ہندو راشٹر کے بعد اب اسلامی مملکت بنانے کی کوشش

انتخابی نشانات

،تصویر کا ذریعہGetty Images

،تصویر کا کیپشنانڈیا کی پانچ ریاستوں میں انتخابات کا اعلان کر دیا گیا ہے
    • مصنف, شکیل اختر
    • عہدہ, بی بی سی اردو ڈاٹ کام، نئی دہلی

انڈیا کی حکمراں جماعت بھارتیہ جنتا پارٹی ان دنوں ہر سیاسی بحث کا رخ ہندتوا کی طرف موڑ دیتی ہے۔ ایک وقت تھا جب وہ مخالف تصورات اور سیاسی مخالفین کو 'ملک دشمن' قرار دیتی تھی۔ اب وہ حزب مخالف کے بیانات کو 'ہندو مخالف' قرار دینے لگی ہے۔

گذشتہ دنوں کانگریس کے رہنما ششی تھرور نے ایک مباحثے میں حصہ لیتے ہوئے کہا کہ بی جے پی اگر دوبارہ اقتدار میں آگئی تو وہ انڈیا کو 'ہندو پاکستان' بنا دے گی۔

ہندو پاکستان سے ان کی مراد یہ تھی کہ وہ انڈین جمہوریت کو ایک ہندو مملکت میں بدل دے گی جس میں اکثریتی مذہب کا غلبہ ہو گا اور جس میں مذہبی اقلیتوں کو برابر کے حقوق حاصل نہیں ہونگے۔

بی جے پی ان کے اس بیان پر برہم ہوگئی اور اسے ہندوؤں پر حملہ قرار دیا۔ پارٹی نے کہا کہ کانگریس پارٹی اور اس کے رہنما ہمیشہ سے ہی ہندو مخالف ہیں۔

کانگریس کے رہنما راہل گاندھی نے پارلیمانی انتخابات کی تیاری کے طور پر الگ الگ طبقوں کے خیالات جاننے کی کوشش کے تحت گذشتہ دنوں بعض مسلم دانشوروں سے ملاقات کی۔ بی جے پی نے اس ملاقات پر شدید ردعمل ظاہر کرتے ہوئے راہل گاندھی سے جاننا چاہا ہے کہ کیا کانگریس مسلمانوں کی پارٹی ہے؟

دراصل بی جے پی آئندہ انتخابات میں سخت گیر ہندتوا کا نہ صرف سہارا لینی چاہتی ہے بلکہ وہ رفتہ رفتہ اس کے نفاذ کی طرف بھی بڑھ رہی ہے۔ آئندہ انتخابی مہم میں ترقی اور کارکردگی کے ایجنڈے سے زیادہ ہندوتوا کا غلبہ ہو گا۔

ششی تھرور

،تصویر کا ذریعہPacific Press

،تصویر کا کیپشنششی تطرور کیرالہ میں اپنے انتخابی حلقے میں بات کر رہے تھے

ادھر بی جے پی کی حکومت نے مسلمانوں میں ایک ہی بار میں تین طلاق کو غیر قانونی قرار دینے کے بعد اب نکاح حلالہ اور بیک وقت میں ایک سے زیادہ شادیاں کرنے کو غیر قانونی قرار دینے کی طرف قدم بڑھا یا ہے۔ مسلمانوں کے اس طرح کے ‏عائلی معاملات کی ذمے داری مسلم پرسنل لا بورڈ کی ہوا کرتی تھی۔

پرسنل لا بورڈ نے ان معاملات پر مبہم رویہ اختیار کر کے ان روایات کی بالواسطہ طور پر حمایت کی۔ اس کے نتیجے میں شادی طلاق اور دیکھ بھال کے لیے لیے دیے جانے والے مینٹیننس جیسے معاملات میں کوئی اہم اصلاح نہیں ہو سکی۔ اب جب اچانک حکومت نے ‏عدالت میں ان روایات کو ختم کرنے کی پوزیشن لے لی ہے تو مسلم پرسنل لا بورڈ گھبرا اٹھا۔

پہلے اس نے اپنی حمایت میں رائے عامہ ہموار کرنے کی کوشش کی لیکن قوانین میں ترمیم کی بڑھتی ہوئی مانگوں سے اس کے حالات اور بھی پیچیدہ ہو گئے۔ پرسنل لا بورڈ کو محسوس ہونے لگا کہ مسلمانوں میں اس کی حیثیت کمزور پڑنے لگی ہے اور اس کے فیصلے اب حکومتوں اور عدالتوں کے ہاتھوں کی طرف پھسل رہے ہیں۔

انڈیا، مسلمان خواتین

،تصویر کا ذریعہGetty Images

مسلم پرسنل لا بورڈ نے مسلمانوں میں اپنی گرتی ہوئی ساکھ بحال کرنے کے لیے ملک کے سبھی ضلعوں میں شرعی عدالتیں قائم کرنے کا اعلان کر دیا۔ ان نام نہاد عدالتوں میں جماعت اسلامی، جمیعت االعلماء ہند، دیو بند، ندوہ اور اس جیسے اداروں کے قاضی اور مفتی مسلمانوں کے مسائل کا اسلامی نکتہۂ نظر سے فیصلہ سنائیں گے۔ دلچسپ پہلو یہ ہے کہ پرسنل لا بورڈ اس طرح کی نام نہاد عدالتیں پہلے بھی قائم کر چکا ہے لیکن اس کی یہ کوشش پوری طرح ناکام ثابت ہوئی۔

ایک جمہوری ملک میں ایک متبادل نظام انصاف قائم کرنے کا کوئی آئینی جواز نہیں ہے۔ شرعی عدالتوں کے قیام کے اعلان کو بعض مبصرین جمہوریت میں اسلامی مملکت قائم کرنے کی مولویوں کی تمنا سے تعبیر کرتے ہیں۔ آئینی ماہرین اسے کھپ پنچایت قرار دے رہے ہیں۔

جمہوریت فرد کی آزادی اور برابری کے حقوق کی بنیاد پر قائم ہے۔ کوئی بھی قانون اور روایت جو فرد کی آزادی، انسانی حقوق اور مرد و عورت کی برابری کے تصور سے متصادم ہے اسے جمہوری نظام میں جگہ نہیں ملتی۔ ملک کے مذہبی رہنماشرعی عدالتیں قائم کرنے کے بجائے ‏اگر عائلی قوانین کو عصری اور جمہوری تقاضوں سے ہم آہنگ کرنے کی کوشش کریں تو یہ ملک کے مسلمانوں اور جمہوریت دونوں کے لیے بہتر ہو گا۔