چیتے کی سائیکل سواری، انسان ہر وقت برا نہیں ہوتا

cheeta leapord bicycle wildlife india
،تصویر کا کیپشنوائیلڈ لائف کے دو اہلکاروں نے چیتے کو رسیوں سے باندھ کر اسے ہسپتال پہنچانے کیلئے تین کلو میٹر سائیکل پر سواری کی اور اس طرح یہ پہلا چیاتا بن گیا جس نے سائیکل پر سواری کی۔
    • مصنف, کُمار ہرش
    • عہدہ, بی بی سی گورکھپور، انڈیا

گھنے جنگلوں میں بہتی ہوئی ندی کے درمیان میں ایک چیتا کھڑا تھا جسے بغیر کسی پنجرے کے پکڑنے کیلئے پانچ شکاری اس کی آنکھ میں آنکھ ڈالے ساکت کھڑے تھے۔ سب کی سانسیں رُکی ہوئی تھیں۔

اس وقت ہر ایک کی جان حلق میں اٹک گئی جب چیتے نے جنگل میں بھاگنے کے بجائے ان کی طرف بڑھنا شروع کیا۔ چیتے اور شکاریوں کے درمیان فاصلہ کم رہا تھا۔ اب یخ بستہ تھا۔

دیا شنکر ٹیواری کی اس سے قبل گزشتہ چوبیس برسوں میں اس طرح کے خطرناک جنگلی جانوروں سے کئی مرتبہ مُڈھ بھیڑ ہو چکی تھی مگر یہ اس کی زندگی کا سب زیادہ خطرناک آمنا سانا تھا۔

دیا شنکر انڈیا-نیپال کی سرحد کے قریب ریاست اتر پردیش کے ضلع مہاراج گنج کے سوگی بروا وائیلڈ ڈویژن میں ایک رینجرز ہے۔

جب چیتا ہمارے نزدیک آ پہنچا

آٹھ اپریل اتوار کے دن جب وہ دوپہر دو بجے جنگل میں ڈیوٹی پر مامور تھا، اس کے ایک ساتھی شیام دھر پانڈے نے اسے اطلاع دی کہ گھنے جنگلوں میں ایک چیتا نازُک حالت میں پڑا ہوا ہے۔

کیونکہ چند روز قبل چیتوں کا ایک گروہ جنگل میں دیکھا گیا تھا اس لیے دیا شنکر فوراً اس جگہ پہنچا جہاں اُسے چیتے کے ملنے کی اطلاع ملی تھی۔ چیتا گھنے جنگل میں بہتی ہوئی ندی کے بیچ و بیچ موجود تھا۔

وہ وہاں بار بار کھڑا ہونے کی کوشش کررہا تھا مگر ہر بار ناکام ہوجاتا تھا۔ اس کی اس کیفیت سے صاف ظاہر ہورہا تھا کہ یا تو وہ زخمی تھا یا بہت بیمار تھا۔ دیا شنکر اور اس کے ساتھیوں نے فوراً اس چیتے کی مدد کرنے کی کوششیں شروع کردیں۔

دیا شنکر کا کہنا ہے کہ "جب ہم نے اُسے آواز دی اور اشارہ دیا کہ وہ ہماری طرف آئے، تو وہ ہماری جانب چلنے لگا۔ جب وہ ہماری طرف بڑھا تو ہم بہت خوف زدہ ہوئے، لیکن ہمارے ساتھیوں نے اس کے اردگرد ایک گھیرا بنا لیا۔"

"جب وہ آہستہ آہستہ ہماری طرف بڑھا تو شیام دھرپانڈے اور ڈی پی کُشوا نے اُس کے پیچھے سے اس پر جست لگائی اور چیتے کو اُس کی پچھلی ٹانگوں سے پکڑ لیا۔ یہ واقعی ایک خطرناک کوشش تھی، لیکن اُس وقت چیتے کی مدد کا اور کوئی رستہ نہیں تھا۔

cheeta leapord wildelife india
،تصویر کا کیپشنجنگل کے بیچ و بیچ زخمی چیتے نے مددگار انسانوں کے خلاف مزاحمت نہیں کی

اس طرح چیتے کو بغیر کسے پنجرے کے لایا گیا۔

دیا شنکر کہتے ہیں: "ہم اُس وقت حیران رہ گئے جب اُس نے اپنے پکڑے جانے پر کوئی مزاحمت نہیں کی۔ جب چیتے پر قابو پالیا گیا تو اُس کی ٹانگیں رسیوں سے باندھ دی گئیں۔ اس کی گردن کو بھی ایک کپڑے سے باندھ دیا تھا تاکہ اس پر مکمل کنٹرول ہو سکے۔"

اس دوران دیا شنکر نے ڈویژنل فارسٹ آفیسر منیش سنگھ کو مطلع کیا اور انھوں نے کہا کہ چیتے کو پنجرے سمیت ان تک پہنچا دے۔ لیکن اُس وقت شنکر اور ان کے ساتھیوں نے سوچا کے کسی قسم کی تاخیر چیتے کی زندگی کےلیے خطرناک ثابت ہو سکتی ہے۔ لہٰذا انھوں نے ایک اور خطرناک کام سوچا۔

