افغانستان میں ’دولتِ اسلامیہ کا سربراہ فضائی حملے میں ہلاک ہو گیا‘

،تصویر کا ذریعہAFP
افغانستان میں حکام کا کہنا ہے کہ خود کو دولتِ اسلامیہ کہلانے والی شدت پسند تنظیم کا سربراہ فضائی حملے میں ہلاک ہو گیا ہے۔
اطلاعات کے مطابق پاکستان کی سرحد سے متصل افغان صوبہ ننگر ہار میں ہونے والی فضائی کارروائیوں میں دولتِ اسلامیہ کے سربراہ ابو سعد ارهابی اور تنظیم کے دیگر دس شدت پسند ہلاک ہو گئے۔
ابو سعد ارهابی دولتِ اسلامیہ کے چوتھے سربراہ ہیں جو حالیہ برسوں افغانستان میں فوجی کارروائیوں میں مارے گئے۔
اس بارے میں مزید پڑھیے
سکیورٹی ادارے نیشنل ڈائریکٹوریٹ آف سکیورٹی کا کہنا ہے کہ امریکہ کی سربراہی میں اتحادی افواج کی مدد سے ہونے والے زمینی اور فضائی آپریشن کے دوران ابو سعد ارهابی مارے گئے۔
End of سب سے زیادہ پڑھی جانے والی
امریکی حکام نے ابھی تک ابو سعد ارهابی کی ہلاکت کے بارے میں کوئی بیان جاری نہیں کیا ہے تاہم صرف اتنا کہا ہے کہ علاقے میں شدت پسند تنظیم کے ایک سینیئر رہنما کو نشانہ بنانے کے لیے حملہ کیا گیا تھا۔
ابھی تک دولتِ اسلامیہ کی جانب سے اپنے سربراہ کی ہلاکت کی تصدیق یا تردید کے حوالے سے کوئی بیان سامنے نہیں آیا ہے۔

،تصویر کا ذریعہAFP
اس سے پہلے 2017 میں کنڑ صوبے میں دولتِ اسلامیہ کے سربراہ ابو سعید امریکی حملے میں مارے گئے تھے۔
دولتِ اسلامیہ نے 2015 میں خراسان صوبے کی تنظیمی شاخ کا اعلان کیا تھا اور کہا تھا کہ تنظیم افغانستان اور پاکستان میں منتقل ہو رہی ہے۔ یہ پہلا موقعہ تھا جب دولتِ اسلامیہ مشرقِ وسطیٰ سے باہر باضابطہ طور پر نمودار ہوئی۔ تب سے لے کر اب تک اس تنظیم نے متعدد حملوں کی ذمہ داری قبول کی ہے۔
ایک اندازے کے مطابق افغانستان میں دولتِ اسلامیہ کے جنگجوؤں کی تعداد 1000 سے 5000 تک ہو سکتی ہے۔











