تصاویر میں: 20 لاکھ برسوں کی تاریخ کی جھلک

،تصویر کا ذریعہSharma Centre for Heritage Education, Chennai
انڈیا کے شہر ممبئی میں 20 لاکھ سال کی تاریخ پر مشتمل ایک نمائش منعقد کی گئی ہے۔ اس نمائش کو 'انڈیا اینڈ دی ورلڈ: اے ہسٹری ان نائن سٹوریز' کا نام دیا گیا ہے۔
یہاں نمائش کے لیے رکھے گئے 228 مجسموں، برتنوں، نایاب تصویروں اور دیگر نوادرات کو ان کے وقت کے حساب سے نو ادوار میں تقسیم کیا گیا ہے۔
اس نمائش کا آغاز 11 نومبر 2017 کو ہوا ہے اور یہ ممبئی کے سب سے بڑے میوزیم چترپتی شواجی وستیو میوزیم میں 18 فروری 2018 تک جاری رہے گی۔ اس کے بعد یہ نمائش دہلی میں بھی منعقد کی جائے گی۔
میوزیم کے ڈائریکٹر سبیساجی مکھرجی کے مطابق ’نمائش کا مقصد ہندوستان اور باقی دنیا کے درمیان تعلق تلاش کرنا اور اس کا موازنہ کرنا ہے۔‘
نمائش میں 100 سے زیادہ نوادرات نجی اور سرکاری عجائب گھروں سے حاصل کیے گئے ہیں جو برصغیر کی تاریخ کے اہم ادوار کے عکاس ہیں۔
سالوں پہلے دنیا کے دوسرے کونوں میں کیا ہو رہا تھا، نمائش میں اس کی جھلک بھی ملتی ہے۔ اس نمائش میں 124 ایسے نوادرات بھی شامل ہیں جنھیں لندن کے برٹش میوزیم سے لایا گیا ہے اور شاید یہ پہلی بار برٹش میوزیم کے باہر لائے گئے ہیں۔

،تصویر کا ذریعہTAPI Collection of Praful and Shilpa Shah, Surat
اس تصویر میں’بلوچستان کا برتن‘ (3500-2800 BC) دیکھا جا سکتا ہے۔ پتھر کے دور کے اس برتن کی دریافت بلوچستان کے علاقے مہر گڑھ سے ہوئی تھی۔ اس علاقے سے دریافت ہونے والے دیگر برتنوں کی طرح اس پر بھی مختلف رنگوں کی نقاشی کی گئی ہے جو قدیم دور عام پائی جاتی تھی۔
کھانا پکانے اور کھانا رکھنے کے علاوہ یہ روایتی رسموں میں بھی استعمال ہوتے تھے۔ یہ آخری رسومات میں بھی استعمال ہوتے تھے اور ان کی دریافت قبروں سے بھی ہوئی ہے۔
End of سب سے زیادہ پڑھی جانے والی

،تصویر کا ذریعہHaryana State Archaeology and Museums
سونے کے سینگوں والے بیل (1800 قبل مسیح) کا تعلق شمالی انڈیا اور پاکستان میں قدیم وادی سندھ کی تہذیب سے ہے۔
یہ بیل ہریانہ میں دریافت ہوا تھا۔ مغربی ایشیا میں بھی سنہری سینگ بنانے کی روایت عام تھی۔

،تصویر کا ذریعہCSMVS
بادشاہ اشوک کا ایک حکمنامہ سیاہ پتھر (250 قبل مسیح) پر لکھا گیا تھا۔ اشوکا کا شمار قدیم ہندوستان کی بڑی ریاستوں کے حکمرانوں میں ہوتا تھا۔ یہ ٹکڑا ممبئی کے قریب سوپارا علاقے سے دریافت ہوا تھا۔

،تصویر کا ذریعہNational Museum, New Delhi
اس مجسمے (150صدی عیسوی) کے بارے میں خیال ہے کہ یہ بادشاہ کشن کا ہے۔ کشن خاندان نے پہلی صدر عیسوی میں شمالی ہندوستان اور وسطی ایشیا کے کچھ حصوں پر حکمرانی کی تھی۔ بظاہر یہ مجسمہ ایک بڑے مجسمے کا حصہ تھا۔
ایسے بیشتر مجمسمے انڈیا کے شہر میتھرا سے ملے ہیں جو کشن ریاست کا دارالحکومت تھا۔

،تصویر کا ذریعہCSMVS, Mumbai
بدھا کی یہ کانسی کا مجسمہ (900-1000 عیسوی) تمل ناڈو سے ملا تھا۔ بدھ کو امن، حکمت اور شعور کی علامت کے طور پر دیکھا جاتا ہے۔ چولا خاندان کے دور میں جنوبی برصغیر کا حصہ بدھا کے فلسفے کے اہم مراکز میں سے تھا۔
بدھ کے سر پر شعلہ اس کی عقل کی علامت ہے اور ایسے مجسمے سری لنکا اور جنوب مشرقی ایشیا میں بھی پائے گئے ہیں۔

،تصویر کا ذریعہNational Museum, New Delhi
مغل حکمران جہانگیر (1620 عیسوی) کی تصویر، جس میں انھوں نے اپنے ہاتھوں میں مریم کی تصاویر اٹھائی ہوئی ہے۔ یہ تصویر واٹر کلرز اور سونے سے کاغذ پر بنائی گئی ہے۔ اس تصویر کو نمائش میں اتر پردیش سے لایا گیا ہے جو مغل بادشاہت کا گڑھ تھا۔

،تصویر کا ذریعہThe British Museum
مغل شہنشاہ جہانگیر (1656-1661 عیسوی) کی یہ تصویر ایک ڈچ فنکار ریمبراں کی مصور کی ہوئی ہے۔ ریمبراں مغلیہ دربار سے متاثر تھے جو مغل منی ایچر مصوری کا موضوع رہا ہے۔ بہت ساری مغل منی ایچر تصاویر ڈچ تجارت کے ذریعے یورپ پہنچیں اور ریمبراں کے بارے میں خیال ہے کہ ان کے پاس کئی ایسی تصاویر تھیں۔

،تصویر کا ذریعہMani Bhavan Gandhi Sangrahalaya, Mumbai
لکڑی کا چرخہ برطانیہ کے خلاف آزادی کی جدوجہد کا ایک طاقتور علامت بن گیا تھا۔ یہ مہاتما گاندھی تھے جنھوں نے ہندوستانیوں کے درمیان خود مختاری کی روح کو بیدار کیا۔ انھوں نے لوگوں کو برطانوی سامان کا استعمال نہ کرنے اور صرف ہندوستان میں تیار کردہ کپڑا استعمال کرنے کا مشورہ دیا۔
یہ چرخہ ممبئی کے منی بھون سے لایا گیا ہے، جو 17 سال تک مہاتما گاندھی کے سیاسی تحریک کے ہیڈکوارٹر رہا تھا۔
یہ نمائشں سی ایس ایم وی ایس ممبئی، نیشنل میوزیم دہلی اور برٹش میوزیم لندن کے اشتراک سے منعقد کی جارہی ہے۔