چیتے کو شیام دھر پانڈے کی پشت پر لاد دیا اور وہ سائیکل پر سوار ہوگیا۔ اس کے ساتھ اس کا ساتھی جئے گووند مشرا کو بٹھا دیا گیا تھا جس نے چیتے کی گردن سے بندھا کپڑا زور سے پکڑ لیا تاکہ چیتا شیام دھر پر حملہ نے کردے۔

جب یہ لوگ دیا شنکر کے ہمراہ چیتے کو سائیکل پر سوار کرکے لے جارہے تھے تو ایک مقام پر سائیکل ایک چھوٹے سے گھڑے سے ٹکرائی تو اس وقت چیتے نے تکلیف میں حرکت کی اور اس کے پنجوں سے شیام دھر کے پیٹ اور پشت پر زخم آئے مگر وہ چیتے کو لیے چلتے رہے۔

تقریباً تین کلو میٹر سائیکل پر سفر کرنے کے بعد وہ اُس مقام پر پہنچے جہاں دیا شنکر کی ٹاٹا سومو جیپ کھڑی تھی۔ یہاں پہنچ کر انھوں نے سکھ کا سانس لیا۔

ننھا" چھا گیا"

چیتے کو جیپ کے پیچھے کیریج میں رکھ کر تیس کلو میٹر دور ڈویژنل ہیڈ کوارٹر پہنچایا گیا۔ اسے جنگلے میں رکھا گیا پھر اُسے ضلع مہاراج گنج کے ویٹرینری کلینک میں لے جایا گیا جہاں اُس کا علاج شروع ہوا۔

پانچ گھنٹوں کے آپریشن کے بعد جنگلی زندگی کی ایک جرات مند اور رحم دل مہم انجام کو پہنچی جس میں ایک چیتے نے شاید پہلی مرتبہ انسانوں کے ساتھ تین کلو میٹر طویل سائیکل پر سواری کی۔

cheeta india wildlife leapord
،تصویر کا کیپشنعلاج کے بعد چیتا مہا راج گنج کی ویٹرینیری کلینک کے پنجرے میں۔

ڈویژنل فارسٹ آفیسر منیش سنگھ کا کہنا تھا کہ ڈاکٹروں کا اندازہ ہے کہ چیتے پر شاید جنگلی سؤروں یا کسی بڑے جانور نے حملہ کردیا تھا۔ اس کے جسم پر دانتوں اور پنجوں کے نشانات ملے تھے۔ کیونکہ یہ چیتا صرف ڈیڑھ برس کا تھا اس لیے وہ ان جانوروں سے لڑتے ہوئے جلد ہی تھک گیا تھا۔ چیتے کو گلوکوز لگائی گئی اور وہ بہتر حالت میں تھا۔

منیش سنگھ نے اپنے عملے کی تعریف کرتے ہوئے کہا "یہ ایک بہت ہی منفرد اور پُرخطر مہم تھی، انھوں نے اپنی ذمہ داری ادا کرنے کی ایک اعلیٰ مثال قائم کی۔"

دوسری جانب، دیا شنکر اور اس کے ساتھی اس بات پر خوش ہیں کہ ان کی وجہ سے ایک چیتا بچ گیا جو اب پنجرے میں چہل قدمی کررہا تھا۔ اُس نے بتایا کہ انھوں نے "دو برس قبل بھی ایک چیتے کو بچایا تھا جو اس وقت بانسوں میں پھنس گیا تھا۔ اس وقت وہ بے بس تھا جبکہ ہمارے پاس ایک جنگلا تھا۔ لیکن اس مرتبہ اس چیتے کو ہم ایک ننھے سے بچے کی طرح گود میں اٹھا کر لے کر گئے۔"

"ننھا" کہتے ہوئے شیام دھر مسکرایا "پچاس کلو وزنی ننھا، اُس کا پنجا ہتھوڑے کی طرح لگتا تھا!"

کُشوا، ورندرا اور مبین علی، جو اس مہم میں شامل تھے، ان کیلئے یہ واقعہ ناقابل فراموش ہے۔ کُشوا نے کہا کہ اُسے کئی دوستوں نے کہا کہ چیتے کی سائیکل سواری کی ویڈیو بنا لیتے تو بہت مزا آتا۔ لیکن حقیقت یہ ہے کہ اُس وقت ذہن میں صرف ایک ہی خیال تھا کہ کسی طرح اس کی زندگی بچ جائے۔ اس کے علاوہ کچھ خیال ہی نہیں تھا!"

چیتا جلد ہی جنگل لوٹ جائے گا جہاں شاید وہ اپنے ساتھیوں کو اپنی سائیکل سواری کی کہانی سنائے اور یہ بھی بتائے کہ انسان ہر وقت برا نہیں ہوتا ہے۔"