’یہ ہمارے بزرگوں کی روایت ہے، عورتوں کو چپل پہننے نہیں دیں گے‘

،تصویر کا ذریعہAARJU AALAM/BBC
- مصنف, آرزو عالم
- عہدہ, صحافی
انڈیا میں خواتین کو مساوی حقوق فراہم کرنے کے متعلق بیداری کی رفتار اگرچہ تیز ہو رہی ہے لیکن یہاں کے دیہی علاقوں میں ابھی بھی روایتی رسم رواج اس کی راہ میں حائل ہیں۔
انڈیا کی وسطی ریاست مدھیہ پردیش کے چمبل ڈویژن کے ایک گاؤں آمیٹھ میں خواتین مردوں کے سامنے چپل نہیں پہن سکتیں۔
انھیں مردوں کے سامنے آنے یا ان کے سامنے سے گزرنے کے لیے چپل اتار کر ننگے پاؤں چلنا پڑتا ہے۔
یہ بھی پڑھیں
تقریباً 1200 افراد پر مشتمل اس گاؤں میں خواتین کی آبادی تقریباً پانچ سو ہے۔ صبح سویرے آمیٹھ کی خواتین پانی کے لیے تقریباً ڈیڑھ کلو میٹر کا سفر کرتی ہیں جہاں ایک چشمے سے پانی حاصل ہوتا ہے۔
گھر کے لوگوں کے لیے پانی کا انتظام کرنے میں انھیں روزانہ سات آٹھ گھنٹے لگتے ہیں۔ ایک ایسی ہی خاتون ششی بائی کا کہنا ہے کہ انھیں گھر اور سماج میں وہ عزت نہیں ملتی جس کی وہ مستحق ہیں۔
ایک ہاتھ میں چپل اور دوسرے میں سامان

،تصویر کا ذریعہAARJU AALAM/BBC
ششی بائی کہتی ہیں ’سر پر پانی یا گھاس کا بوجھ اٹھائے جب ہم گاؤں میں داخل ہوتے ہیں تو چبوترے پر بیٹھے بڑے بزرگوں کے سامنے سے گزرنے کے لیے ہمیں اپنی جوتیاں اتارنی پڑتی ہیں۔ ایک ہاتھ سے چپل اتارنے اور دوسرے ہاتھ سے سامان تھامنے کی وجہ سے ہم کئی بار خود کو ہی نہیں سنبھال پاتے ہیں۔‘
End of سب سے زیادہ پڑھی جانے والی
ششی مزید کہتی ہیں ’ایسا رواج برسوں سے چلا آ رہا ہے تو اب ہم اسے کس طرح تبدیل کرسکتے ہیں۔ اگر ہم بدلیں بھی تو ساس سسر یا دیور، شوہر کہتے ہیں کہ کیسی بہو آئی ہے؟ بغیر صفت، بغیر دماغ کی، بڑوں کا احترام نہیں کرتی ہے اور سینڈل پہن کر اڑتی پھرتی ہے۔‘
یہ بھی پڑھیں
گاؤں کے ہی چوپال پر بیٹھے ایک روایتی گیم کھیلتے ہوئے کچھ مرد اس رواج کو اپنے 'بزرگوں کی روایت' بتاتے ہیں اور اس بات پر زور دیتے ہیں کہ 'عورتوں کو مردوں کی عزت کی خاطر ان کے سامنے چپل پہن کر نہیں چلنا چاہیے۔'
ہر موسم میں روایت کی پاسداری

،تصویر کا ذریعہAARJU AALAM/BBC
سفید گھنی مونچھوں والے 65 سالہ گووند سنگھ سادگی سے کہتے ہیں: 'تمام عورتیں اپنی رضا اور خوشی سے روایت نبھا رہی ہیں۔ ہم ان پر کوئی زبردستی نہیں کرتے۔ آج بھی ہمارے گھر کی عورتیں ہمیں دیکھ کر دور سے ہی چپل اتار لیتی ہیں۔ کبھی اگر راستے میں مل جاتی ہیں تو چپلیں اتار کر دور کھڑی ہو جاتی ہیں۔'
خواتین برسات کے مہینوں میں کیچڑ سے بھرے راستے یا جاڑے کے سرد راستے یا پھر گرمیوں کی تپتی راہوں پر بھی اس روایت کی پابندی کرتی ہیں۔
آدرش فاؤنڈیشن نامی غیر سرکاری ادارے میں کام کرنے والی جھریا دیوی کہتی ہیں کہ پاس پڑوس کے گاؤں میں یہ رواج عام ہے۔ وہ آج تک اپنے محلے میں چپل اتار کر ہی داخل ہوتی ہیں۔
یہ بھی پڑھیں
وہ بتاتی ہیں: 'یہ رواج پہلے صرف پسماندہ یا 'نیچی ذات' کی خواتین کے لیے تھا لیکن جب اس طبقے کی خواتین میں اس کے خلاف باتیں ہونے لگیں تو پھر اسے 'اعلی' ذات کی خواتین پر بھی عائد کر دیا گیا۔'
نوجوان اس رویات سے نالاں ہیں

،تصویر کا ذریعہAARJU AALAM/BBC
بہر حال بعض نوجوان جو شہر میں رہنے کے بعد واپس آئے ہیں وہ اس رواج کو خواتین کے خلاف تعصب کہتے ہیں۔
گاؤں کے رمیش کہتے ہیں: 'مندروں کے آگے سے جب کوئی عورت چپل پہن کے نکل جائے تو سارا گاؤں کہنے لگتا ہے کہ فلاں کی بہو نے مندر کی توہین کی ہے لیکن گاؤں کے مرد تو جوتے چپل پہن کر مندر کے چوپال پر جوا کھیلتے رہتے ہیں تو کیا اس صورت میں بھگوان کی توہین نہیں ہوتی؟'
تاہم رمیش اپنے بزرگوں کے سامنے اپنے ان خیالات کو ظاہر کرنے سے گریز کرتے ہیں لیکن انھیں یہ امید ہے کہ میڈیا میں خبر آنے کے بعد شاید اس میں کمی آئے اور یہ ختم ہو جائے۔
یہ بھی پڑھیں
شیوپور کے ڈسٹرکٹ میجسٹریٹ پنّا لال سولنکی اپنے ضلعے میں جاری ایسے کسی رواج سے اپنی لاعلمی ظاہر کرتے ہیں۔ بہر حال انھوں نے کہا کہ وہ اس کا پتہ چلائيں گے اور اگر ان کے حلقۂ اختیار میں ایسا کوئی رواج جاری ہے تو وہ اس کو بند کرانے کی کوشش کریں گے۔

،تصویر کا ذریعہAARJU AALAM/BBC
مردوں کے سامنے خواتین کے چپل پہننے پر گاؤں کے باہر آباد شمالی حصے میں بھی پابندی ہے جہاں بعض قبائلی کنبے آباد ہیں۔
مجھے عورتوں سے باتیں کرتے دیکھ کر ایک قبائلی نوجوان نے زور سے آواز لگائی: 'یہ ہمارے بزرگوں کی عزت کا سوال ہے۔ ہم اپنی عورتوں کو گاؤں گھر میں چپل نہیں پہننے دیں گے۔'
ہمیں ایسے لوگ بھی ملے جو اس بات پر حیران تھے کہ کیا خواتین کا چپل پہننا بھی کوئی غلط بات ہے؟
٭ یہ سٹوری آرزو عالم نے بی بی سی ہندی کے لیے چمبل سے کی ہے۔









