لبنانی وزیراعظم سعد حریری نے استعفیٰ ’عارضی طور پر معطل کر دیا‘

لبنانی وزیراعظم سعد حریری نے ’عارضی طور پر اپنا استعفیٰ معطل‘ کر دیا ہے جس کا اعلان انھوں نے دو ہفتے قبل اپنے دورۂ سعودی عرب کے دوران کیا تھا۔

سعد حریری کا کہنا ہے انھوں نے صدر میشال عون کو اپنا استعفیٰ پیش کیا ہے لیکن انھیں ’مزید مشاورت تک روکے رکھنے‘ کا کہا گیا ہے۔

دونوں رہنماؤں کے درمیان ملاقات سعد حریری کی ملک واپسی کے ایک روز بعد ہوئی ہے۔

صدر میشال عون کا اصرار تھا کہ سعد حریری اپنا استعفیٰ خود جمع کروائیں، ورنہ سمجھا یہ جائِے گا کہ انھیں مبینہ طور پر ایسا کرنے پر مجبور کیا گیا ہے۔

انھوں نے اس تاثر کو رد کیا تھا کہ انھیں سعودی عرب میں زبردستی رکھا گیا تھا یا کہ سعودی حکام نے ایران کے ساتھ کشیدگی کے باعث انھیں استعفیٰ دینے پر مجبور کیا۔

منگل کو صدارتی محل میں ملاقات کے بعد ٹی وی پر نشر کیے گئے خطاب میں سعد حریری نے کہا کہ ’آج میں نے اپنا استعفیٰ عزت مآب صدر کو پیش کر دیا ہے اور انھوں نے مجھے عارضی طور پر اسے معطل کرنے اور اس کی وجوہات پر مزید مشاورت کے لیے روکے رکھنے کا کہا ہے۔'

ان کا کہنا تھا کہ ’میں نے اس درخواست پر اتفاق کا اظہار کیا ہے اس امید کے ساتھ کہ یہ ذمہ دارانہ بات چیت کی بنیاد بنے گا۔‘

خیال رہے کہ لبنانی وزیراعظم سعد حریری تقریباً دو ہفتے قبل سعودی عرب میں اپنے عہدے سے مستعفی ہونے کے اعلان کے بعد پہلی مرتبہ بیروت پہنچے تھے۔

سعد حریری نے اس وقت ایک سیاسی بے یقینی کی صوتحال پیدا کر دی تھی جب انھوں نے سعودی عرب میں یہ کہہ کر استعفیٰ دے دیا تھا کہ ان کی جان کو خطرہ ہے۔

سنیچر کے روز وزیراعظم حریری فرانس کے دارالحکومت پیرس گئے جہاں انھوں نے فرانسیسی صدر ایمانوئل میکخواں سے ملاقات کی جن کی کوشش ہے کہ موجودہ کشیدگی سے نکالا جا سکے۔

سعد حریری نے نومبر کی چار تاریخ کو سعودی عرب سے اپنے عہدے سے مستعفی ہونے کا اعلان کر دیا تھا۔ سعد حریری نے اپنے ایک ٹی وی انٹرویو میں کہا تھا کہ سعودی عرب سے واپس جانے پر وہ مکمل طور پر آزاد ہیں اور انھوں نے اپنے آپ کو محفوظ رکھنے کے لیے لبنان چھوڑا تھا۔

خیال رہے کہ ایران اور اس کی اتحادی لبنان کی عسکری تنظیم حزب اللہ نے سعودی عرب پر الزام عائد کیا تھا کہ اس نے سعد حریری کو یرغمال بنا رکھا ہے۔