مودی کی رہنمائی میں انڈیا عرب ممالک سے نزدیک آ گیا ؟

انڈیا اور مشرقی ایشیا

،تصویر کا ذریعہPIB

    • مصنف, زبیر احمد
    • عہدہ, بی بی سی نامہ نگار، دلی

انڈین وزیر اعظم نریندر مودی کے اقتدار والے دور میں انڈیا کے عرب ممالک کے ساتھ تعلقات بہتر ہو گئے ہیں۔

نریندر مودی گزشتہ چار برسوں میں متعدد عرب ممالک کا دورہ کر چکے ہیں۔ اور عرب ممالک کے رہنما ماضی کے مقابلے میں اب انڈیا کے بھی زیادہ دورے کر رہے ہیں۔ اردن کے شاہ عبداللہ دوئم کا تین روزہ دورہ بھی اس کی مثال ہے۔

یہ بھی پڑھیے

اسی ہفتے مذہبی تشدد کے بارے میں ہونے والے ایک جلسے میں وزیر اعظم نے کہا تھا کہ دہشت گردی اور شدت پسندی کے خلاف جنگ کسی بھی مذہب کے خلاف نہیں ہے۔ دلی کے وگیان بھون میں انہیں سننے والوں میں اردن کے شاہ بھی شامل تھے۔ یہ ان کا انڈیا کے دورے کا آخری دن تھا۔

شاہ عبداللہ نے بھی اپنے خطاب میں ایسی ہی باتیں کہی تھیں۔ بین الاقوامی سطح پر جاری مذہبی شدت پسندی کے خلاف انڈیا کے ساتھ مل کرمقابلےکا آغاز بھی ان کے دورے کا ایک اہم مقصد تھا۔

انڈیا اور مشرقی ایشیا

،تصویر کا ذریعہMEA Twitter

رشتے زیادہ مضبوط

دراصل گزشتہ چار برسوں میں نریندر مودی نے بھی جب بھی مشرق وسطی اور خلیجی ممالک کے دورے کیے تو اسی طرح کے محاذ کھولنے پر زور دیا تھا۔

دلی میں مشرق وسطیٰ کے امور کی ماہر مینا سنگھ رائے کہتی ہیں کہ وزیر اعظم کی مشرق وسطی پالیسی کا یہ ایک اہم نکتہ بن گیا ہے۔

مودی کے دورے میں مشرق وسطیٰ کے ساتھ بڑھتی نزدیکیوں پربات کرتے ہوئے مینا سنگھ نے کہا کہ ’گزشتہ چار برسوں میں انڈیا کی توجہ عرب ممالک کے ساتھ رشتوں پر دوبارہ مرکوز ہو گئی ہے۔ چاہے وہ رہنماؤں کا آنا جانا ہو، معاشی تعلقات مضبوط کرنا، یا پھر سرمایہ لگانے کی بات ہو۔

یہ بھی پڑھیے

انہوں نے کہا کہ صنعتی اور سیاسی تعلقات ماضی کے مقابلے موجودہ دور میں کافی مضبوط ہیں۔

انڈیا کے اسرائیل کے ساتھ بہتر تعلقات کے باوجود مودی کی رہنمائی میں انڈیا کے خلیجی ممالک سے تعلقات بہتر ہوئے ہیں۔

انڈیا کی سعودی عرب کے ساتھ دوستی بھی گہری ہو گئی ہے

،تصویر کا ذریعہEPA

تیل اور گیس سے آگے کی بات

سابق سفیر راجیو ڈوگرا کے مطابق اس کی کئی وجوہات ہیں۔ وہ کہتے ہیں کہ ’پہلی بات یہ کہ ماضی میں ان علاقوں کے بارے میں ذہنی طور پر ہمارا محتاط رویہ رہا ہے۔ تارکین وطن سے انڈیا میں اربوں ڈالر آتا ہے، اس لیے ہمیں ایسا کچھ نہیں کرنا چاہیے جس سے بات بگڑ جائے۔‘

