’کشمیر کے حالات میں موجودہ مذاکراتی عمل کا اثرانداز ہونا مشکل‘

راج ناتھ سنگھ اور دنیشور شرما

،تصویر کا ذریعہTWITTER @HMOINDIA

،تصویر کا کیپشنانڈیا کے وزیر داخلہ راج ناتھ سنگھ کے ساتھ یہاں دنیشور شرما کو دیکھا جا سکتا ہے
    • مصنف, ریاض مسرور
    • عہدہ, بی بی سی اردو ڈاٹ کام، سرینگر

حکومت ہند کے تعینات کردہ مذاکرات کار دِنیشور شرما جب پیر کو کشمیریوں کے ساتھ مذاکرات کے لیے سرینگر کے ایئرپورٹ پر اُترے تو جنوبی کشمیر کے پلوامہ ضلع میں مسلح شدت پسندوں اور فوج کے درمیان شدید تصادم جاری تھا۔

انڈیا کے وفاقی خفیہ ادارہ انٹیلیجینس بیورو کے سابق سربراہ دِنیشور شرما سری نگر کے سرکاری گیسٹ ہاوس میں گجر بکروال قبائل سے تعلق رکھنے والے شہریوں، بعض غیر معروف سماجی انجمنوں اور چند ایک قلمکاروں کے ساتھ ملاقاتوں میں مصروف تھے کہ پلوامہ کے تصادم میں ایک فوجی اور تین شدت پسند مارے گئے۔

اطلاعات کے مطابق ہلاک ہونے والے شدت پسندوں میں جیش محمد کے طلحہ رشید بھی تھے۔

پولیس کا دعویٰ ہے کہ طلحہ دراصل جیش محمد کے سربراہ مسعود اظہر کے قریبی رشتہ دار ہیں۔

پولیس کے سربراہ منیر خان نے منگل کو ایک پریس کانفرنس میں بتایا کہ طلحہ کی لاش کو آبائی وطن پہنچانے کے لیے پاکستان کے ساتھ رابطہ کیا جائے گا۔ پولیس نے امریکی ساخت کی ایک رائفل کی نمائش بھی کی جسے طلحہ سے برآمد کرنے کا دعویٰ کیا گیا۔

واضح رہے فوجی حکام نے دِنیشور شرما کی کشمیر آمد سے پہلے ہی کہا تھا کہ کشمیر کے جنوبی اضلاع میں فی الوقت سو سے زیادہ مسلح شدت پسند سرگرم ہیں جن میں پاکستانیوں کی اچھی خاصی تعداد ہے۔

پریس کانفرنس
،تصویر کا کیپشنپریس کانفرینس میں جیش محمد کے مبینہ شدت پسند طلحہ رشید کے ہتھیار کو دکھایا گيا

تصادم کے واقعات کے دوران مظاہروں، اور مارے جانے والے شدت پسندوں کے جنازوں میں لوگوں کی شرکت کا رجحان ویسا ہی ہے جیسا برہان وانی کی ہلاکت کے وقت تھا۔

حکومتِ ہند نے اکتوبر میں دِنیشور شرما کو مذاکرات کار کے طور تعینات کرتے وقت یہ اعلان کیا تھا کہ انھیں یہ اختیار دیا گیا ہے کہ کن لوگوں کے ساتھ بات چیت کریں۔

علیحدگی پسندوں کے متحدہ مزاحمتی فورم کے تینوں رہنماوں سید علی گیلانی، میرواعظ عمر فاروق اور یاسین ملک نے مذاکرات کو وقت گزارنے کا بہانہ قرار دے کر اس عمل کو مسترد کر دیا ہے۔

کشمیر کے بارے میں مزید پڑھیے

اس دوران دِنیشور شرما کی سرینگر میں موجودگی کے دوران معروف تجارتی انجمنوں اور سماجی رضاکاروں کی معتبر تنظیموں نے مذاکرات کا بائیکاٹ کیا ہے۔

وکلا، صحافیوں، قلمکاروں اور دیگر سماجی شخصیات نے ایک مشترکہ بیان میں کہا ہے کہ علیحدگی پسند اتحاد کے ساتھ مذاکرات کیے بغیر امن عمل کی شروعات نہیں ہو سکتی۔

تاہم بی جے پی کی حمایت یافتہ پی ڈی پی کی حکومت کا کہنا ہے کہ دِنیشور شرما کی تعیناتی ایک تاریخی موقعہ ہے۔

حکومت کے ترجمان نعیم اختر نے جموں میں سرکاری دفاتر کی افتتاحی تقریب سے خطاب کے دوران کہا: 'اس بار مذاکرات کی کوشش ماضی سے مختلف ہے۔ وزیراعظم مودی نے یومِ آزادی پرلوگوں سے وعدہ کیا تھا اور دِنیشور شرما کی آمد اسی وعدے پر عمل کا مظاہرہ ہے۔'

حریت رہنما

،تصویر کا ذریعہGetty Images

،تصویر کا کیپشنحریت رہنما میر واعظ عمر فاروق، سید علی گیلانی اور یاسین ملک کو یہاں دیکھا جا سکتا ہے

اس پس منظر میں مبصرین کا غالب حلقہ اس بات پر متفق ہے کہ کشمیر میں جس طرح کے حالات ہیں ان پر موجودہ مذاکراتی عمل کا اثرانداز ہونا مشکل ہے۔

معروف کالم نگار ریاض ملک کہتے ہیں: 'فوج پہلے ہی کہہ چکی ہے کہ آپریشن جاری رہے گا۔ علیحدگی پسندوں پر قدغن جاری ہے۔ بلکہ انھیں نئے نئے کیسوں میں الجھایا جا رہا ہے۔ مسلح تصادم کے واقعات کا سلسلہ بھی جاری ہے۔ ایسے میں عام لوگ تو یہی سمجھتے ہیں کہ یہ مذاکرات محض ایک سائیڈ شو ہیں۔'

ماضی میں حکومتِ ہند کی طرف سے جب بھی مذاکرات کا آغاز کیا گیا تو علیحدگی پسندوں کو باقاعدہ دعوت نامہ ارسال کیا جاتا تھا۔ لیکن اس بار دِنیشور شرما نے میڈیا میں یہ اعلان کیا کہ ان کے دروازے کھلے ہیں، جو چاہے بات چیت کے لیے آگے آئے۔

سکیورٹی

،تصویر کا ذریعہGetty Images

،تصویر کا کیپشنکشمیر میں سکیورٹی کی صورت حال پہلے جیسی ہی ہے

ابھی تک یہ واضح نہیں ہوا ہے کہ آیا علیحدگی پسندوں کو شامل کرنے کے لیے حکومت کون سا لائحہ عمل اخیتار کر رہی ہے۔

مبصرین کہتے ہیں کہ گجر بکروال، شکارے اور ٹیکسی چلانے والے یا تاجر برادری کے مسائل کو حل کرنے کے لیے باقاعدہ حکومت موجود ہے۔ انجینیئر تنویر حسین کہتے ہیں:'چھوٹے موٹے مسائل کی سماعت کے لیے مذاکرات کار کو تعینات کرنے سے نہ صرف مسلہ کشمیر کو حل کرنے کی ضرورت کو چھپایا جا رہا ہے بلکہ یہ مقامی انتظامیہ کی نااہلی کا بھی اعتراف ہے۔‘