انڈیا: ہجوم کے ہاتھوں مرتے شخص کے ساتھ سیلفیاں

،تصویر کا ذریعہAFP
انڈیا کی جنوبی ریاست کیرالہ میں چوری کے الزام میں ایک شخص کو ہجوم کی جانب سے جان سے مارنے کی ویڈیو وائرل ہونے کے بعد دو افراد کو حراست میں لے لیا ہے۔
اس واقعے کی ویڈیو نے اور اس کے ساتھ ساتھ اس بندھے ہوئے شخص کو مرتا دیکھ کر سیلفیاں بناتے ہوئے لوگوں کی تصاویر نے عوام میں تشویش کی لہر دوڑ گئی ہے۔
مارے جانے والے شخص کی شناخت قبائلی کے طور پر ہوئی ہے جو اس علاقے میں رہتا تھا۔
یہ بھی پڑھیے
بی بی سی سے بات کرتے ہوئے پولیس کا کہنا تھا کہ وہ اس قتل میں ملوث دیگر افراد کو تلاش کر رہی ہے۔
End of سب سے زیادہ پڑھی جانے والی
اعلیٰ پولیس اہلکار پرتیش کمار کا کہنا ہے کہ اس شخص پر حملے کی اطلاع ملتے ہی اہلکاروں کی ایک ٹیم فوری طور پر ضلع پالاکڈ میں جائے وقوعہ پر پہنچ گئی تھی۔
ان کے مطابق اہلکاروں نے فوری طور پر کارروائی کرتے ہوئے مادھو نامی اس شخص کو چھڑایا اور ہسپتال پہنچایا، تاہم وہ طبی امداد فراہم کرنے سے پہلے ہی ہلاک ہو گیا تھا۔
اس تحریر میں ایسا مواد ہے جو X کی جانب سے دیا گیا ہے۔ کسی بھی چیز کے لوڈ ہونے سے قبل ہم آپ سے اجازت چاہتے ہیں کیونکہ یہ ممکن ہے کہ وہ کوئی مخصوص کوکیز یا ٹیکنالوجیز کا استعمال کر رہے ہوں۔ آپ اسے تسلیم کرنے سے پہلے X ککی پالیسی اور پرائیویسی پالیسی پڑھنا چاہیں گے۔ اس مواد کو دیکھنے کے لیے ’تسلیم کریں، جاری رکھیں‘ پر کلک کریں۔
X پوسٹ کا اختتام
اس واقعے کی ویڈیو اور تصاویر سے کیرالہ کے لوگوں میں خوف پھیل گیا، بعض ٹی وی چینلوں نے تو ان تصاویر میں سے بعض نشر بھی کر دیں ہیں ۔
کیرالہ کے معروف اداکار ماموتی نے اپنے فیس بک صفحے پر اس بارے میں لکھا: ’مادھو کی ہلاکت کا ذمہ دار ہمارا نظام ہے، ایسا نظام جو ہجوم کے ہاتھوں انصاف کی اجازت دیتا ہے اور ایک شخص جو دوسرے پر حملہ کرتا ہے وہ انسان نہیں۔ ہم خود کو ماڈرن اور ترقی یافتہ کیسے کہہ سکتے ہیں۔‘
ریاست کے وزیر اعلیٰ نے کہا ہے کہ حملہ آوروں کے خلاف ’سخت ایکشن‘ لیا جائے گا، اور یہ واقعہ کیرالہ کے ترقی پسند معاشرے پر ’دھبہ‘ ہے۔
قبائیلیوں کے حقوق کے لیے کام کرنے والی دھنیا رمن نے بی بی سی ہندی کو بتایا کہ ’ایک شخص دوسرے کے ساتھ سب سے برا یہ کر سکتا ہے کہ ایسی صورتحال میں سیلفی لے۔‘










