دہلی میں افغان پناہ گزین رہ سکتے ہیں تو پاکستانی ہندو کیوں نہیں؟

روہنگيا
،تصویر کا کیپشندہلی میں رہنے والے ایک روہنگیا پناہ گزین کنبے کو یہاں دیکھا جا سکتا ہے
    • مصنف, زبیر احمد
    • عہدہ, بی بی سی نیوز، دہلی

گذشتہ دنوں ہندوؤں کے معروف تہوار دیوالی کا جشن دارالحکومت دہلی کے لاجپت نگر علاقے میں تھا جہاں دکانیں اور مکانات روشنی میں ڈوبے ہوئے تھے۔

لاجپت نگر میں رہنے والے افغان مہاجرین بھی مقامی لوگوں کے ساتھ جشن میں شامل تھے۔ ان میں اور مقامی لوگوں کے درمیان کوئی فرق نہیں تھا۔

میرے ذہن میں یہ سوال ابھرا کہ اگر افغان پناہ گزین با آسانی مقامی لوگوں کے ساتھ رہ سکتے ہیں تو پھر روہنگیا پناہ گزینوں کیوں نہیں؟ افریقی نژاد کیوں نہیں اور پاکستان سے آ کر آباد ہونے والے ہندو پناہ گزین سکون سے کیوں نہیں رہ سکتے؟

دہلی کے دو مختلف علاقوں میں پاکستانی ہندو پناہ گزین کھلے آسمان کے نیچے ایک بڑے سے میدان میں جھونپڑیاں بنا کر رہ رہے ہیں۔

وہ سنہ 2011 سے اسی حالت میں ہیں۔ لیکن وہاں آباد ہندوؤں کے مطابق کوئی ہندو رہنما ابھی تک ان کے حال احوال جاننے نہیں آیا، یہاں تک کہ بی جے پی کے رہنما بھی نہیں آئے۔

انڈیا میں پاکستان سے آنے والے پناہ گزینوں کی تعداد 14 ہزار ہے۔ ان میں سے بہت سے افراد نے انڈیا کی شہریت کے لیے درخواست دے رکھی ہے لیکن ابھی تک ان کا معاملہ التوا میں ہے۔

پناہ گزینوں میں روہنگیا مسلمانوں کا حال اور بھی خراب ہے اور حال ہی میں بی بی سی نے اس کے بارے میں رپورٹیں شائع کی ہیں۔

روہنگيا

،تصویر کا ذریعہGetty Images

،تصویر کا کیپشنیہ پناہ گزین کھلے آسمان کے نیچے پلاسٹ کے سائبان بنا کر انتہائی مشکل حالات میں رہتے ہیں

مرکزی حکومت انھیں اپنے وطن واپس بھیجنا چاہتی ہے۔ یہ مقدمہ اب بھی عدالت میں زیر سماعت ہے۔ پورے ملک میں تقریبا 50 ہزار روہنگیا مسلمانوں میں سے صرف 14،000 پناہ گزین ہیں۔

حال ہی میں افریقی ملک نائجیریا کے ایک شہری کو دہلی میں کچھ لوگوں نے رسی سے باندھ کر مارا پیٹا۔ ماضی میں افریقی ممالک کے کئی باشندوں کے ساتھ دہلی میں اس قسم کے واقعات پیش آ چکے ہیں۔

ایک واقعہ رونما ہوتا ہے۔ لوگ اس پر تنقید کرتے ہیں اور پھر بھول جاتے ہیں۔ کچھ وقت کے بعد اسی قسم کا دوسرا واقعہ پیش آتا ہے اور اس کی بھی تنقید کی جاتی ہے اور پھر وہ بھی بھلا دیا جاتا ہے۔ اور یہ سلسلہ اب تک جاری ہے۔

انڈیا میں فی الوقت تقریباً دو لاکھ پناہ گزین ہیں اور ہزاروں غیر ملکی یہاں کام کرتے ہیں۔

گذشتہ دو ہزار سال کی ہندوستانی تاریخ میں بہت سے لوگ بیرون ملک سے آ کر یہاں آباد ہوئے ہیں یا پناہ حاصل کی ہے۔ ہندوستانیوں نے اپنے مہمانوں کو کبھی تنگ نہیں کیا۔

افغان

،تصویر کا ذریعہGetty Images

تو اب ہم روہنگیا کو واپس بھیجنا کیوں چاہتے ہیں؟ ہم پاکستان کے ہندو پناہ گزینوں کے وجود کو مسترد کر رہے ہیں اور ہم افریقی برادران کے خلاف مار پیٹ پر کیوں اتر آئیں ہیں جبکہ افریقہ میں افریقی باشندے ہندوستانیوں کا احترام کرتے ہیں؟

جب ہم اس کے اندر جھانکنے کی کوشش کرتے ہیں تو تجزیہ نگار کہتے ہیں کہ یہ نسل پرستی ہے۔ کچھ کہتے ہیں کہ یہ افریقیوں کے خلاف ہندوستانیوں کے تعصب کی ایک مثال ہے۔

افغان پناہ گزینوں اور مذکورہ بالا تین اقسام کی برادریوں کے درمیان تین واضح فرق موجود ہے۔

پہلا یہ کہ افغانی روہنگیا یا پاکستانی ہندوؤں سے مالی طور پر بہتر ہیں۔ اگر پاکستان سے آنے والے ہند کچی بستیوں میں آباد ہیں تو افغان پختہ عمارتوں میں رہتے ہیں۔ اگر ہندو روزانہ اجرت پر مزدوری کرتے ہیں تو افغانیوں نے دکانیں اور ریستوران کھول رکھے ہیں۔

دوسرا فرق یہ ہے کہ افغانستان سے آنے والے لوگ صاف رنگ کے ہیں۔ ان کا رنگ لاجپت نگر یا ساکیت جیسے محلوں میں آباد مقامی لوگوں کے رنگوں جیسا ہے۔ کیا اسی سبب انھیں تشدد کا سامنا نہیں ہے؟

افریقی

،تصویر کا ذریعہGetty Images

،تصویر کا کیپشنافریقی نسل کے سیاہ فام لوگوں کو دہلی میں کئی بار نشانہ بنایا جا چکا ہے

دوسری طرف، افریقی باشندے یا پاکستانی ہندو یا روہنگیا ہیں جن میں اکثریت کی جلد کا رنگ سیاہی مائل ہے۔ کیا وہ اسی سب امتیازی سلوک کا شکار ہیں؟

بعض کہتے ہیں کہ روہنگیا مسلمان ہیں ہی شاید اسی لیے کہ ان کی مخالفت ہوتی ہے۔ لیکن افغان پناہ گزین بھی تو مسلمان ہیں۔ انڈیا میں ان کی تعداد تقریباً 14 ہزار ہے اور سرکاری بیان کے مطابق، 2011 سے 2015 تک جنھیں انڈین شہریت دی گئی ہے ان میں افغان سر فہرست ہیں۔ دوسری طرف پاکستان سے آنے والے پناہ گزین ہندو ہیں۔ اس کے باوجود وہ نظر انداز ہیں؟

یہ بھی خیال ظاہر کیا جاتا ہے کہ انڈیا افغانستان کا دوست ہے اور افغان پناہ گزینوں کی مہمان نوازی کرنا ان کی دیکھ بھال کرنا افغانستان کو مثبت پیغام دینے کے لیے ضروری ہے۔

شاید یہ سچ ہو؟ لیکن ان کی مالی حالت اور ان کی جلد کا رنگ ان کی سلامتی کا ضامن نہیں ہے؟