’دوسری اہم بات یہ ہے کہ ان ممالک میں جو سرمایہ لگایا گیا ہے وہ بہت زیادہ اور قابل قدر ہے۔ اور تیسرا یہ کہ ان ممالک نے اسلامی شدت پسندی کے خلاف جو جنگ شروع کی ہے اس میں انڈیا اہم کردار ادا کر سکتا ہے۔‘

مینا سنگھ رائے کے مطابق دونوں کے درمیان رشتوں میں گرمجوشی کی چند دیگر وجوہات بھی ہیں۔ انہوں نے کہا کہ ’اب اس کی وجہ صرف توانائی نہیں ہے۔ اب معاشی اور صنعتی رشتوں کے علاوہ انڈیا ان ممالک کے ساتھ دہشتگردی مخالف اور دفاعی میدان میں رشتے بہتر کر رہا ہے۔‘

راجیو ڈوگرا کے مطابق دلچسپ بات یہ ہے کہ یہ ایک دو طرفہ قدم ہے۔ جتنا انڈیا خلیجی ممالک کی طرف قدم بڑھا رہا ہے اتنا ہی عرب ممالک بھی رشتوں میں نزدیکیاں لانے کی کوشش کر رہے ہیں۔

مینا سنگھ رائے کہتی ہیں کہ ’ہندوستان کی اپنی پہچان اور اہمیت بڑھ گئی ہے۔ آئی ٹی کے میدان میں ہمارا اب بہت نام ہو چکا ہے۔ یہ ممالک بھی ہمارے ساتھ تیل اور گیس کے علاوہ دوسرے معاملات میں نزدیکیاں چاہتے ہیں۔‘

انڈیا اور مشرقی ایشیا

،تصویر کا ذریعہAFP

ایشیا پالیسی کا اثر

اس کے نتیجے میں آج یہ صورت حال ہے کہ پاکستان کا پرانا دوست سعودی عرب موجودہ دور میں انڈیا کے زیادہ نزدیک ہے اور پاکستان کے دوسرے قریبی ملک اردن کے شاہ کے انڈیا دورے کے بعد اب اردن سے بھی انڈیا کے بہتر تعلقات کے آثار نظر آ رہے یں۔

لیکن سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ ایک چھوٹے سے ملک اردن سے انڈیا کا کیا فائدہ ہوگا؟ راجیو ڈوگرا کہتے ہیں کہ ’بہت فائدہ ہوگا۔ پہلا یہ کہ اسرائیلی اور فلسطینی علاقے سے جڑے اردن کی جغرافیائی اہمیت ہے۔ دوسرا یہ کہ انڈیا کی طرح اردن بھی اسرائیل اور فلسطین دونوں ہی سے قریب ہے۔ اور تیسرا فائدہ یہ کہ اردن کی آبادی کا بڑا حصہ فلسطینی ہے جو انڈیا کے حامی ہیں۔

مینا رائے کہتی ہیں کہ ’اردن کو الگ کر کے نہیں دیکھنا چاہیے۔ اردن کے ساتھ رشتے کو انڈیا کی مغربی ایشیا پالیسی کے تناظر میں دیکھنا چاہیے۔‘

مینا کا خیال ہے کہ اس ہالیسی کی طویل المدتی کامیابی کے لیے کئی چھوٹے چھوٹے قدامات کرنے پڑیں گے۔ اردن کے ساتھ رشتے بہتر کرنا ایسا ہی ایک چھوٹا سا قدم ہے۔

ماہرین اس بات پر متفق ہیں کہ عرب اور خلیجی ممالک میں انڈیا کی اہمیت کے علاوہ مقبولیت بھی بڑھی ہے۔ اور اس کا سہرہ نریندر مودی کو جاتا ہے۔

راجیو ڈوگرا کہتے ہیں کہ انڈیا کے ان ممالک کے ساتھ رشتے پہلے بھی اچھے ہی تھے جن کی شروعات جواہر لعل نہرو نے کی تھی۔ لیکن موجودہ دوستی ایک نئی سمت میں بڑھ رہی ہے۔