آپ اس وقت اس ویب سائٹ کا ٹیکسٹ پر مبنی ورژن دیکھ رہے ہیں جو کم ڈیٹا استعمال کرتا ہے۔ مرکزی ویب سائٹ جہاں تمام تصاویر اور ویڈیوز موجود ہیں دیکھیے
ایران کا جواب: ’دنیا سعودی شہزادے کے نادان بیانات کو اہمیت نہیں دیتی‘
ایران کے دفتر خارجہ نے سعودی ولی عہد محمد بن سلمان سے کہا ہے کہ خطے کے مشہور آمروں کے ساتھ جو ہوا ہے اس کے بارے میں سوچیں۔
ایرانی دفتر خارجہ کے ترجمان بہرام قاسمی نے محمد بن سلمان کی جانب ایران کے رہبرِ اعلیٰ آیت اللہ خامنہ ای کو 'مشرقِ وسطیٰ کے نیا ہٹلر' کہنے کے جواب میں یہ بیان جاری کیا ہے۔
یہ بھی پڑھیے
نیم سرکاری خبر رساں ایجنسی اثنا کے مطابق بہرام قاسمی نے کہا کہ 'سعودی شہزادے کے نادان اور بے بنیاد بیانات اور رویے کا نتیجہ یہ ہوا ہے کہ دنیا میں کوئی بھی ان کے بیانات کو اہمیت نہیں دیتا۔'
ایرانی دفتر خارجہ کے ترجمان نے مزید کہا کہ مہم جو سعودی شہزادے کی غلطیوں کے باعث مشکلات پیدا ہوئی ہیں اور ان غلطیوں میں تازہ ترین لبنان کے اندرونی معاملات میں مداخلت کا سکینڈل ہے۔
بیان میں مزید کہا گیا ہے کہ 'میں ان (سعودی شہزاردے) کو مشورہ دیتا ہوں کہ گذشتہ چند سالوں میں خطے کے مشہور آمروں کی قسمت کے بارے میں سوچیں اور غور کریں کیونکہ اب وہ ان کی پولیسیوں اور رویوں کو اپنا رول ماڈل بنا رہے ہیں۔'
End of سب سے زیادہ پڑھی جانے والی
واضح رہے کہ سعودی عرب کے ولی عہد محمد بن سلمان نے امریکی اخبار نیویارک ٹائمز کو انٹرویو دیتے ہوئے کہا کہ 'ہم نے یورپ سے سیکھا ہے کہ خوشامدانہ پالیسی کام نہیں کرتی۔ ہم نہیں چاہتے کہ ایران کے نئے ہٹلر مشرقِ وسطیٰ میں وہ دہرائیں جو ہٹلر نے یورپ میں کیا تھا'۔
محمد بن سلمان نے انٹرویو کے دوران کہا کہ سعودی عرب اور اس کے ہم خیال عرب ملک خطے میں بڑھتے ہوئے ایرانی اثر و نفوذ پر بند باندھنے کے لیے امریکی صدر ٹرمپ کی پشت پناہی سے اتحاد قائم کرنے کی کوشش کر رہے ہیں۔
یہ بھی پڑھیے
سنی اکثریتی ملک سعودی عرب اور شیعہ اکثریتی ایران مشرقِ وسطیٰ میں سرد جنگ کی حالت میں ہیں اور وہ کئی ملکوں میں اپنی اپنی حمایت یافتہ تنظیموں کی مدد سے ایک دوسرے سے نبرد آزما ہیں۔
1979 میں ایران میں مذہبی حکومت قائم ہونے کے بعد سے دونوں کی رقابت میں مزید اضافہ ہوا ہے۔