوں کی مدت کے دوران صرف 6000 مقدمات سنتا ہے۔

انڈیا کی ریاست کیرلا کی حکومت نے سنہ 2016 میں پہلی بار یہ مقدمہ سامنے آنے کے بعد خواتین کے مندروں میں داخل ہونے کی مخالفت کی تھی۔ تاہم حکومت نے اس مقدمے کی حالیہ سماعت کے دوران اپنا موقت تبدیل کرتے ہوئے دوخواست دہندگان کے موقف کی حمایت کی تھی۔

صبری مالا مندر کی اہمیت کیا ہے؟

صبری مالا مندر

،تصویر کا ذریعہKAVIYOOR SANTHOSH

انڈیا میں صبری مالا مندر ملک کے سب سے اہم ترین مندروں میں سے ایک ہے جہاں ہر سال پوری دنیا سے لاکھوں زائرین آتے ہیں۔ اس مندر میں داخل ہونے کے لیے زائرین کو 18 مقدس سیٹرھوں چڑھنی پڑتی ہیں۔

اس مندر کی ویب سائٹ کے مطابق ان 18 سیڑھیوں کو عبور کرنے کا عمل اتنا مقدس ہے کہ کوئی بھی زائر 41 روزے رکھے بغیر انھیں عبور نہیں کر سکتا۔

یہاں آنے والے زائرین کو مندر میں داخل ہونے سے پہلے مخصوص مذہبی رسومات کی پیروی کرنا پڑتی ہے۔

اس مندر میں آنے والے زائرین میں سے کچھ زائرین صرف سیاہ یا نیلے رنگ کے کپڑے پہنتے ہیں اور زیارت کی تکمیل تک انھیں شیو کرنے کی اجازت نہیں ہوتی ہے۔