آپ اس وقت اس ویب سائٹ کا ٹیکسٹ پر مبنی ورژن دیکھ رہے ہیں جو کم ڈیٹا استعمال کرتا ہے۔ مرکزی ویب سائٹ جہاں تمام تصاویر اور ویڈیوز موجود ہیں دیکھیے
حزب اللہ نے کہا ہے شام اور فلسطینیوں کو اسلحہ فراہم کیا، حوثیوں کو نہیں
حزب اللہ کے رہنما سید حسن نصراللہ نے کہا ہے کہ ان کی جماعت نے فلسطینی علاقوں اور شام میں اسلحہ بھیجا ہے یمن میں نہیں۔
حسن نصر اللہ نے پیر کے روز کہا کہ نہ تو یمن میں حوثی باغیوں کو اسلحہ فراہم کیا ہے اور نہ ہی سعودی عرب کے دارالحکومت ریاض پر فائر کیے جانے والے میزائل میں حزب اللہ ملوث ہے۔
انھوں نے کہا 'میں تصدیق کرتا ہوں کہ کوئی بیلسٹک میزائل، جدید اسلحہ یا بندوقیں ۔۔۔ ہم نے کوئی اسلحہ یمن نہیں بھیجا۔ نہ بحرین بھیجا نہ کویت اور نہ ہی عراق۔'
یہ بھی پڑھیے
End of سب سے زیادہ پڑھی جانے والی
انھوں نے مزید کہا 'تاہم حزب اللہ نے فلسطینی علاقوں میں اسلحہ بھیجا بشمول ٹینک شکن میزائل۔ مجھے اس بات پر فخر ہے۔ اور شام میں بھی ہمارا اسلحہ ہے جس سے ہم وہاں لڑ رہے ہیں۔'
ٹی وی پر خطاب کرتے ہوئے حسن نصر اللہ نے کہا کہ اسرائیلی حکام کی جانب سے ان بیانات کا نوٹس لیا جانا چاہیے جن میں انھوں نے سعودی عرب اور اسرائیل کے درمیان تعلقات کا ذکر کیا ہے۔
حسن نصر اللہ نے عرب لیگ کی جانب سے جاری کردہ بیان کو تنقید کا نشانہ بنایا جس میں حزب اللہ پر دہشت گردی کا الزام لگایا گیا ہے۔
انھوں نے عرب لیگ کے الزامات کو 'معمولی اور مضحکہ خیز' قرار دیا۔ انھوں نے سوال کیا کہ عرب لیگ سعودی عرب کی یمن میں فوجی کارروائی پر کیوں خاموش ہے۔
حسن نصر اللہ نے ریاض پر یمن سے داغے گئے میزائل کے حوالے ے مزید کہا 'میں دو ٹوک الفاظ میں اس الزام کی تردید کرتا ہوں۔ حزب اللہ کے کسی فرد کا اس میزائل کے داغے جانے یا ماضی میں داغے گئے میزائلوں میں کوئی ہاتھ نہیں ہے۔'
انھوں نے ایران کی پاسداران انقلاب کے کمانڈر میجر جنرل قاسم سلیمانی کا شام کے مشرقی علاقے البو کمال میں اپنے آپ کو دولت اسلامیہ کہلانے والی شدت پسند تنظیم کے خلاف کارروائیوں پر شکریہ ادا کیا۔
انھوں نے کہا کہ دولت اسلامیہ کے خلاف جنگ اسی عزم سے جاری رہنی چاہیے اور ہمیں مل کر داعش کے بچے ہوئے عناصر کو ختم کرنا ہو گا۔
انھوں نے مزید کہا کہ ایک بار عراق میں دولت اسلامیہ کو شکست ہو جائے تو حزب اللہ عراق میں بڑی تعداد میں موجود اپنے کمانڈرز واپس بلا لے گا۔
دوسری جانب حماس نے عرب لیگ کی اس قرار داد کو مسترد کر دیا ہے جس میں حزب اللہ کو دہشت گرد قرار دیا گیا ہے۔
حماس نے ایک بیان میں کہا ہے کہ جماعت 'لبنان کی حزب اللہ کو دہشت گرد قرار دینے کو مسترد کرتی ہے۔ بلکہ اسرائیل کی فلسطینیوں کے خلاف کارروائیوں کو دہشت گردی قرار دیا جانا چاہیے۔'